?️
(سچ خبریں) بھارت میں ان دنوں کورونا وائرس نے ایسا طوفان مچا رکھا ہے کہ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دے رہی ہیں اور ایک قیامت جیسا ماحول پیدا ہوچکا ہے۔
کورونا کی تیسری اور شدید ترین لہر نے بھارت میں تباہی برپا کر دی ہے، دہلی جیسے عالمی شہر میں کورونا کے مریض آکسیجن نہ ملنے کی بنا پر گاڑیوں کے اندر اور سڑکوں کے کناروں پر تڑپ تڑپ کرجان دے رہے ہیں، شمشان گھاٹ اور قبرستان تنگ پڑ گئے ہیں، شمشان گھاٹوں میں لاشوں کو جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑگئی ہیں، آخری رسوم اور کریا کرم کے لیے لواحقین کو گھنٹوں انتظا رکرنا پڑ رہا ہے۔
دہلی کے ایک اسپتال میں آکسیجن نہ ملنے کے باعث پچیس افراد دم توڑ گئے ہیں ان مناظر نے دنیا کو جھنجوڑ ڈالا ہے، بھارت کے ہمسایہ ملکوں میں بھی خوف کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے حکومت سے پوچھا ہے کہ حکومت نے کورونا وبا سے بچنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی ہیں جو مئی کے وسط تک شدید تر ہو سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والوں کو پھانسی دی جائے۔ عدالت کے اس بیان سے حالات کی سنگینی کا انداز ہ ہورہا ہے۔
اس سے یہ بھی پتا چل رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں وبا میں تیزی آئے گی اور اس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی بڑھ جائے گا۔ بھارت میں کورونا کی تیسری لہر اس قدر شدید ہے کہ صحت کا سار ا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
اسپتالوں میں جگہ تنگ پڑ چکی ہے۔ شہری اپنے مریضوں کو سڑکوں کے کنارے رکھ کر آکسیجن پہنچانے کی تگ ودو کر رہے ہیں۔ عام آدمی حیرت اور دکھ کے ساتھ پوچھ رہا ہے کہ وہ چمکتا دمکتا بھارت کہاں ہے جس کی تصویر دودہائیوں سے عوام کو دکھائی جا رہی ہے۔
بھارت کے طول وعرض میں کورونا کی کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان نے بھی بھارت کو موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی پیشکش کی مگر بھارت نے اس کے جواب میں گہری خاموشی اختیار کر لی، ظاہر ہے کہ موجودہ حالات میں بھارتی حکومت پاکستان سے امداد وصول کرکے اپنے لیے سیاسی مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتی۔
بھارت میں کورونا کی پہلی اور دوسری لہروں کے تھوڑے ہی وقفے کے بعد پاکستان میں پہلی اور دوسری لہریں شروع ہوئی تھیں اس لیے بھارت میں تیسری اور شدید ترین لہر شروع ہونے کے بعد پاکستان کا خوف زدہ ہونا فطری ہے۔
حکومت اور ادارے مسلسل اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر عوام نے کورونا کی شدت اور تباہ کاری کا اندازہ کرکے احتیاط نہ برتی تو یہاں بھارت سے بدتر صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر کورونا متاثرین پندرہ فی صد تک پہنچے تو صحت کا سرکاری نظام درہم برہم ہو سکتا ہے۔
حفظ ِ ماتقدم کے طور پر فوج کو پہلے الرٹ کر دیا گیا تھا اوراب کئی مقامات پر فوج نے فلیگ مارچ کے ذریعے لاک ڈاون کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ ملک میں کورونا کی کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور آکسیجن، ماسک اور بیڈز کی کمی کا بحران ابھی سے سر اُٹھانے لگا ہے۔ کئی اسپتالوں میں یہ بحران پیدا ہوچکا ہے اور کئی ایک میں آکسیجن ٹینٹ کی تھوڑی تعداد باقی بچی ہے۔
خدانخواستہ تھوڑا سا توازن بگڑ گیا تو ہمارے شہر بھی دہلی اور امرتسر جیسے مناظر سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ اس صورت حال کو ٹالنے کے لیے حکومت اور عوام کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ عوام نے کورونا کی تیسری لہر کو سنجیدہ نہیں لیا۔ اس لاپروائی اور عدم احتیاط کا نتیجہ یہ ہے کہ ابھی تک کورونا کی تیسری لہر پاکستان کے لیے بھی خطرناک ترین ثابت ہو رہی ہے۔
حکومت نے مزدور پیشہ اور دہاڑی دار طبقے کو مشکلات کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے مکمل لاک ڈائون سے گریز کیا مگر عوام نے اس چھوٹ سے سبق نہیں سیکھا۔ لاک ڈائون کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے سلوپوائزننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
برطانیہ جیسا ملک چار ماہ کے لاک ڈائون کے بعد آہستہ آہستہ کھل رہا ہے مگر سرمائے کی گردش رک جانے سے اس ملک کی معیشت بھی ہل کر رہ گئی ہے۔ یہ تو فلاحی ریاستوں اور مضبوط معیشتوں کا حال ہے۔
پاکستان جیسی لڑکھڑاتی اور اُدھار پر چلتی معیشت اس طرح کے دھچکوں کی متحمل نہیں ہو سکتی مگر حالات کا جبر حکومت کو مکمل لاک ڈائون کا تلخ فیصلہ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
گزشتہ برس کے لاک ڈائون کے مضر اثرات سے پاکستان نے اپنی معیشت کو کسی حد تک بچالیا تھا مگر مسلسل یہ عمل ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان حالات میں حکومت کو ہر آپشن کو زیر غور رکھنا چاہیے اور عوام کو بھی حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مکمل لاک ڈائون جیسے فیصلوں کو ٹالنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
عوام نے دنیا بھر میں کہیں بھی اس وبا کے مقابلے کے لیے احتیاط اختیار نہیں کی، بھارت میں وبا کو غیر سنجیدہ انداز سے لینے اور میلے ٹھیلوں کو جاری رکھنے کا نتیجہ آج کے حالات کی صورت میں ظاہر ہے۔
یہ پاکستان کے عام شہریوں کے لیے ایک سبق بھی ہے اور عبرت کا سامان بھی ہے، بھارت کے موجودہ حالات اور مناظر سے وقتی طور پر خوف کی جھرجھری تو بدن میں محسوس ہوتی ہے مگر اس سے سبق سیکھ کر احتیاط کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ بھارت میں بلند ہونے والی کورونا سونامی کی لہریں پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں اور اس خطرے کو نظرانداز کرنا کج فہمی کے سوا کچھ اور نہیں۔


مشہور خبریں۔
میر واعظ محمد فاروق کی برسی پر مقبوضہ کشمیر میں کل مکمل ہڑتال کا اعلان کردیا گیا
?️ 20 مئی 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام ممتاز شہید حریت رہنماؤں
مئی
پی ٹی آئی نے کیا کیا اور ن لیگ کیا کر رہی ہے؟ عمر ایوب کی زبانی
?️ 30 جولائی 2024سچ خبریں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے رہنما
جولائی
ترکی کا 9 سال بعد مصر میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ
?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںترکی نے قاہرہ میں نئے سفیر کا انتخاب کرتے ہوئے نو
اپریل
نصف روسی افواج جارحانہ پوزیشن میں ہیں: سی این این کا دعوی
?️ 20 فروری 2022سچ خبریں:سی این این نے واشنگٹن کے ایک دفاعی عہدہ دار کے
فروری
غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات
?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز نے آج ایک باخبر اہلکار کے حوالے
نومبر
ایران، روس ا، چین ، قفقاز اور وسطی ایشیا میں مشترکہ تعاون کے شعبے
?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں: امریکہ اور یورپ کی جانب سے جارحانہ حرکات میں شدت نے
نومبر
کم ترین وقت میں سیلاب متاثرین کےنقصان کا ازالہ کیا جارہا ہے۔ مریم اورنگزیب
?️ 22 اکتوبر 2025مظفرگڑھ (سچ خبریں) سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ
اکتوبر
زہران ممدانی نیویارک کے میئر انتخابات میں کیسے جیتا ؟ 5 اہم وجوہات
?️ 5 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی کانگریس سے منسلک ویب سائٹ دی ہل نے گزارش کیا
نومبر