جی20 کانفرانس مقبوضہ خطہ میں،بہت سے ممالک کا شرکت سے انکار

ممالک

?️

سچ خبریں:ہندوستان نے جی۔20 ممالک کے حتمی اجلاس سے قبل ذیلی اجلاس مقبوضہ کشمیر میں منعقد کرنے فیصلہ کیا ہے جسے لے کر متعدد ممالک نے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے جن میں پاکستان، چین،ترکی اور سعودی عرب شامل ہیں۔

بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق سیاحت پر جی-20 ممالک کے ورکنگ گروپ کا اجلاس آج سے منعقد ہو رہا ہے تاہم چین سمیت اہم اراکین بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اجلاس کے انعقاد کی وجہ سے اس میں شرکت سے گریزاں ہیں،خیال رہے کہ سری نگر 22 سے 24 مئی تک جی20 ممبران کے ٹورزم ورکنگ گروپ میٹنگ کی میزبانی کرے گا جو ستمبر میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والے جی20 سربراہی اجلاس سے قبل اجلاسوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو نے ایک رپورٹ میں کہا گیا مسلم بلاک کے اہم ممالک ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے اب تک اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ شاید وہ بھی اجلاس میں شرکت نہ کریں۔

بھارت کے وزیر سیاحت اروند سنگھ نے دہلی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ جی-20 ممالک میں سے چین، ترکیہ اور سعودی عرب نے اجلاس میں شریک ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ نہوں نے مزید کہا کہ ان کے علاوہ دیگر ممالک جن کو مدعو کیا گیا ان میں مصر نے اب تک اپنا اندراج نہیں کرایا،بعد ازاں چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وینگ ویبن نے کہا تھا کہ ’چین سختی سے جی20 کا کسی قسم کا اجلاس متنازع خطے میں منعقد کرنے کی مخالفت اور ایسے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا،خیال رہے کہ چین، سعودی عرب اور ترکیہ جی-20 ممالک کی تنظیم کے اراکین ہیں جبکہ مصر کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی تھی،متعدد بھارتی صحافیوں نے بھی بھارتی حکومت کے اس منصوبے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

دنیا کی بڑی معیشتوں پر مشتمل گروپ جی 20 کا اجلاس ہر سال ہوتا ہے اور ہر سال اس کی میزبانی اور سربراہی علیحدہ ملک کرتا ہے،رواں برس جی 20 کی صدارت بھارت کے حصے میں آئی تھی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیر پر قبضے اور 5 اگست 2019 کے اقدام کو عالمی سطح پر قابل قبول بنانے کے لیے جی 20 اجلاس کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جی-20 اجلاس بلانےکی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے،اس کے علاوہ اقلیتی مسائل پر اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر فرنینڈ ڈی ورینس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 22 تا 24 مئی کو مقبوضہ کشمیر میں جی 20 اجلاس کے انعقاد سے بھارتی حکومت اس صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جسے بعض حلقوں نے فوجی قبضے کے طور پر بیان کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا

?️ 29 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ

صیہونی فوجی حزب اللہ کے ڈرونوں سے خوفزدہ، پناہ گاہوں میں چھپ رہے ہیں:صیہونی اخبار

?️ 6 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ نے اعتراف کیا ہے کہ صیہونی فوجی

مہنگائی میں کمی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، سیاسی استحکام بھی لائیں گے، مریم اورنگزیب

?️ 2 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ

کویتی عوام کی یروشلم اور مسئلہ فلسطین کی حمایت

?️ 30 مارچ 2022سچ خبریں:کویتی یوتھ ایسوسی ایشن برائے القدس نے ایک تقریب کے دوران

صیہونیوں کے سوڈان کے ساتھ دوستی کے پس پردہ مقاصد

?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر کے داماد اور مشیر نے اپنی کتاب میں

’عمران خان کو صرف ڈیڑھ گھنٹے کیلئے پنجرے سے نکالا جاتا ہے‘، وکلا کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد گفتگو

?️ 24 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکام کے بعد پی

یمن ایران کے ساتھ ہے : یمن کے سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ

?️ 16 جون 2025سچ خبریں: یمن کے سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ

جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہماری فوج میں 6 گنا اضافہ ہوا:یوکرینی صدر

?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:یوکرین کے صدر نے اعلان کیا کہ روس کے ساتھ جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے