پسنی میں امریکی بندرگاہ علاقائی سلامتی کے لیے چیلنج؛ پاکستانی سینئر سیاستدان کی وارننگ

پسنی میں امریکی بندرگاہ علاقائی سلامتی کے لیے چیلنج؛ پاکستانی سینئر سیاستدان کی وارننگ

?️

سچ خبریں:پاکستانی سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی میں مجوزہ امریکی بندرگاہ کے منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کو چین، ایران اور امریکہ کی خطرناک جیوپولیٹیکل رقابت میں جھونک سکتا ہے۔

پاکستان کے معروف سیاستدان اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید نے حکومت اور فوج کو خبردار کیا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی میں امریکہ کے ساتھ مجوزہ بندرگاہی تعاون علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خطے میں کشیدگی؛ نیویارک کے اجلاس سے السیسی کا تل ابیب کو فیصلہ کن پیغام تک

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بظاہر اقتصادی شراکت داری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کے پیچھے جیوپولیٹیکل مقاصد پوشیدہ ہیں، جو پاکستان کو عالمی طاقتوں کی نئی محاذ آرائی میں گھسیٹ سکتے ہیں۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پورا خطہ غیر یقینی اور تصادم کے دہانے پر ہے، امریکہ کی دوبارہ پسنی میں موجودگی ایک بڑی عالمی طاقتوں کی رقابت کو بھڑکا سکتی ہے جس کے نتائج پاکستان کے لیے خطرناک ہوں گے۔

روزنامہ فائنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے مشیروں نے واشنگٹن کو تجویز دی ہے کہ امریکہ بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں ایک اقتصادی بندرگاہی ٹرمینل تعمیر کرے جسے امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل سے مالامال مغربی صوبوں تک ریل نیٹ ورک کے ذریعے جوڑا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ منصوبے کے ابتدائی مسودے میں امریکی فوجی استعمال کو خارج قرار دیا گیا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق، ایسے منصوبے وقت کے ساتھ سیکیورٹی رنگ اختیار کر لیتے ہیں، یہ تجویز جنرل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد سامنے آئی جہاں پاکستانی وفد نے امریکی کمپنیوں کو
زراعت، توانائی، کان کنی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی ایران کے چاہ بہار بندرگاہ اور چین کے گوادر پورٹ کے درمیان واقع ہے جو اسے جیوپولیٹیکل اعتبار سے نہایت حساس مقام بناتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام پر امریکی سرمایہ کاری درحقیقت چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے خلاف اسٹریٹجک بیلنس قائم کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی اس علاقے میں موجودگی جنوبی ایشیا اور بحیرۂ عرب میں نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے،امریکہ کی موجودگی گوادر اور چاہ بہار کے درمیان چین اور ایران کے منصوبوں کے لیے دباؤ کا آلہ بن سکتی ہے اور پاکستان خود ایک طاقتوں کی کشمکش کا میدان بننے کا خطرہ مول لے۔

ماہرینِ علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنے روایتی اتحادی چین کے خدشات سے دوچار ہوگا بلکہ ایران اور روس کے ساتھ تعلقات میں بھی نئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں:خطہ میں امریکی موجودگی کی وجہ،سینٹکام کمانڈر کی زبانی

سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کو ایسے حساس جغرافیائی حالات میں غیر جانب دار توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ پسنی ایک نیا عالمی محاذ بن سکتا ہے جہاں اقتصادی تعاون کے پردے میں طاقتوں کی جنگ چھپائے نہیں چھپے گی۔

مشہور خبریں۔

چیئرمین پی ٹی آئی میڈیا انٹرویوز میں جعلی خبروں کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں، وزیراعظم

?️ 5 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم پر

ایران کے جوہری پروگرام میں ہتھیاروں کے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں : سی آئی اے کے سربراہ کا اعتراف

?️ 7 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ نے

سی پیک فیز 2 میں زرعی صنعت، نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ وزیراعظم

?️ 1 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ

عالمی فنکاروں کو فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے، علی ظفر

?️ 24 نومبر 2023سچ خبریں: مقبول گلوکار و اداکار علی ظفر نے متحدہ عرب امارات

قابض آبادکار آگ سے نہ کھیلیں:فلسطینی مزاحمتی تحریک

?️ 13 اپریل 2022سچ خبریں:فلسطینی مزاحمت کاروں نے قابض آباد کاروں کو خبردار کیا ہے

غزہ جنگ سے اسرائیلی معیشت کو پہنچنے والا نقصان

?️ 18 جون 2024سچ خبریں: کیلکالسٹ اخبار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں اسرائیل

ٹرمپ چین کے مقابلے میں اتحاد بنانے جارہے ہیں

?️ 12 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی جریدے ‘پولیٹیکو’ نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی

پہلگام واقعہ پربھارت مشترکہ تحقیقات چاہتا ہے تو ہم غیرجانبدارانہ انکوائری کیلئے تیار ہیں،رانا ثناء الل

?️ 2 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے