?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 8 رکنی آئینی بینچ نے کی، جس میں آئینی بینچ اور فل کورٹ پر سخت سوالات کیے گئے۔
اہم کیس کی سماعت کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی جب کہ جبکہ بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔
سماعت کے آغاز پر مختلف بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل عابد زبیری نے اپنے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے پہلے تعینات ججز پر مشتمل فل کورٹ اس کیس کی سماعت کرے۔ بینچ کی تشکیل کسی فریق کا حق نہیں، تاہم اس معاملے کی نوعیت آئینی ہے، اس لیے اسے فل کورٹ کے سامنے سنا جانا چاہیے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا کسی فریق کو خاص بینچ کی ڈیمانڈ کا حق حاصل ہے؟ اگر ہم آپ کی استدعا مان لیں تو کیا ججز بھی مرضی کے ہوں گے؟۔ اس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ وہ مخصوص ججز کی نہیں بلکہ فل کورٹ کی استدعا کر رہے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ جس ترمیم کے تحت آئینی بینچ قائم ہے، اگر اسی پر اعتراض ہے تو پھر فیصلہ کون کرے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی معاملات آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، اس لیے فل کورٹ کی تشکیل کا اختیار آئین میں واضح طور پر درج نہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ آپ کی درخواست کیا ہے؟” جس پر وکیل نے کہا کہ 26ویں ترمیم سے پہلے تعینات ججز پر مشتمل فل کورٹ کیس سنے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ کا کہنا مان لیا جائے تو پھر موجودہ ججز کو باہر کرنا ہوگا، تو کیس سنے گا کون؟۔
جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے تمام دلائل پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ترمیم سے پہلے کے ہیں۔ اب آئین کے تحت بینچز کی تقسیم واضح ہے اور چیف جسٹس بھی آئینی بینچ میں ججز شامل نہیں کرسکتے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ چیف جسٹس 26ویں آئینی ترمیم کے تحت بنے ہیں، اگر یہ ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس بنتے؟۔ اب اگر ہم خود بینیفیشری ہیں تو کیا ہم کیس سن سکتے ہیں؟۔ اس پر وکیل نے کہا کہ وہ کسی جج کو متعصب نہیں کہہ رہے، بلکہ چاہتے ہیں کہ آئین کے مطابق فل کورٹ تشکیل پائے۔
عدالت میں دورانِ سماعت فل کورٹ، آئینی بینچ کے دائرہ اختیار، چیف جسٹس کے اختیارات اور آرٹیکل 191 اے کی تشریح پر تفصیلی بحث جاری رہی۔
وکیل عابد زبیری نے مؤقف اختیار کیا کہ فل کورٹ کی تشکیل سے تمام ججز کی اجتماعی رائے سامنے آئے گی، جس سے آئین کی وضاحت مضبوط ہوگی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ 17 ججز پر مشتمل فل کورٹ کیوں چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ میں تو اس وقت 24 ججز موجود ہیں۔
بحث کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ فل کورٹ کا لفظ آئین میں موجود نہیں اور اب چیف جسٹس کو بینچ بنانے کا اختیار نہیں رہا۔ آئینی معاملات صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔
تفصیلی دلائل کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔


مشہور خبریں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس میں جیل بسوں کا قیام
?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس میں جیل بسوں کو تعینات کرکے نیویارک
مئی
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں بھی سیاست بازی
?️ 23 جون 2021سچ خبریں:ایران کا کہنا ہے کہ اس ملک کے خلاف اقوام متحدہ
جون
خانہ جنگی کے بارے میں اسرائیل کی تشویش
?️ 5 اپریل 2025سچ خبریں: گزشتہ چند ماہ کے دوران صیہونی حکام اور حلقوں نے
اپریل
میرین لی پین کی روس کے خلاف فرانسیسی حکومت کی پابندیوں پر تنقید
?️ 19 ستمبر 2022سچ خبریں: فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی پارٹی
ستمبر
امریکہ ہمارے پڑوس میں ایک دہشت گرد ریاست بنانا چاہتا ہے:ترکی
?️ 23 اپریل 2023سچ خبریں:ترکی کے وزیر داخلہ نے امریکہ پر اس ملک کے پڑوس
اپریل
جعلی فلم کے ساتھ قابضین کا نیا اسکینڈل
?️ 2 جون 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت نے گزشتہ ہفتے غزہ کی پٹی کے جنوب
جون
میڈلین جہاز پر اسرائیلی حکام کے درمیان کشیدگی
?️ 9 جون 2025سچ خبریں: یدعیوت اخارونوت کی رپورٹ کے مطابق، میڈلین جہاز جو غزہ پٹی
جون
New Gucci Campaign Takes Pre-Fall 2019 Collection to Ancient Sicilian Ruins
?️ 12 اگست 2022 When we get out of the glass bottle of our ego