?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز نے کیا تھا۔
اسلام آباد میں پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ اس وقت پاکستان کا اہم مسئلہ ہے، اگر اس کا صحیح معنوں میں حل نہیں نکالا تو اس کے اثرات بڑھ سکتے ہیں اور ایسے حالات معاشی صورتحال بالکل برداشت نہیں کرسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے چند دنوں بعد جنرل پرویز مشرف نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو بلایا اور کہا کہ ہم امریکا کو صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کریں گے، وہ لوگ جنہوں نے امریکا پر حملہ کیا تو ہماری ذمہ داری ہے اگر وہ لوگ پاکستان میں ہیں تو ہمیں ان کو امریکا کے حوالے کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ کی وجہ سے ہم پوری طرح اس جنگ میں شامل ہوگئے اور جب پاکستان کی فوج کو وزیرستان بھیجا جارہا تھا تو میں نے ہر فورم پر کہا تھا کہ فوج وہاں نہیں بھیجنی چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے 1948 میں قبائلی علاقوں سے پاکستان کی فوج واپس بلالی تھی اور کہا تھا کہ قبائلی علاقے کے لوگ ہماری فوج ہے اور ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے وہاں اپنی فوج رکھنے کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے روس کے خلاف مجاہدین کو تربیت دی اور امریکا کے حق میں جب ہم نے 180 ڈگری پر یوٹرن لیا تو نہ وہ مجاہدین جن کو ہم نے تربیت دی تھی نہ ان گروپس نے ہماری بات مانی اور انہوں نے سمجھا کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ جہاد ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ خاص طور پر قبائلی علاقوں میں لوگوں میں بھی اس چیز پر بڑی مزاحمت تھی اور پھر جب ہم نے اپنی فوج بھیجی، تورا بورا کے بعد القاعدہ کے کئی لوگ بھی وہاں آگئے تو ان میں سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بن گئی، یہ اس کے ردعمل میں بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر اس گروپ نے پاکستان کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو کہا پاکستان شراکت دار ہے اور امریکا کی مدد کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف خودکش حملوں کے لیے ان کے پاس یہ بیانیہ آگیا کہ پاکستان بھی امریکا کی مدد کر رہا ہے اور ہم پاکستان کے خلاف خودکش حملے کر رہے ہیں تو یہ جہاد ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگست 2019 میں جب امریکا نے افغانستان چھوڑا تو پاکستان کے پاس سنہرا موقع تھا کیونکہ اشرف غنی کی حکومت بھارت نواز تھی اور وہاں سے 3 مختلف دہشت گرد گروپ پاکستان کے خلاف سرگرم تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا افغانستان میں مداخلت نہیں کرنی ہے، افغانستان کے لوگ اپنے فیصلے خود کریں اور کوشش کی کہ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت کے درمیان کوئی سیاسی حل نکل آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت پہلی حکومت تھی جو پاکستان کی حامی تھی اور ہمارے ان کے ساتھ تعلقات تھے کیونکہ امریکا اور اشرف غنی کی حکومت سے مذاکرات کے لیے پاکستان نے ثالثی کی تھی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جب طالبان نے ٹی ٹی پی سے کہا پاکستان واپس چلے جاؤ تو یہ موقع تھا کہ ہم ایک حل نکالتے کیونکہ ہمیں تصفیہ کرنے کے لیے افغانستان کے اندر پاکستان کی حامی حکومت ضروری تھی کیونکہ وہ ان پر دباؤ ڈالتے اور انہوں نے دباؤ بھی ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے 30 سے 45 ہزار لوگ واپس آرہے ہیں، جن میں سے 5 سے 7 ہزار جنگجو ہیں اور ان کو ہم نے دوبارہ آباد کرنا تھا اور خیبرپختونخوا میں مالاکنڈ کے ہمارے رہنماؤں نے کہا تھا کہ ان کی وہاں دشمنیاں ہوگئی ہیں اور جب واپس آئیں گے تو مشکل ہوگی، یہ سب پتا تھا لیکن کیا کرتے، اتنے لوگ افغانستان میں نہیں رکھے جارہے تھے تو ان کو واپس آنا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ یہی وقت وہاں ان پر توجہ دینے کا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، انہوں نے نہ تو معیشت پر توجہ دی، ساری دنیا میں بھیک مانگتے پھر رہے ہیں، سیلاب کے نام پر پیسے مانگ رہے ہیں کیونکہ معاشی طور پر پاکستان کے آج وہ حالات ہیں جو تاریخ میں نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی اور سب سے زیادہ خطرہ خیبرپختونخوا میں ہے، پولیس کے پاس مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے، کراچی میں اس وقت بھی رینجرز ہے حالانکہ وہاں کے حالات بالکل مختلف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چند ایک وزرا کو افغانستان اور ضم اضلاع کی صورت حال کی سمجھ نہیں ہے اور غیرذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں، اگر افغانستان کی حکومت نے تعاون کرنا بند کردیا تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ اگر دہشت گردی کی جنگ شروع ہوئی تو پھر یہ چلتی جائے گی اور نہیں رکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ باڑ کئی جگہ سے توڑنا شروع ہوگئی ہے، افغانستان کی حکومت کے ساتھ بات کیوں نہیں کی، وزیر خارجہ دنیا بھر کے چکر لگارہا ہے لیکن سب سے اہم تو اس کو افغانستان جانا چاہیے تھا۔
عمران خان نے کہا کہ افغانستان کی حکومت ہمارے ساتھ تعاون کر رہی تھی لیکن اگر اس وقت ان کے ساتھ تعلقات خراب کردیے تو یہ جو اپنی نئی دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر رہے ہیں یہ عذاب بن جائے گی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات ہم نے اکیلے نہیں کیے بلکہ سارے اسٹیک ہولڈرز نے مل بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا تھا اور ان سب کے سامنے پریزینٹیشن دی گئی تھی کہ ان کو کیسے دوبارہ آباد کرنا ہے اور کیوں پہلے ان سے بات چیت کرنی ہے۔


مشہور خبریں۔
فرخ حبیب کی اپوزیشن پر تنقید
?️ 4 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے
جولائی
ایران جنگ میں اسرائیل ایئرلائنز کو 10 ملین ڈالر کا نقصان ہوا
?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: ایران کے خلاف تل ابیب کی 12 روزہ مسلط کردہ
اگست
ٹرمپ فاؤنڈیشن کا سعودی عرب کے ساتھ 1.6 بلین ڈالر کا معاہدہ
?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:ٹرمپ فاؤنڈیشن (سابق امریکی صدر کی فیملی کمپنی) نے سعودی کمپنی
نومبر
اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس: مختلف وزارتوں کیلئے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس منظور
?️ 27 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی )
جون
کیا ترکی عراق میں شام کے منظر نامے کو دہرانا چاہتا ہے؟
?️ 6 جنوری 2025سچ خبریں: عراق کوآرڈینیشن فریم ورک اتحاد کے رہنما عقیل الردینی نے
جنوری
زیلینسکی بدعنوانی کا شکار
?️ 21 اگست 2023سچ خبریں:یوکرین کی فوج کے جنرلوں میں سے ایک سرگئی کریونوس نے
اگست
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، سانحہ گل پلازہ پر متفقہ قرارداد سمیت متعدد بلز منظور
?️ 23 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سانحہ گل پلازہ پر
جنوری
ملک میں امن قائم کرنے میں تمام اداروں نے اہم کردار ادا کیا:وزیراعظم
?️ 6 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں اعلیٰ سطح
اگست