?️
کوئٹہ: (سچ خبریں) رخشان اور مکران ڈویژن کے مختلف سرحدی ٹاؤنز میں سرحدی تجارت پر پابندیوں اور پاکستان۔ایران سرحد کے ساتھ سرحدی پوائنٹس کی بندش کے خلاف احتجاجاً شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
ڈان اخبار کی خبر کے مطابق اس بندش سے پاکستان میں ایرانی پیٹرولیم مصنوعات اور سامان کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر بےامنی پھیلی اور ہزاروں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔
رخشان اور مکران سرحدی تجارتی اتحاد نے سرحدی تجارت میں تین روزہ ہفتہ وار تعطل اور تیل کی نقل و حمل پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کے لیے واشک، پنجگور، نوکنڈی اور دیگر سرحدی علاقوں میں مکمل شٹر ڈاؤن کی کال دی تھی۔
ہڑتال کے دوران ان سرحدی ٹاؤنز میں بازار، ہوٹل، بینک اور دیگر کاروبار بند رہے، جس سے تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
اتحاد کے عہدیداران کے مطابق ان علاقوں کے مکین اپنی روزی روٹی کے لیے مکمل طور پر سرحدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ زراعت اور صنعت کے مواقع محدود ہیں۔ تجارتی مقامات کی بندش سے ہزاروں خاندان روزگار سے محروم ہوگئے ہیں جو اپنی آمدنی کے لیے ایرانی تیل اور دیگر سرحدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔
نوکنڈی میں، پاکستان-ایران سرحد کی بندش سے ضروری سامان کی نقل و حمل میں خلل پڑا ہے، جس سے تاجروں اور رہائشیوں دونوں پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔ ٹریڈ یونین رہنماؤں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حفاظتی چوکیوں نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جس سے تاخیر اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔
پنجگور میں تجارتی رہنماؤں نے سرحدی پابندیوں کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ کئی نسلوں سے روزی روٹی اور مقامی معیشت اس سرحد پار تجارت پر منحصر ہے۔
سابق چیئرمین سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے رکن محمد صادق سنجرانی نے سرحد پر تجارتی پوائنٹس کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سرحدی تجارت کے لیے ایک جدید ریگولیٹری نظام متعارف کرائے، نہ کہ مکمل بندش کا راستہ اپنائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ معاشی حالات کے پیش نظر معاش پر پابندی نوجوانوں کو ریاست مخالف عناصر کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
انہوں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحدوں کے قریب رہنے والے لوگوں کی آمدنی کے بنیادی ذریعے کے طور پر سرحدی تجارت کی اہم اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تجارتی راستوں کی بندش نے غربت اور مایوسی کو مزید اضافہ کیا ہے، خاص طور پر بلوچستان میں جہاں کی کمزور معیشت اضافی بے روزگاری اور مشکلات کو برداشت نہیں کر سکتی۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت سرحدی تجارت سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، سرحدیں دوبارہ کھولے اور بلوچستان کے معاشی استحکام کو ترجیح دے۔ انہوں نے اس بندش کو معاشی ’سزائے موت‘ قرار دیا اور حکام پر زور دیا کہ وہ ہزاروں لوگوں کے ذریعہ معاش کو دبانے کے بجائے پائیدار ترقی کی حمایت کریں۔


مشہور خبریں۔
امریکی خوراک کا امدادی بجٹ ختم ہو گیا کیونکہ حکومتی شٹ ڈاؤن جاری ہے
?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی محکمہ زراعت نے اعلان کیا کہ وہ نومبر میں
اکتوبر
سی پیک منصوبے کا دوسرا مرحلہ، پاکستان کی چینی ورکرز کی سیکیورٹی کی یقین دہانی
?️ 23 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے 5 خصوصی صنعتی زونز کے آغاز
مارچ
First-ever auction of AI-created artwork set for Christie’s gavel
?️ 14 جولائی 2021 When we get out of the glass bottle of our ego
ایشیائی ترقیاتی بینک کی ریکوڈک منصوبے کیلئے 41 کروڑ ڈالر کے مالیاتی پیکیج کی منظوری
?️ 22 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان
اگست
فواد چوہدری نے کس غلطی کو تسلیم کر لیا
?️ 29 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد
ستمبر
صہیونی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے قانون کی منظوری دی
?️ 2 مارچ 2023سچ خبریں:صہیونی پارلیمنٹ نے پہلی ریڈنگ میں صیہونیت مخالف کارروائیوں میں مصروف
مارچ
کل جماعتی حریت کانفرنس کی اقوام متحدہ سے تنازعہ کشمیر حل کرانے کے لئے مداخلت کی اپیل
?️ 24 ستمبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل
ستمبر
ٹرمپ کے دور میں روس اور امریکہ کے تعلقات کیسے ہوں گے؟
?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں:روس اور امریکہ کے تعلقات میں یوکرین اور نیٹو دو اہم
نومبر