موجودہ صورتحال میں بلاول اور جے شنکر کی ملاقات کا انداز نارمل تھا، امریکی اسکالر

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) اگرچہ بھارت اور پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے موقع پر دو طرفہ مذاکرات نہیں کیے، لیکن کثیر الجہتی اجلاس کے موقع پر ان کی لڑائی نے جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان نے گووا میں دوطرفہ مذاکرات کی نہ تو درخواست کی اور نہ ہی بھارت نے پیشکش کی، حالانکہ مبصرین نے نشاندہی کہ یہ کثیرالجہتی مذاکرات ’مستقبل میں دونوں حریفوں کے درمیان بات چیت کی بنیاد بن سکتے ہیں‘، جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے ایک رپورٹ میں اس کی نشاندہی کی۔

بھارت نے پاکستانی وفد سے سختی سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھا، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو یاد دلایا کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ ’ہم ایک ہی کشتی پر سوار ہیں‘۔

تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ حملے میں مبینہ طور پر پاکستان کے ملوث ہونے اور پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں ان کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کرنے میں ابھی بھی مسائل ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے بھارت کے دعوے کا جواب دیتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ انضمام کو کالعدم قرار دے اور تنازع کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرے۔

بلاول بھٹو زرداری نے بعد میں اسلام آباد میں اپنے چینی ہم منصب چن گانگ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سی پیک کے بارے میں کہا کہ اس منصوبے نے سماجی و اقتصادی ترقی کو تیز کیا ہے۔

اس سے قبل گووا میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بھارتی ہم منصب کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کا مسئلہ ’سفارتی پوائنٹ اسکورنگ‘ کے لیے نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔

کشمیر، دہشت گردی اور سی پیک کے بارے میں ان پے در پے تبصروں نے بالکل وہی کیا جس سے بھارت بچنا چاہتا تھا یعنی کثیر الجہتی اجلاس میں پاکستان کے ساتھ اپنے مسائل اٹھانا۔

بظاہر یہی وجہ ہے کہ ولسن سینٹر، واشنگٹن کے جنوبی ایشیائی امور کے ایک امریکی اسکالر مائیکل کوگلمین نے ایک ٹوئٹ میں نشاندہی کہ جب کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے پاکستان کے وزیر خارجہ کے دورہ بھارت پر کافی تنقید کی جا رہی ہے، ’ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے وہ پورا کر دیا جو اسلام آباد نے چاہا تھا‘۔

ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں میں شرکت اور ان کا انعقاد کس طرح ایک کامیابی ہے؟، ’ایسی ملاقاتوں میں یہ معمول ہے، اصل مسئلہ بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ ممکنہ ملاقات کا تھا جو نہیں ہوئی‘۔

مشہور خبریں۔

امریکی عدالتوں میں سرکاری شٹ ڈاؤن جاری رہنے کے ساتھ ہی برطرفی شروع ہو گئی

?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن جاری رہنے اور عدالتوں کے

اختلافات خطرہ نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ہیں۔ وزیراعظم

?️ 28 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے چیلنجز؛ اقوام متحدہ کی رپورٹ

?️ 20 دسمبر 2025سچ خبریں:اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں طالبان کی حکمرانی

پیٹرول مہنگا کرنے کے بجائے الیکشن میں چلے جائیں لیکن عمران خان کے کہنے پر الیکشن نہیں کراسکتے۔وزیر داخلہ

?️ 8 جون 2022اسلا م آباد(سچ خبریں)وزیر داخلہ نے عمران خان کو انتخابات پر بات چیت کی پیشکش کردی۔

اسمبلیوں کی تحلیل پر عمران خان الیکشن کرا کے کیا کرے گا

?️ 7 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا

صہیونی اب بھی "سنوار” سے خوفزدہ ہیں

?️ 28 جولائی 2025سچ خبریں: اخبار میں صیہونی تجزیہ نگار نے اس بات کی طرف

اسلام آباد انتظامیہ کی پی ٹی آئی کو ریلی نکالنے کی اجازت، این او سی جاری

?️ 20 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)  اسلام آباد انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

کرم میں جھڑپوں میں مزید 7 افراد جاں بحق، اموات کی تعداد 97 ہوگئی

?️ 30 نومبر 2024 کرم ایجنسی: (سچ خبریں) کرم ایجنسی میں فریقین کے درمیان جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے