?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کو برقرار رکھنے کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے تناظر میں وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے 15 ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ترمیم شدہ قومی احتساب آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اپیل آئندہ ہفتے کے شروع میں فائل کیے جانے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت جس تنازع کو اجاگر کرنا چاہتی ہے، اس کی حمایت میں اضافی دستاویزات پیش کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ سے اجازت بھی طلب کی جا سکتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ 11 اکتوبر کو جاری کردہ مختصر حکم نامے کے مطابق نیب آرڈیننس میں ترامیم کے فیصلے سمیت سپریم کورٹ کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دیے گئے تمام فیصلے قابل اپیل ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس کے مطابق وفاقی حکومت 15 ستمبر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔
اپیل اس لیے ضروری ہے کہ فل کورٹ کے 11 اکتوبر کو پریکٹس اور پروسیجر کیس میں دئے گئے فیصلے نے 5 کے مقابلے میں 10 کی اکثریت سے قانون کو آئینی طور پر برقرار رکھا اور اس کے خلاف تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
تاہم، مختصر حکم نامے میں 6 کے مقابلے میں 9 کی اکثریت سے یہ بھی وضاحت کی گئی کہ ممکنہ طور پر اپیل کا حق دینے سے متعلق ایکٹ کا سیکشن 5(1) آئین کے مطابق تھا۔
نیب ترامیم مسترد کیے جانے کا فیصلہ 15 ستمبر کو کیا گیا، جبکہ 21 اپریل کو سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 پارلیمنٹ ایکٹ بن گیا، اس طرح اپیلیں دائر کرنے کی گنجائش ہے۔
اس کے علاوہ، سابق پی ڈی ایم حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ2023 کے سیکشن 3 کے تحت آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت تمام مقدمات کی سماعت سینئر ترین ججوں پر مشتمل کمیٹی کی جانب سے تشکیل دیا گیا بینچ کرے گا۔
وکیل نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی تھی کہ آئینی دفعات کی تشریح سے متعلق مقدمات کی سماعت ایکٹ کے سیکشن 4 کے مطابق کم از کم پانچ ججوں پر مشتمل بینچ کرے گا۔
اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نیب ترامیم کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔
نیب ترمیمی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس سید منصور علی شاہ نے 18 اگست کو ایک نوٹ میں سیکشن 3 اور 4 کی آئینی حیثیت کو کسی اور بینچ کی جانب سے برقرار رکھنے کی صورت میں نیب کیس کالعدم ہونے کے امکان کو اجاگر بھی کیا تھا۔
اس کے بعد وکیل مخدوم علی خان نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ پر حتمی فیصلہ آنے تک کیس کی سماعت ملتوی کی جائے یا پھر نیب ترمیمی کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا آئین کے مطابق قانون سازی کے عمل کو نظرانداز کرنے کی ایک کوشش ہے۔
اگر اس طرح کی کوشش کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں تمام سیاسی جماعتیں جن کے پاس پارلیمنٹ میں قانون منظور کرانے یا اس کی مخالفت کے لیے اکثریت نہیں ہے، آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو براہ راست استعمال کرکے قانون سازی کے عمل کو نقصان پہنچائیں گی۔
تاہم عدالت نے اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔


مشہور خبریں۔
جاپان میں مزدور کمی کا حل، غیر ملکی ماہر کارکنان کی بھرتی
?️ 23 دسمبر 2025جاپان میں مزدور کمی کا حل، غیر ملکی ماہر کارکنان کی بھرتی
دسمبر
حمیرا کو قتل کیا گیا ہوگا، والدین کا پہلا انٹرویو، متعدد حقائق سے پردہ اٹھادیا.
?️ 16 جولائی 2025لاہور: (سچ خبریں) گزشتہ ہفتے کراچی کے فلیٹ میں مردہ پائی گئی
جولائی
صیہونی حکومت کی غزہ میں بنیادی تبدیلیوں کی سازش بے نقاب
?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی میڈیا نے صیہونی حکومت کی غزہ میں بنیادی تبدیلیوں کی
نومبر
دیرینہ تنازعہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتاہے ، میر واعظ عمر فاروق
?️ 29 نومبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
نومبر
سوڈان کے دارالحکومت میں لگاتار کئی خوفناک دھماکے
?️ 6 جون 2023سچ خبریں:سوڈان میں مسلح تصادم کے جاری رہنے کے ساتھ ہی آج
جون
امریکا کی سمت اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی بداعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے
?️ 20 ستمبر 2025امریکا کی سمت اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی بداعتمادی میں نمایاں
ستمبر
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد شہر ہرات میں لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے اسکول پہونچ گئیں
?️ 18 اگست 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد شہر ہرات
اگست
بانی پی ٹی آئی کا کھانا باہر سے آتا ہے اوران کے پاس ٹی وی بھی ہے۔ خواجہ آصف
?️ 26 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ
نومبر