ججز ٹرانسفر کیس؛ ہائیکورٹ ججوں کی نئی متفرق درخواست دائر، آئینی عدالت میں سماعت چیلنج کردی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ججز ٹرانسفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی جانب سے نئی درخواست دائر کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے 27ویں ترمیم اور اُس کے نتیجے میں بننے والی وفاقی آئینی عدالت کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے تین ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر اور سینیارٹی تبدیلی کے خلاف اپنی انٹراکورٹ اپیل وفاقی آئینی عدالت سے واپس سپریم کورٹ کو بھیجنے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی۔

متفرق درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس سپریم کورٹ نے سنا اور فیصلہ کیا، ستائیسویں ترمیم کے تحت انٹرا کورٹ اپیل آئینی عدالت کو منتقل ہوئی، ترمیم میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کیا گیا جو ممکن نہیں، سپریم کورٹ کو پہلے آئینی ترمیم کا جائزہ لینے دیا جائے، ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس سپریم کورٹ کو واپس منتقل کیا جائے۔

قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار ججز کا 27ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تاہم عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی درخواست وصول کرنے سے انکار کردیا گیا تھا، اس سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے درخواست ارسال کی، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری 27ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والے ججز میں شامل نہیں تھے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں لکھا کہ ’پارلیمنٹ کے پاس آئین کے 1973ء کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، یہ اختیار ذاتی مفاد میں اقدامات کرنے والے عوامی نمائندوں کے پاس نہیں بلکہ صرف عوام کے اپنے پاس آئین بنانے کے حقیقی اختیار کے طور پر ہے‘، تاہم رجسٹرار آفس سپریم کورٹ کے سٹاف نے درخواست وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ’ 27ویں ترمیم کے خلاف پٹیشنز وفاقی آئینی عدالت سُن سکتی ہے، اب آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں ہوسکتی کیوں کہ 27ویں ترمیم کے بعد آئینی معاملات کا دائرہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوچکا ہے‘۔

مشہور خبریں۔

امریکی صدارتی انتخابات کی گہما گہمی

?️ 30 اکتوبر 2024سچ خبریں:2024 کے صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی 51 ملین

کیا صیہونی حکومت حزب اللہ کو شکست دے سکتی ہے؟ صیہونی جرنلوں کی زبانی

?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: سابق صیہونی جنرلوں نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب

بلیک میلنگ اور پابندیاں دنیا کے ساتھ امریکہ کے تعامل کا آلہ ہیں:روس

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ماسکو کا واشنگٹن کے

کیا روس نے امریکہ اور جمہوریت کی توہین کی ہے؟امریکی عہدیداروں کی زبانی

?️ 27 اپریل 2024سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی ایوان نمائندگان

ہانیہ عامر کا ایوارڈ شو میں غزہ سے اظہارِ یکجہتی

?️ 13 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان کے معروف ترین ’ہم اسٹائل ایوارڈز‘ کی تقریب

ہمیں امریکہ اور یورپ کی مکمل حمایت حاصل ہے:صیہونی حکومت

?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:القدس بٹالینز کی میزائل یونٹ کمانڈر کی شہادت کے ردعمل میں

یمنیوں کو روکا نہیں جا سکتا؛ جنگ کا خاتمہ ہی اصل حل ہے: عبرانی میڈیا

?️ 25 ستمبر 2025سچ خبریں: صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے

غزہ میں جنگ بندی ممکن، مگر اعتماد بہت دور

?️ 9 اکتوبر 2025غزہ میں جنگ بندی ممکن، مگر اعتماد بہت دور دو سالہ جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے