اسلام آباد ہائی کورٹ ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی کیس کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی کیس کے سپریم کورٹ آئینی بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر دی ہیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی ائینی بینچ نے ججز ٹرانسفر کو ائینی و قانونی قرار دیا تھا۔

درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور طے شدہ عدالتی اصولوں کے خلاف ہے، ججز کی سنیارٹی طے کرنے کا مسلمہ طریقہ کار موجود ہے، صدر مملکت کو سینیارٹی طے کرنے کی ہدایت کرنے کی آئین میں گنجائش نہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی بینچ کی جانب سے 19 جون 2025 کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیا جائے اور اپیلوں پر فیصلے تک پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اقدامات معطل کیے جائیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے گزشتہ ماہ 19 جون کو 3 ججز کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ آئینی و قانونی قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججز کی جانب سے دائر کردہ درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

عدالت نے 3، 2 کے تناسب سے جاری کردہ مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ ججز کا تبادلہ غیر آئینی نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ کے جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس صلاح الدین پنہورنے اکثریتی فیصلے میں کہا تھا کہ صدر پاکستان کو آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ کے جج کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ اختیار آرٹیکل 175 کے تحت ججوں کی تقرری سے بالکل الگ ہے اور دونوں ایک دوسرے کو کالعدم نہیں کرتے، منتقلی کو تقرری سمجھنا آئین کی روح کے منافی ہے۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ تمام عہدے صرف جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ذریعے ہی پر کیے جانے چاہئیں، تو یہ مفروضہ آئین کے معماروں کے ارادے کے خلاف ہو گا، منتقلی ایک الگ آئینی شق کے تحت کی جاتی ہے، جو جوڈیشل کمیشن سے آزاد ہے۔

عدالت نے صدر پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ فوری طور پر نوٹی فکیشن کے ذریعے یہ واضح کریں کہ آیا ججز کی منتقلی مستقل ہے یا عارضی، اور ان کی سینیارٹی کا تعین ججز کے سروس ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے۔

بعدازاں صدر مملکت نے 29 جون 2025 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا سینئر ترین جج ڈکلیئر کر دیا تھا جبکہ جسٹس سرفراز ڈوگر اور دیگر 2 ججز کا تبادلہ بھی مستقل قرار دے دیا تھا۔

بعدازاں یکم جولائی کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس جنید غفار کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، جسٹس عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، جسٹس روزی خان کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی تھی۔

7 جولائی کو وزارت قانون نے صدر مملکت کی منظوری کے بعد چاروں ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کی تعیناتی کے نوٹیفیکیشن جاری کیے تھے جبکہ 8 جولائی کو چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا تھا۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل ایک درخت کی مانند ہے جو اندر سے بوسیدہ ہے

?️ 16 اکتوبر 2024سچ خبریں: صہیونی مصنف اور تجزیہ کار روجیل ایلور کے لکھے گئے

یوکرین کو 1.35 بلین امریکی ڈالر کی مالی امداد

?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں: یوکرین کے وزیر اعظم ڈینس شمیگل نے انکشاف کیا کہ

لاہور اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں لاک ڈاون نافذ کر دیا گیا

?️ 9 اگست 2021لاہور(سچ خبریں ) پنجاب حکومت کی جانب سے 3 اگست کے لاک

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی، دوران حراست ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا

?️ 30 جون 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت

صہیونی حکومت کی لوگوں کو روکنے کے لیے مالی لالچ

?️ 28 اکتوبر 2025سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد صیہونی حکومت کو واپس ہجرت کے

والد کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، یہ واضح تشدد کے طریقے ہیں، عمران خان کے بیٹوں کا الزام

?️ 20 دسمبر 2025 لندن: (سچ خبریں) پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم

بھارت میں کورونا وائرس قابو سے باہر، ایک دن میں لاکھوں کیسز سامنے آنے کے بعد اسٹاک مارکیٹ شدید متاثر

?️ 6 اپریل 2021نئی دہلی (سچ خبریں) بھارت میں کورونا وائرس قابو سے باہر ہوچکا

ہم غزہ کی حمایت جاری رکھیں گے: انصاراللہ

?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں:یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی بیوروعلی القحوم نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے