آئی ایم ایف نے نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ٹیرف نظام کو سادہ بنانے کی اصلاحات کے سلسلے کو جاری رکھا جائے نیشنل ٹیرف کمیشن کا بیرونی مشیروں پر انحصار کم کرنا ضروری ہے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹیرف کمیشن پر لابنگ گروپوں کے اثرورسوخ کو محدود کیا جانا چاہیے، اس کے لیے نیشنل ٹیرف کمیشن کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے.

آئی ایم ایف نے کہا کہ ادارے کی ساکھ مضبوط بنائی جائے اور بیرونی اثر و رسوخ کو کم کیا جائے، رینٹ اسکینگ کے رجحانات کو کم کیا جائے اور شفافیت میں اضافہ کیا جائے، کسٹم کے نفاذ کا کمزور نظام ٹیرف اصلاحات کے اثرات کو کمزور کر رہا ہے آئی ایم ایف کے مطابق کسٹم میں خامیاں دور کی جائیں، سیکشن 18 اے ففتھ شیڈول ختم کیا جائے، کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 19 کے تحت چھوٹ کے استعمال کو محدود کیا جائے، ٹیرف اسٹرکچر یقینی بنانے کے لیے صوابدیدی ٹیکس چھوٹ کو کم کیا جائے.

یاد رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹ میں پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات کی نشاندہی کرتے ہوئے 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا آئی ایم ایف نے کہا کہ اصلاحات سے پاکستان کی معیشت 5 سے 6.5 فیصد تک بہتر ہوسکتی ہے. رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھانے اور حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے آئی ایم ایف نے انسدادِ بدعنوانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے، گورننس بہتر بنانے سے نمایاں معاشی فائدے حاصل ہوں گے رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹیکس سسٹم پیچیدہ، کمزور انتظام اور نگرانی بدعنوانی کا باعث ہے، عدالتی نظام کی پیچیدگی اور تاخیر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے.

آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کی جانب سے سالانہ رپورٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام سرکاری خریداری 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر لانے کی ہدایت کی ہے ایس آئی ایف سی کے اختیارات، استثنیٰ اور شفافیت پر آئی ایم ایف نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں کمی بدعنوانی کے خطرات کی علامت ہے، بجٹ اور اخراجات میں بڑے فرق سے حکومتی مالیاتی شفافیت پر سوالات ہیں، حکومتی اور بیورو کریسی کے زیر اثر اضلاع کو زیادہ ترقیاتی فنڈ ملے.

رپورٹ میں کہا گیا تھاکہ جنوری 23 تا دسمبر 24 نیب کی 5.3 ٹریلین روپے کی ریکوری معشیت کو پہنچے نقصان کا کم حصہ ہے، پی ٹی آئی حکومت کی 2019 میں چینی برآمد کی اجازت ظاہر کرتی ہے اشرافیہ اپنے مفاد کے لیے پالیسوں پر قابض ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانیوں کو سروسز کے حصولی کی خاطر مسلسل ادائیگیاں کرنا پڑتی ہے، سیاسی اور معاشی اشرافیہ سرکاری پالیسوں پر قبضہ کر کے معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں کرپشن کی نذر ہونے والی رقم سے پاکستان میں پیداوار اور ترقی میں اضافہ ہو سکتا ہے رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن پالیسوں میں تسلسل کی کمی اور غیرجانبداری سے اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے، بجٹ سازی اور مالی اطلاعات کے نظام کی کمزوریوں سے کرپشن کے خطرات بڑھتے ہیں، سرکاری محکموں میں وسائل کے انتظام اور سرکاری خریداری کے نظام کی خامیوں سے بدعنوانیوں بڑھتی ہیں.

عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے سرکاری کمپنیوں کے نقصانات ہوتے ہیں، کرپشن کی وجہ سے ٹیکس نظام میں پیچیدگیاں ہیں، ٹیکس اہلکار اور کسٹم اہلکار اپنی صلاحیتوں سے کم کام کرتے ہیں، پاکستان میں ضرورت سے زیادہ ریگولیشن اور رکاوٹیں ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق تمام معاشی شعبوں کی ترقی کی رفتار ریگولیشن کی وجہ سے جکڑی ہوئی ہے، ہر معاملہ مشاورت سے حل ہو جانے کے بجائے عدالت میں چلا جاتا ہے، عدالت میں بےتحاشہ کیس کی وجہ معاملات نمٹتے نہیں ہیں، پاکستان میں انسداد کرپشن کے تمام کوششیں اب تک مکمل کارگر ثابت نہیں ہوئیں.

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اہم فیصلے لینے میں افسران کتراتے ہیں، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کامیابی سے حاصل کیے، پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کے اہداف میں سزاﺅں پر عمل درآمد سست رہا، منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کے خلاف سزاﺅں کے فیصلے کم ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے بیشتر کوششیں مکمل کامیاب نہیں ہوئیں، کرپشن کے خاتمے کے لیے کئی اداروں میں بھرپور صلاحیت نہیں ہے، سرکاری اداروں میں بہت سے کام عارضی اور ایڈہاک بنیادوں پر کیے جاتے ہیں، کئی وزارتوں میں موجود افسران متعلقہ وزارت کے امور کی مہارت نہیں رکھتے ٹیکس نظام میں پچیدگیاں حکومتی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں، ٹیکس افسران کی کارکردگی کا احتساب ہونا ضروری ہے، پاکستان کا عدالتی شعبہ تنظیمی طور پر پیچیدہ ہے. 

مشہور خبریں۔

جہاد اسلامی فلسطین کی صیہونیوں کو خطرناک دھمکی

?️ 14 مئی 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کی غزہ کے خلاف زمینی کاروائی کی دھمکی کے

روس کی پابندیاں خود مغربی ممالک کو متاثر کریں گی: پیوٹن

?️ 26 مئی 2022سچ خبریں:  روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے آج جمعرات کو پابندیوں

ماڈورو کا اغوا ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی: یوراگوئی پارلیمنٹ

?️ 8 جنوری 2026 سچ خبریں: یوراگوئے کی پارلیمنٹ کے نمائندے نے امریکہ کی جانب

سلام ہو فلسطینی نوجوانوں پر

?️ 29 اپریل 2021سچ خبریں:لبنانی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اپنی ایک تقریر کی

ناسا نے سب سے  خطرناک سیارے کے زمین سے نہ ٹکرانے کی نویدسنا دی

?️ 29 مارچ 2021نیویارک(سچ خبریں) خلائی ادارے کی جانب سے سنہ 2004 میں اپوفس کو

شام اور عراق سے تکفیریوں کی یوکرین منتقلی

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:   تکفیری دہشت گردوں کو شام اور عراق سے یوکرین منتقلی

یمن نے امریکی اور صیہونی جہازوں پر 153 بار حملہ کیا

?️ 21 جون 2024سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک بدر الدین

کوئٹہ دھماکا:وزیر اعظم نے  واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی

?️ 22 اپریل 2021کوئٹہ (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کے واقعے کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے