?️
سچ خبریں:امریکہ کے ایران پر ایٹمی تنصیبات پر حملے کی مذمت دنیا کے بیشتر ممالک نے کی، مگر برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا اور اٹلی نہ صرف خاموش رہے بلکہ ایران سے مذاکرات میں واپسی کا مطالبہ کرتے رہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر جارحانہ حملے کے بعد دنیا بھر سے مذمتی بیانات سامنے آئے، لیکن کچھ ممالک ایسے بھی تھے جنہوں نے یا تو خاموشی اختیار کی یا الٹا ایران کو مذاکرات کی میز پر واپسی کا مشورہ دیا۔
ان تین یورپی ممالک نے حملے کی براہِ راست مذمت نہیں کی، بلکہ اسے موقع بنا کر ایران سے مذاکرات میں واپسی کا مطالبہ کیا۔
برطانیہ
برطانیہ کے وزیراعظم کر استارمر نے کہا کہ ایران کو ہرگز ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امریکہ نے خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ہم ایران سے چاہتے ہیں کہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
فرانس
فرانس کی وزارت خارجہ نے صرف تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ کشیدگی نہ بڑھے۔”
لیکن امریکہ یا اسرائیل کے حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
جرمنی
جرمن چانسلر فریڈرک مرتس نے کہا کہ ایران فوری طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ سفارتی حل ممکن ہو سکے۔
یورپی یونین
یورپی یونین کے سربراہ برائے امورِ خارجہ کایا کالاس، ، نے بھی صرف کمیِ کشیدگی اور مذاکرات کی واپسی پر زور دیا، بغیر کسی مذمت کے۔
دیگر مغربی اتحادی ممالک
آسٹریلیا
آسٹریلوی حکومت نے ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیا اور امریکی صدر کے "اب وقت ہے امن کا” بیان کی حمایت کی۔
اٹلی
اٹلی کے وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حملے کے بعد تناؤ کم ہوگا اور ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ہم نے مذاکرات ترک نہیں کیے کہ اب واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق، مغربی بیانیہ حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کا رویہ بین الاقوامی اصولوں اور این پی ٹی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ:
مزید پڑھیں:اسرائیلی حملے کی مذمت کرنے والے ممالک
اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، مگر NPT کا رکن نہیں۔
اس کے باوجود اسرائیل کے خلاف کبھی کوئی مذمت یا پابندی عائد نہیں کی گئی۔
برعکس اس کے، ایران کو جس نے NPT پر دستخط کر رکھے ہیں، مسلسل دباؤ اور حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اختیارات کے ناجائز استعمال کا جرم کسی دوسرے قانون میں نہیں، جسٹس اعجازالاحسن
?️ 19 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی نیب
اکتوبر
عراق پر حملوں کا انتظام ریاض سے کیا جاتا ہے: الحشد الشعبی
?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں: عراق میں الحشد الشعبی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل آف انفارمیشن موہناد
جنوری
پاکستانی خلاباز پہلی بار خلا میں جانے کو تیار
?️ 26 ستمبر 2023سچ خبریں: دبئی میں مقیم پاکستانی ایڈونچرر نمیرہ سلیم اپنے خوابوں کو
ستمبر
جرمنی میں سیاسی پناہ گزینوں کے خلاف تشدد میں شدت
?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے ایک رپورٹ میں اس ملک
اگست
وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان
?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم
نومبر
اسرائیل سلامتی کونسل کی قراردادوں کا پابند رہے:چین
?️ 22 دسمبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ میں چین کے سفیر اور مستقل نمائندے ژانگ جون
دسمبر
سندھ میں افطار کے بعد مارکیٹیں بند رکھنے کا فیصلہ
?️ 13 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں)محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ بھر میں افطار کے بعد مارکیٹیں
اپریل
الحیاہ: ہم نے جنگ کو روکنے کی پوری کوشش کی۔ ہم ایران کے شکر گزار ہیں
?️ 10 اکتوبر 2025سچ خبریں: حماس کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے صیہونی حکومت کے
اکتوبر