لیبیا کے اعلیٰ فوجی حکام کے طیارہ حادثہ کی وجوہات

لیبیا

?️

سچ خبریں:الجزیرہ نیوز چینل کا کہنا ہے کہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب لیبیا فوج کے اعلیٰ افسران کو لے جانے والے طیارہ کے حادثے کی تحقیقات جاری ہیں ۔

الجزیرہ نیوز چینل نے اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب لیبیا فوج کے اعلیٰ افسران کو لے جانے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، جس میں لیبیا فوج کے چیف آف اسٹاف محمد الحداد اور ان کے ہمراہ افسران شامل تھے، ماہرین اور تجزیہ کار اس حادثے کے مختلف اسباب پر غور کر رہے ہیں، جن میں طیارے میں فنی خرابی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ترکی، اردن، عراق اور لیبیا میں فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے بڑے پیمانے پر مظاہرے

ترکی کے مشیر اور مشرق وسطی کے امور کے ماہر جاہد توز نے اس حوالے سے بتایا کہ سرکاری اطلاعات کے مطابق، طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے سے اُڑنے کے 35 منٹ بعد ایمرجنسی لینڈنگ کی درخواست کر رہا تھا، جس کے بعد اس کا رابطہ منقطع ہوگیا اور طیارہ انقرہ کے قریب ہیامانا علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قریبی ہوائی اڈے اس طیارے کو لینڈنگ کے لئے تیار تھے، لیکن بدقسمتی سے ایمرجنسی لینڈنگ کا موقع نہیں مل سکا۔ اس کا امکان ہے کہ طیارے کے الیکٹرانک سسٹمز میں کسی قسم کی خرابی ہوئی، جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا، اور اس پر تحقیقات جاری ہیں۔

ترکی کے سابق صدر کے مشیر النور شفیق نے کہا کہ لیبیا کے لئے یہ سانحہ غمگین ہے، کیونکہ اس کا تعلق ترکی کے ساتھ قریبی جغرافیائی تعلقات کی بنا پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ نے فنی خرابی کے بارے میں آگاہ کیا اور واپس انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترنے کی درخواست کی لیکن اس کے بعد طیارہ رڈار کی نظروں سے غائب ہوگیا اور پھر ایک بڑا دھماکہ سنائی دیا جو ممکنہ طور پر طیارے میں موجود ایندھن کے جلنے کی وجہ سے تھا۔

ترک حکام نے اس حادثے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور طیارے کی باقیات کو انقرہ کے قریب دریافت کر لیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ انقرہ نے لیبیا حکام کو اطلاع دے دی ہے کہ طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور طیارے کے ملبے کو ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

لیبیا کی قومی حکومت کے وزیراعظم نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے اعلیٰ فوجی حکام کی تصدیق کی، جن میں لیبیا بّرہ افواج کے سربراہ جنرل الفتوری غریبیل اور لیبیا کی ملٹری انڈسٹریز کے سربراہ بریگیڈیئر محمد القطیوی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:ترکی کا لیبیا کی سلامتی ، استحکام اور خودمختاری کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

لیبیا فوج کے چیف آف اسٹاف محمد علی الحداد نے حال ہی میں ترکی کے وزیر دفاع یاشار گولر اور ترک ہم منصب جنرل سیلجوق بایراکتاروغلو سے ملاقات کی تھی، ان اطلاعات کے مطابق، الحداد کی ترکی آمد کا مقصد ترکی کے ساتھ بحری معاہدے پر مذاکرات کرنا تھا۔

مشہور خبریں۔

عید سے قبل خوشخبری: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 14 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان

?️ 13 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی

امریکی ڈاکٹروں کی نظر میں فلسطینی بچوں کے خلاف صیہونی جرائم

?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ میں رضاکارانہ خدمات انجام دے کر واپس آنے والے

شامی مہاجرین کے ساتھ یونان کا غیرانسانی سلوک

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:شام کی انسانی حقوق کمیٹی نے کہا کہ یونانی حکام شامی

عطوان: غزہ کے حکمران اس کے محافظ ہیں/مزاحمت اسرائیل اور عربوں کے جال میں نہیں آئے گی

?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: ایک ممتاز فلسطینی تجزیہ نگار نے یہ بیان کرتے ہوئے

یوکرین جنگ اور ترکی کے فوجی حسابات میں غلطیاں

?️ 6 مئی 2022سچ خبریں:ترکی نہ صرف S400 کی خریداری بلکہ اس کے استعمال کے

ترکی کی حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی کی وجوہات

?️ 18 اپریل 2023سچ خبریں:ترکی کے 81 صوبوں میں ترکی کی سیاسی جماعتوں اور کرنٹوں

ایرانی میزائلوں کے سامنے آئرن ڈوم کی بے بسی پر پاکستانی مزاحیہ فنکار کا طنز

?️ 28 جون 2025 سچ خبریں:ایک پاکستانی میڈیا شخصیت نے طنزیہ انداز میں ایران کے

ابوشباب کا قتل؛ غزہ میں صیہونی جاسوسی کے منصوبوں کی بڑی ناکامی

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے کارندے اور دہشت گرد یاسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے