?️
2025 میں 42 فلسطینی صحافی گرفتار، اسرائیلی فوج کی منظم کارروائیاں بے نقاب
فلسطینی صحافیوں کی یونین نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی قابض افواج نے سال 2025 کے دوران کم از کم 42 فلسطینی صحافیوں کو گرفتار کیا، جن میں 8 خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں مغربی کنارے، القدس اور 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں عمل میں آئیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف ایک منظم اور منصوبہ بند پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس کا مقصد فلسطینی خبروں کی کوریج کو خاموش کرنا اور قومی میڈیا ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ اس پالیسی میں بلاجواز اور انتظامی گرفتاریاں، تشدد، جلاوطنی، میڈیا آلات کی ضبطی اور جبری تفتیش شامل ہے۔
فلسطینی صحافیوں کی یونین نے خبردار کیا کہ گرفتاریوں کے طریقہ کار میں ایک خطرناک تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جس میں بااثر صحافیوں کو خاص طور پر نشانہ بنانا، ایک ہی صحافی کو بار بار گرفتار کرنا، بغیر کسی الزام کے طویل انتظامی حراست اور جسمانی و نفسیاتی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شامل ہے۔
رپورٹ میں درجنوں ایسے واقعات درج کیے گئے ہیں جہاں صحافیوں کو فیلڈ میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے، خاص طور پر فوجی یلغار کی کوریج کے دوران گرفتار کیا گیا۔ یونین کے مطابق یہ اقدامات جان بوجھ کر کیے جا رہے ہیں تاکہ میدان کو عینی شاہدین سے خالی کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مار کر اہلِ خانہ کے سامنے گرفتاریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کا مقصد صحافیوں کو سماجی اور نفسیاتی طور پر توڑنا ہے۔
رپورٹ میں انتظامی حراست کو سب سے خطرناک ہتھکنڈہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں صحافی کو بغیر کسی وقت کی حد کے قید رکھا جاتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یونین نے یہ بھی بتایا کہ صحافیوں کو مارپیٹ، زمین پر گھسیٹنے، اسلحے سے دھمکانے اور ان کا پیشہ ورانہ سامان ضبط کرنے جیسے اقدامات کیے گئے تاکہ ان کی صحافتی صلاحیت کو مفلوج کیا جا سکے۔
رپورٹ کے اختتام پر فلسطینی صحافیوں کی یونین نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینی صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو جواب دہ بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے فلسطینی صحافی مسلسل حملوں، گرفتاریوں اور قتل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عالمی صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبات کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا مراکز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

مشہور خبریں۔
یمنی عوام کے خلاف ممنوعہ بمبوں کا استعمال
?️ 22 مارچ 2021سچ خبریں:باخبر ذرائع کے مطابق سعودی عرب صنعا میں رہائشی علاقوں پر
مارچ
اینکر پرسن کامران خان کے مطابق عمران خان کے ساتھ گیم ہو گیا۔
?️ 25 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں) سینئر صحافی ، تجزیہ کار اور اینکر پرسن کامران
اپریل
یو اے ای کی جیلوں میں ہونے والے تشدد کی کہانی؛ یورپی خاتون کی زبانی
?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:فن لینڈ کی انسانی حقوق کی محافظ ایک خاتوں نے اعلان
اکتوبر
یوکرائنی جنگ کا جال مغرب والوں نے پھیلایا ہے؛ صہیونی میڈیا کا اعتراف
?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں:اسرائیلی میڈیا کے مطابق یوکرائن میں جنگ کا جال مغرب نے
مارچ
کیا صدر اردگان ترکی کی سیاسی میدان سے رخصت ہونے والے ہیں؟
?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: صدر رجب طیب اردگان کے ترکیہ کے آئندہ انتخابات کے
مئی
غزہ جنگ میں بی بی سی نے ظالم کا ساتھ دیا یا مظلوم کا؟ بی بی سی نامہ نگاروں کی زبانی
?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: بی بی سی نیوز چینل کے متعدد صحافیوں نے ایک
نومبر
مصر اور اردن کے سربراہوں نے غزہ میں جنگ بندی پر زور دیا
?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں:اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی
دسمبر
نیتن یاہو اسرائیل کا اصل دشمن ہے: ایہود اولمرٹ
?️ 30 اکتوبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے خلاف شکست کا تلخ تجربہ رکھنے والے
اکتوبر