?️
سچ خبریں: امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے اقتصادی و سماجی اثرات نے امریکی شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے، اور عوام اس جنگ کے جاری رہنے سے ناخوش ہیں۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کو ایک ماہ گزرنے کے بعد مختلف سیاسی رجحانات رکھنے والے امریکی شہریوں سے کیے گئے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کی بڑی تشویش بن چکی ہیں، اور یہ خدشات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
پنسلوانیا کی ریاست میں واقع شہر دارلنگٹن کے ایک سینئر میونسپل ملازم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے دورانیے سے متعلق کیے گئے وعدے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق جنگ کے طویل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور اس کے خاتمے کا کوئی واضح حل نظر نہیں آ رہا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ فوجی کارروائی چند ہفتوں تک جاری رہے گی، مگر بعد میں مدت بڑھا دی گئی، اور اب یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی۔
اسی طرح مینیسوٹا کی ریاست کے دیہی علاقے فولی میں ایک آٹو مرمت کی دکان کے مالک نے جنگ کے تسلسل پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے کاروبار میں گزشتہ مہینوں کے دوران 60 فیصد تک کمی آ چکی ہے اور گاہک نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔
اس شہری کے مطابق، مہنگائی میں اضافے اور لوگوں کی آمد و رفت میں کمی کی وجہ سے بہت سے افراد گاڑیوں کی مرمت مؤخر کر رہے ہیں، جبکہ علاقے کے دیگر کاروبار بھی گاہکوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ شہری جس نے دو سال قبل ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، اب تسلیم کرتا ہے کہ صدر کے معاشی بہتری کے وعدوں کے برعکس اس کی زندگی کے اخراجات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ زیادہ تر امریکی شہریوں کا ماننا ہے کہ اس جنگ نے پیٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے امریکی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، اور ان کی رائے حالیہ سروے سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جس کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت جنگ کے معاشی اثرات سے نالاں ہے۔
ارنا کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی، جب کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان بعض علاقائی ممالک کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں خطے کی معیشت، سلامتی، استحکام اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازرانی متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کا براہ راست نتیجہ ہے، اور ایران نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
عراقچی کے مطابق، آبنائے ہرمز ان جہازوں کے لیے بند کر دی گئی ہے جو امریکہ، اسرائیل یا ان کے حامیوں سے وابستہ ہیں، جبکہ دیگر جہاز ایرانی حکام سے ہم آہنگی کے بعد محفوظ گزرگاہ حاصل کر سکتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
محاصرے کے باوجود مزاحمتی قوت کو مزید مضبوط کرتے رہیں گے:حماس
?️ 27 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل
مارچ
ٹیکسز کے بجاے عوام کو ریلیف دی جائے:وزیر اعظم
?️ 23 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اراکین کی جانب سے مہنگائی پر اظہار نظر کرنے
اپریل
غزہ نے بین الاقوامی نظام کے ساتھ کیا کیا ہے؟ترک وزیر خارجہ
?️ 9 جون 2024سچ خبریں: ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ نے بین
جون
این اے 256 ضمنی انتخاب، الیکشن کمیشن نے تاریخ کا اعلان کردیا
?️ 14 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے این اے 256 خضدار میں
فروری
ٹرمپ بائیڈن کے ایگزیکٹو آرڈرز پہلے ہی ہفتے میں منسوخ کر دیں گے
?️ 11 نومبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم کی ترجمان
نومبر
امریکہ عقل سے کام لے تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں:ایران
?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے اگر امریکہ حقیقت پسندی
جولائی
عمران خان کی وفاقی کابینہ کے قومی اثاثوں کو فروخت کرنے پر تنقید
?️ 24 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وفاقی کابینہ کی جانب سے ملک کو درپیش معاشی
جولائی
مارکو روبیو کی غزہ جنگ روکنے کا مضحکہ خیز تجویز
?️ 28 جولائی 2025مارکو روبیو کی غزہ جنگ روکنے کا مضحکہ خیز تجویز امریکی سینیٹر
جولائی