صہیونی حکومت نے الصمود کے بحری بیڑے کے 13 بحری جہازوں کو غیر قانونی طور پر قبضے میں لے لیا

الصمود بیڑا

?️

صہیونی حکومت نے الصمود کے بحری بیڑے کے 13 بحری جہازوں کو غیر قانونی طور پر قبضے میں لے لیا

اسرائیلی فوج نے ایک غیرقانونی کارروائی میں انسانی امداد لے جانے والے بحری بیڑے کی 13 کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر قبضے میں لے لیا۔ یہ بحری بیڑہ محصور عوامِ غزہ کے لیے امداد لے کر روانہ ہوا تھا۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، یہ واقعہ جمعرات 2 اکتوبر 2025  کی صبح پیش آیا جب صیہونی بحریہ نے ان کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قابو میں کر لیا۔ ضبط شدہ کشتیوں میں اوتاریا بھی شامل ہے۔
الصمود بیڑا کے ترجمان نے اس اقدام کو کھلی جارحیت اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیڑہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گا تاکہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے متبادل امدادی راستوں کی تجویز دراصل غزہ کے خلاف جرائم میں شراکت داری ہے۔
ان کے مطابق،اصل حل یہ ہے کہ محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے، نسل کشی بند کی جائے اور انسانی امداد کو آزادانہ طور پر غزہ میں داخل ہونے دیا جائے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ گرفتار کارکنوں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے اور ان کی یورپ واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، الجزیرہ کے مطابق اب بھی کم از کم 10 کشتیاں، جن میں شیرین ابو عاقلہ نامی جہاز بھی شامل ہے، غزہ کے ساحل سے تقریباً 40 میل کے فاصلے پر موجود ہیں۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق، صیہونی فورسز نے اس کارروائی کے دوران جنوبی افریقہ کے مرحوم رہنما نلسن منڈیلا کے نواسے ماندلا منڈیلا کو بھی گرفتار کر لیا جو بیڑے کے ساتھ امدادی مشن میں شریک تھے۔
اس غیرقانونی کارروائی کے خلاف مختلف عرب اور یورپی شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے اسرائیل کے اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے غزہ کے محاصرے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اسپین کے نائب وزیراعظم نے بھی ایک بیان جاری کر کے اسرائیل کے حملے کو "بین الاقوامی قانون کے خلاف جرم” قرار دیا۔
یہ بیڑہ ستمبر کے آغاز میں اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہوا تھا۔الصمود بیڑا میں 40 ممالک کے 500 سے زائد کارکن شامل ہیں اور یہ عالمی اتحاد "فریڈم فلوٹیلا کولیشن”، "گلوبل غزہ موومنٹ” اور "الصمود” کی مشترکہ کاوش ہے۔
گزشتہ ہفتے بیڑے نے اطلاع دی تھی کہ اس کی 9 کشتیوں کو اسرائیلی ڈرون حملوں اور دھماکوں میں نقصان پہنچایا گیا ہے۔
یہ تمام واقعات ایسے وقت میں پیش آ رہے ہیں جب مارچ 2025 (اسفند 1403) سے غزہ کے تمام راستے بند ہیں اور غذا و دواؤں کی ترسیل پر پابندی عائد ہے۔ وزارتِ صحت غزہ کے مطابق، اس محاصرے کے نتیجے میں درجنوں خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد بھوک اور بیماریوں سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کی عالمی تنہائی اور ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں کو بحال کرنے کی پریشانی

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن کی مسلسل یکطرفہ اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے

میڈیا پر ذہنی صحت جیسے مسائل کو اجاگر نہیں کیا جاتا، ثروت گیلانی

?️ 5 اپریل 2023کراچی: (سچ خبریں) ثروت گیلانی نے ذہنی صحت سے متعلق بات کرتے

ٹرمپ کی نئی تجارتی جنگ یا دباو کے ذریعے نئی حکمت عملی

?️ 14 ستمبر 2025ٹرمپ کی نئی تجارتی جنگ یا دباو کے ذریعے نئی حکمت عملی

پیمرا کا عمران خان سے متعلق لیٹر ایک سیاہ دور کا آغاز ہے

?️ 21 اگست 2022راولپنڈی: (سچ خبریں) وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ پیمرا کا عمران خان سے متعلق

’میرے پاس تم ہو‘ میں ہمایوں سعید کا کردار بولی وڈ کے خانز بھی نہیں نبھا سکتے تھے، خلیل الرحمٰن قمر

?️ 10 نومبر 2025لاہور: (سچ خبریں) معروف ڈراما نویس وہدایت کار خلیل الرحمٰن قمر نے

علاقائی سلامتی کیلئے ایران کے ساتھ قریبی تعاون انتہائی اہم ہے۔ فیلڈ مارشل

?️ 26 نومبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے

غزہ میں بھوک کے سب سے ہولناک اعداد و شمار

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: بین الاقوامی انتباہات کے بعد کہ غزہ میں انسانی المیہ

بارشوں کے حوالے سے محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی

?️ 11 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں) محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین روز تک ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے