ٹرمپ کا اعتراف، حماس نے تمام زندہ اور ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی آزاد کر دیے

ٹرمپ

?️

ٹرمپ کا اعتراف، حماس نے تمام زندہ اور ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی آزاد کر دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام زندہ اور ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کو فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے آزاد کر دیا ہے، جبکہ اس کے برعکس صہیونی حکومت اب بھی ایک اسرائیلی قیدی کی لاش غزہ میں باقی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

صہیونی ٹیلی ویژن چینل سیون کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے بدھ کی علی الصبح وائٹ ہاؤس میں حنوکا کی تقریب کے دوران یہ بات کہی، جس میں اسرائیلی قیدیوں کے بعض اہل خانہ بھی شریک تھے، جن میں امریکی نژاد اسرائیلی قیدی عیدن الیگزینڈر بھی شامل تھے جو حال ہی میں غزہ سے رہا ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ حماس نے 20 زندہ اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ ساتھ 28 ہلاک شدہ قیدیوں کی لاشیں بھی حوالے کر دی ہیں۔

اس سے قبل فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے عسکری ونگ، القدس بریگیڈز کے ترجمان ابو حمزہ نے بھی گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ غزہ جنگ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بھی حوالے کر دی گئی ہے اور اس طرح اسرائیلی قیدیوں کا معاملہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کے دوران بارہا واضح کیا گیا تھا کہ دشمن کے قیدی صرف مزاحمت کے فیصلے کے تحت واپس آئیں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تابوت میں لوٹیں یا بالکل واپس نہ آئیں۔

ابو حمزہ نے مزید کہا کہ القدس بریگیڈز اور دیگر مزاحمتی گروہوں نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام شقوں پر مکمل عمل کیا ہے اور بین الاقوامی ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ بھی اپنے وعدے پورے کرے اور بار بار کی جارحانہ کارروائیاں بند کرے۔

دوسری جانب صہیونی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور ایک اسرائیلی قیدی کی لاش اب بھی غزہ میں موجود ہے۔ اس سے پہلے بھی اسرائیل نے حماس کے ذریعے ریڈ کراس کے حوالے کی گئی ایک لاش کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ کسی بھی اسرائیلی قیدی کی نہیں ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تل ابیب قیدیوں کے معاملے پر متضاد دعوے کر کے اور ثالثوں پر دباؤ ڈال کر اپنی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کو چھپانے اور حماس کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ آخری لاش کی حوالگی جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی ایک بنیادی شرط تھی، جس میں غزہ میں حکمرانی کے انتظامات اور رفح کراسنگ کی دوطرفہ بحالی بھی شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دینا؛ امریکہ کی اسلام مخالف پالیسیوں کی علامت

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکی حکومت کا اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دینے کا

اسلامی جہاد: مزاحمت کا ہتھیار فلسطینی عوام کا ہے اور رہے گا

?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: اسلامی جہاد کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے فتح اور آزادی

واٹس ایپ کا نیا فیچر، اب صارفین پیغامات کا اپنی پسندیدہ زبان میں ترجمہ کرسکیں گے

?️ 25 ستمبر 2025 سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے

جیل بھرو تحریک: پہلے دور دراز جیلوں کو بھریں گے، وزیر داخلہ

?️ 27 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان

ابوظہبی میں دھماکہ اور آتشزدگی؛ امریکی سفارت خانے میں سکیورٹی الرٹ

?️ 11 فروری 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں زوردار دھماکے اور آتشزدگی سے

طالبان کی حکومت تسلیم کرنے سے متعلق پنجاب گورنر کا اہم مشورہ

?️ 16 اگست 2021لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے طالبان حکومت تسلیم

ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری

?️ 24 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے

زیلنسکی کا ٹرمپ کا غیر معمولی شکریہ

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، صدر یوکرین ولودیمیر زیلینسکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے