فلسطینی مزاحمتی خاندان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسرائیل اور ابو مازن کے درمیان مشترکہ منصوب

اسرائیل

?️

عباس نے شہداء اور قیدیوں کے لیے ملنے والے وظیفے کو تمکین فاؤنڈیشن میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، جو مبینہ طور پر سماجی بہبود کے منصوبوں اور ضرورت مند گروپوں کی مدد کے لیے کام کرتی ہے۔
یہ متنازع فیصلہ، جو صہیونی مفادات سے ہم آہنگ پایا جاتا ہے، محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ فلسطینی جدوجہد کی شناخت پر براہ راست حملہ ہے۔ اس اقدام کے تحت قیدیوں کی حیثیت مزاحمتی جنگجو سے تبدیل کرکے سماجی بہبود کے حصولیار (مددگار) کردار تک محدود کر دی گئی ہے، جو ان کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔
احتجاج کرنے والے مظاہرین نے رام اللہ میں جمع ہو کر واضح کیا کہ ہم بھکاری نہیں ہیں۔ ہمیں عزت چاہیے، ذلت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ان کی آمدنی کا ذریعہ ختم کر دے گا بلکہ اسیروں کی علامتی حیثیت کو بھی مجروح کرے گا۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی مزاحمت کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کو نظر انداز کیا گیا ہے اور انہیں صرف سماجی مدد کے حصولیار سمجھا جا رہا ہے۔ سابق قیدی محمد الصوالحی نے بتایا کہ وہ پہلی اور دوسری انتفاضہ میں زخمی ہوئے، ان کے دو بیٹے اسرائیلی جیلوں میں ہیں اور ایک کزن شہید ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں غیرقومی ادارے "تمکین” میں بھکاریوں کی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔
نبیلہ صافی، جو ایک شہید کی والدہ ہیں، نے اس فیصلے کو فلسطینی عوامی مزاحمت کی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم مجاہد سے مددگار بن جاتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے ہم بھکاری ہیں۔
علاء زیات، جو سابق قیدی ہیں، نے بتایا کہ تمکین فاؤنڈیشن کے عملے نے ان سے پوچھا کہ کیا تم گوشت کھاتے ہو؟ گھر میں بخاری ہے؟ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت کس قدر گرا دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر کی جنگ کے بعد۔ صہونی حلقے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی مزاحمت کو مجرم قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس وقت تقریباً 11 ہزار فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کا صرف 7 فیصد بجٹ ان قیدیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ سابق سربراہ باشگاه اسرا، قدورہ فارس، نے خبردار کیا کہ پرانے قوانین ختم کرنے سے مستحقین کی نشاندہی کا عمل کمزور ہو گیا ہے اور بالآخر ان خاندانوں سے تمام مراعات ختم ہو جائیں گی۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ صہیونیوں کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا ڈراؤنا خواب

?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: بیروت کے نواحی علاقوں پر صیہونی حکومت کے کل کے

ایران کے اقدامات کے بارے میں ایٹمی ایجنسی کا نیا دعویٰ

?️ 12 جون 2022سچ خبریں:انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(IAEA) نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے

یورپ کو اپنے سیاسی اور سیکورٹی تعلقات پر نظرثانی کرنا کیوں ضروری ہے؟

?️ 25 جنوری 2024سچ خبریں:برلن انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل پبلک پالیسی کے ڈی سی اور

اسرائیل اور امریکہ کے کمزور نکات سید حسن نصر اللہ کی زبانی

?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں:الاقصیٰ طوفان آپریشن کے آغاز کے بعد اپنی پہلی تقریر میں،

دشمن ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے:جہاد اسلامی

?️ 26 اگست 2022سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی موومنٹ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ

تحریک انصاف نے دوست ملک کے کہنے پر ہی 15 اکتوبر کا احتجاج ملتوی کی

?️ 18 اکتوبر 2024لاہور: (سچ خبریں) سلمان اکرم راجہ نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف نے

بھارتی وزیر خارجہ کے مسلح افواج کیخلاف بیانات انتہائی اشتعال انگیز اور گمراہ کن ہیں، دفتر خارجہ

?️ 7 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے اتوار کے روز بھارتی وزیرِ

شہیدجلیل اندرابی کے لواحقین 28سال بعد بھی انصاف سے محروم

?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) انسانی حقوق کے معروف کشمیری کارکن اورسینئر وکیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے