?️
غزہ میں پائیدار امن اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں
برطانوی ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطین میں پائیدار امن اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک اسرائیلی قبضہ ختم نہ ہو جائے اور فلسطینیوں کے اپنے وطن واپسی کے حق کو تسلیم نہ کیا جائے۔
جمعہ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں معروف فلسطینی تجزیہ نگار عزام تمیمی نے لکھا کہ اگرچہ حالیہ جنگ بندی کا اعلان ایک مثبت قدم ہے، لیکن حقیقی صلح اسی وقت ممکن ہوگی جب غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہو جائے۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کی صبح مصر سے یہ خبر سامنے آئی کہ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد غزہ میں جاری تباہ کن کارروائیوں کو ختم کرنا ہے۔
عزام تمیمی کے مطابق، حماس نے صرف اسی صورت میں جنگ بندی قبول کی جب اس میں فلسطینی عوام کے لیے حقیقی فوائد شامل ہوں۔مڈل ایسٹ آئی نے لکھا کہ اس معاہدے کا سب سے بڑا نتیجہ بنیامین نیتن یاہو کے اس منصوبے کی ناکامی ہے جس کا مقصد حماس کو ختم کرنا اور غزہ کو خالی کرانا تھا۔
دو سالہ تباہ کن جنگ نے اسرائیل کے حقیقی چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور صہیونیت کو اب پہلے سے زیادہ ایک نوآبادیاتی اور برتری پر مبنی نظریہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی قیادت، بشمول نیتن یاہو، اب بین الاقوامی عدالتوں میں جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے ایسے جرائم جو نہ تو بھلائے جائیں گے اور نہ ہی معاف کیے جائیں گے۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، صرف جنگ بندی فلسطینی عوام کے لیے امن نہیں لاتی۔ آزادی ہی فلسطینیوں کا حتمی مقصد ہے، اور جب تک قبضہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، پائیدار صلح ممکن نہیں۔
رپورٹ میں پوچھا گیا: "جب غزہ کے لوگ ایک کھلی جیل میں قید ہیں اور مغربی کنارے کے فلسطینی روزانہ صہیونی آبادکاروں کے تشدد کا شکار ہیں، تو ایسے میں صلح کا مطلب کیا ہے؟”
تحریر کے مطابق، حماس کے نزدیک پائیدار امن کی شرائط میں شامل ہیں,1967 کی سرحدوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا،تمام غیرقانونی بستیاں ختم کرنا،اور تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی۔
عزام تمیمی نے مزید لکھا کہ اگرچہ دو سالہ جنگ نے حماس کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن یہ تحریک ختم نہیں ہوئی کیونکہ مزاحمت کوئی تنظیم نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ ہے۔
تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق، تباہی اور مصائب کے باوجود حماس بدستور غزہ میں سب سے زیادہ عوامی حمایت رکھنے والی تحریک ہے۔انہوں نے لکھا کہ آج غزہ کے بیشتر باشندے اُن فلسطینیوں کی اولادیں ہیں جنہیں 1948 میں زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا,ان لوگوں نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ نہ ظلم، نہ بمباری، نہ ہی جلاوطنی انہیں اپنے حقِ واپسی اور آزادی کی جدوجہد سے باز رکھ سکتی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
کورونا کے بڑھتے کیسز پر وزیراعظم عمران خان کا اظہار تشویش
?️ 27 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں کورونا وائرس
اپریل
توہین عدالت کیس،عمران خان کی معافی کا فیصلہ ان کے وکلاء کریں گے
?️ 5 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری اور
ستمبر
مصر ایک ایسے تنازعے کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے وہ برسوں سے گریز کر رہا ہے: المیادین
?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: اماراتی اخبار ‘دی نیشنل’ کی ویب سائٹ نے مطلع ذرائع کے
ستمبر
ٹیکس افسران کو کاروباری احاطے میں تعینات کرنے کا فیصلہ، سروسز سیکٹر کی نگرانی کا اختیار
?️ 6 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) محدود ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے لیے
مئی
خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں حکومتی جماعت پر الزامات
?️ 17 دسمبر 2021پشاور (سچ خبریں) خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات، حکومتی جماعت پر پیسوں کی
دسمبر
امریکی سینٹروں کا نائن الیون حملوں میں سعودیوں کے کردار سے متعلق مزید دستاویزات جاری کرنے کا مطالبہ
?️ 6 اگست 2021سچ خبریں:امریکی سینیٹرز نے ایک بل پیش کرتے ہوئے نائن الیون حملوں
اگست
جنرل ندیم رضا ریٹائر، پاک فوج کی قیادت میں تبدیلی کا عمل شروع
?️ 26 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) جنرل ندیم رضا نے ملٹری سروس سے ریٹائرمنٹ کے
نومبر
ہانیہ عامر اور یشما گل کے لباس کی بات نہیں کی، حنا خواجہ بیات
?️ 6 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے دعویٰ کیا ہے
جنوری