?️
غزہ میں اسرائیل دانستہ طو رپر جنگ بندی کو سبوتاژ کرہا ہے: حماس
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے غاصب اسرائیلی حکام پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ممکنہ اشتعال انگیزی کی تمام تر ذمہ داری قابض دشمن پر عائد کی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے اپنے لہجے میں سختی لاتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کا ہدف حماس کی تباہی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے طریقے سے مداخلت کا موقع دیا گیا ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے صحافتی بیانات میں کہا کہ بزلئیل سموٹریچ کی دھمکیاں اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ غاصب اسرائیلی حکومت کسی بھی سیاسی مسار یا ان بین الاقوامی ملاقاتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی جن کا مقصد پرامن فضا قائم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ جنگ شروع کرنے کی باتیں دراصل اس نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں جو قابض دشمن گذشتہ دو سال سے جاری نسل کشی کی اس جنگ کے بعد آزما رہا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار فلسطینی شہید و زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی، مگر غاصب دشمن مزاحمت کو ختم کرنے یا فلسطینیوں کے عزم کو توڑنے کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے قابض اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 ممالک کی جانب سے ان نئی اسرائیلی اقدامات کی مشترکہ مذمت کا خیر مقدم کیا جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے پر غاصبانہ قبضے کو مزید سخت بنانا ہے۔
غزہ کی پٹی کے انتظامی معاملات چلانے والی کمیٹی کے حوالے سے حازم قاسم نے واضح کیا کہ حماس نے آغاز ہی سے اس کمیٹی کی تشکیل پر آمادگی ظاہر کی تھی اور وہ تمام فلسطینی دھڑوں کے اتفاق رائے، سول سوسائٹی کی شخصیات اور بین الاقوامی فریقوں کی نگرانی میں اقتدار اس کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے کمیٹی کے فعال نہ ہونے کی وجہ غاصب اسرائیل کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں اور ضامن ممالک کی طرف سے ضروری سیاسی و مالی مدد کی عدم فراہمی کو قرار دیا۔
فلسطینی وزیر خارجہ کے اس بیان پر کہ اتھارٹی غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہے، حازم قاسم نے کہا کہ اتھارٹی محض میڈیا بیانات تک محدود ہے اور عملی اقدامات سے گریزاں ہے۔ انہوں نے اتھارٹی پر الزام لگایا کہ اس نے ماضی میں متحدہ حکومت کی تشکیل یا عبوری مرحلے کے لیے مشترکہ طریقہ کار وضع کرنے کے مواقع ضائع کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ حتمی ہدف ایک متحد فلسطینی سیاسی نظام کا قیام ہونا چاہیے جو جمہوری بنیادوں پر استوار ہو۔
ایک اور تناظر میں حازم قاسم نے غاصب اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی کے بیانات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ایک رسوائی قرار دیا۔ خاص طور پر غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے جواز اور فلسطینی زمینوں پر غاصب اسرائیل کے نام نہاد حق سے متعلق ان کے دعووں کو مسترد کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ موقف عرب قومی سلامتی کے تصور پر حملہ ہے، اور انہوں نے اس اسرائیلی عربدہ گردی کو روکنے کے لیے ایک متحد اور سنجیدہ عرب موقف اپنانے کی اپیل کی، کیونکہ اس راستے پر چلنے سے پورے خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوں گے۔
حماس کے ترجمان نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ کوئی بھی دھمکی یا دباؤ تحریک کو قومی حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ثالثوں اور بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور دوبارہ تصادم کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسرائیلی وزارت جنگ میں اہم سیکورٹی بگ بے نقاب
?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزارت جنگ کے ڈیٹا بیس میں محفوظ تقریباً تین
دسمبر
اسرائیلی فوجیوں کی نفرت آمیز رویے پر امریکہ کا اسرائیل سے سوال
?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے جمعہ
ستمبر
عدالتی امور میں ’مداخلت‘ پر ہائی کورٹ کے ججوں کے خط پر تحقیقات کا مطالبہ
?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کی جانب
مارچ
سوریہ کے وسطی علاقے میں نامعلوم افراد کا حملہ، 9 افراد زخمی
?️ 5 فروری 2026سوریہ کے وسطی علاقے میں نامعلوم افراد کا حملہ، 9 افراد زخمی
فروری
یمنی اہلکار: امن کے دعوے قیدیوں کے معاملے میں تخریب کاری سے متصادم ہیں
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے مشیر نے جارح اتحاد
دسمبر
نیتن یاہو عالمی عدالت پر غصہ
?️ 12 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم نے ہیگ کی عدالت میں اس حکومت کے
جنوری
نیو یارک میں صہیونی قونصل خانے پر حملہ کس نے کیا؟
?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکی سیکیورٹی سروسز نے نیو یارک میں صہیونی ریاست کے قونصل
دسمبر
ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالا جائے، الیکشن کمیشن
?️ 5 مارچ 2021اسلام آباد{سچ خبریں} الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں وزیراعظم عمران خان اور وزرا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالا جائے، کسی کے دباؤ میں آئے ہیں نہ آئندہ آئیں گے۔
مارچ