سعودی عرب کی سرحد کے قریب اسرائیلی اڈا بنانے کی اماراتی کوشش 

امارات

?️

سعودی عرب کی سرحد کے قریب اسرائیلی اڈا بنانے کی اماراتی کوشش 

بعض عرب ذرائع نے متحدہ عرب امارات کے اس منصوبے کا انکشاف کیا ہے جس کے تحت سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ سرحد کے قریب ایک اسرائیلی فوجی اڈا قائم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم سعودی عرب کو اپنی علاقائی پالیسیوں پر نظرِ ثانی اور ممکنہ طور پر نئے اتحاد تشکیل دینے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

بدھ کے روز ایرنا کی رپورٹ کے مطابق، خبر رساں ایجنسی شہاب نے اپنی ایک رپورٹ میں، جس کا عنوان تھا “سعودی عرب کی سرحدوں پر امارات اور اسرائیل”، بتایا کہ بعض سعودی سوشل میڈیا چینلز اور نیٹ ورکس نے انکشاف کیا ہے کہ امارات، سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع علاقے عرادہ میں ایک فوجی اڈا تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں تقریباً 800 اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی ممکن ہو گی۔

ذرائع کے مطابق، یہ منصوبہ امارات اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ سکیورٹی اور فوجی معاہدے کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور یہ اقدام غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے بعد کے حالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔

شہاب نے مزید لکھا کہ عرادہ میں اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امارات اور سعودی عرب کے تعلقات غیر معمولی کشیدگی کا شکار ہیں۔ یہ پیش رفت علاقائی اتحادوں میں تبدیلی اور ابوظہبی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید معمول پر لانے اور وسعت دینے کی عکاس ہے۔

رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ امارات اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں آخر کہاں تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے؟

ادھر، سیٹلائٹ چینل المہریہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی قربت، سعودی عرب کو اپنی علاقائی حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔

اس چینل کے مطابق، مصر، ترکی، سوڈان اور صومالیہ سمیت کئی ممالک کے ساتھ علاقائی اتحادوں کی جغرافیہ تبدیل ہو رہی ہے اور خطہ اس وقت ایک نئے اتحاد کے دہانے پر کھڑا ہے، جس کی بنیادی وجہ اسرائیلی توسیع پسندانہ پالیسیاں ہیں۔ اسرائیل مبینہ طور پر خطے میں کشیدگی اور بدامنی پیدا کر کے باب المندب سے لے کر دریائے فرات تک اہم سمندری راستوں پر تسلط حاصل کرنا چاہتا ہے۔

المہریہ کے مطابق، امارات اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے مقابلے میں آج سعودی عرب، مصر اور ترکی ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں، جبکہ ریاض اسرائیل اور امارات کے مقابل ایک نیا اتحاد تشکیل دے کر اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو ازسرِنو متعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمنی ویب سائٹ المساء پریس نے بھی رپورٹ کیا کہ اس سے قبل سعودی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر امارات کے عرادہ کے علاقے میں نئے فوجی اڈے کی تعمیر سے متعلق خبریں گردش کر رہی تھیں، جو سعودی سرحد کے قریب واقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ قدم امارات اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، خصوصاً 2020 میں دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے معمول سازی کے معاہدے کے بعد۔ بتایا گیا ہے کہ اس مجوزہ فوجی اڈے میں رہائشی سہولیات، تربیتی مراکز اور فوجی کارروائیوں کے لیے معاون انفراسٹرکچر شامل ہوگا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے ستمبر 2020 (شہریور 1399) میں ابراہیم معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لایا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یمن کی صورتحال کے باعث امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات میں شدت آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ریاض کی جانب سے بندرگاہ المکلا پر فضائی حملے اور کشیدگی میں اضافے کے بعد، امارات نے یمن سے اپنی باقی ماندہ افواج کے انخلا کا اعلان کیا۔

حالیہ بحران اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے جنوبی یمن میں المکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں اسلحے کی ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک تھی، جبکہ امارات نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلحہ اس کی اپنی افواج کے استعمال کے لیے یمن بھیجا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

فلسطینی اسلامی تحریک کے سربراہ کی 28 ماہ بعد صیہونی جیل سے رہائی

?️ 14 دسمبر 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت نے 1948 کے فلسطینی علاقوں کی اسلامی تحریک کے

برطانوی فوج پر سائبر حملہ

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:برطانوی فوج کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سائبر حملہ میں ہیک کیے

صیہونی حکومت اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کیوں نہیں کرتی؟

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی ریاست نے 1948ء میں قیام کے بعد سے اب

خطے میں بیروںی مداخلت ہرگز برداشت نہیں:ایرانی سپاہ پاسداران

?️ 7 ستمبر 2022سچ خبریں:ایرانی سپاہ پاسداران کے سربراہ کا نے کہا کہ خطے میں

ترکی میں 12 ہزار 873 اور شام میں 3 ہزار 162 ہلاک

?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ ملک

ریاض کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے مسئلہ فلسطین حل: نیتن یاہو

?️ 22 فروری 2023سچ خبریں: وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے امیدوار ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

?️ 25 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے بھکر کے حلقہ این اے

غزہ کے بیشتر معذور افراد امدادی آلات سے محروم ہو گئے:اونروا

?️ 16 اگست 2025غزہ کے بیشتر معذور افراد امدادی آلات سے محروم ہو گئے:اونروا اقوامِ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے