?️
ایپسٹین کیس کے خوف سے برطانوی شاہی خاندان اور حکومت شدید دباؤ میں
بدنام زمانہ امریکی ارب پتی اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین کا مقدمہ ایک بار پھر برطانیہ میں سیاسی اور سماجی ہلچل کا باعث بن گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی نئی معلومات اور بڑھتی ہوئی میڈیا توجہ نے نہ صرف برطانوی شاہی خاندان بلکہ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کو بھی سخت دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے، جس سے اقتدار کے ایوانوں میں بے چینی صاف محسوس کی جا رہی ہے۔
ایپسٹین کیس کی تازہ پیش رفت نے اس بار محض ایک فرد کے اسکینڈل سے آگے بڑھ کر طاقتور اداروں کی جواب دہی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ ایک عوامی تقریب کے دوران بادشاہ چارلس سوم کو اپنے بھائی شہزادہ اینڈریو کے ایپسٹین سے تعلقات پر عوامی سوالات اور نعروں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے مناظر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں تیزی سے وائرل ہوئے۔ مبصرین کے مطابق یہ لمحہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ معاملہ اب شاہی محل کی چار دیواری تک محدود نہیں رہا۔
اسی دوران رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ شہزادہ اینڈریو کو بکنگھم پیلس سے ہٹا کر شاہی جائیداد سینڈرنگھم منتقل کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ شاہی محل نے اس اقدام پر خاموشی اختیار کی، لیکن عوامی حلقوں میں اسے بحران کے سامنے ایک پسپائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہی۔ ایپسٹین سے مبینہ روابط کے باعث پیٹر مینڈلسن، جو امریکہ میں برطانیہ کے سابق سفیر رہ چکے ہیں، ایک نئے تنازع کا مرکز بن گئے ہیں۔ اس معاملے نے حکومت کے اندر اور پارلیمان میں شدید سوالات کو جنم دیا ہے، جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی برائے انٹیلی جنس و سلامتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کیس سے متعلق تمام دستیاب دستاویزات کی جانچ اور اشاعت جاری رکھے گی، چاہے اس کے نتائج حکومت کے لیے کتنے ہی شرمندگی کا باعث کیوں نہ ہوں۔
وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے دباؤ کے جواب میں متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ محض بیانات سے عوامی اعتماد بحال نہیں ہو گا۔ لیبر پارٹی کے اندر بھی تشویش بڑھ رہی ہے اور بعض سینئر رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس بحران کو شفاف انداز میں حل نہ کیا گیا تو یہ حکومت کے لیے طویل المدت نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، ایپسٹین کیس اب برطانیہ میں ایک علامتی حیثیت اختیار کر چکا ہے—ایک ایسا معاملہ جو شاہی خاندان سے لے کر حکومت، سیاست اور طاقتور اشرافیہ کے کردار کو عوامی کٹہرے میں لے آیا ہے۔ ایسے ملک میں جو خود کو شفافیت اور قانون کی بالادستی کی مثال سمجھتا ہے، یہ بحران اس بات کا امتحان بن چکا ہے کہ طاقتور طبقات کس حد تک جواب دہی کے لیے تیار ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
قطر نے بستیوں کی تعمیر کے نیتن یاہو کے منصوبوں کی مذمت کی
?️ 31 دسمبر 2022سچ خبریں: قطر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے
دسمبر
ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت، انسولین سمیت 79 اہم ادویات غائب
?️ 29 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی
اگست
امریکیوں کا کانگریس اور میڈیا پر سے اعتماد ختم
?️ 16 اکتوبر 2024سچ خبریں: گیلپ کے ایک نئے سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ
اکتوبر
یوکرین میں واشنگٹن کی پالیسی کی وجہ سے لاکھوں افراد مارے جا سکتے ہیں: ٹرمپ
?️ 8 مئی 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر نے اپنے حامیوں سے کہا کہ موجودہ امریکی
مئی
بھارتی عدالت کا بھی مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:بھارتی ریاست کرناٹک کی عدالت نے اس ریاست میں تعلیمی اداروں
مارچ
جشن آزادی پر گاڑی، دکان یا عمارت کی بہتر سجاوٹ پر انعام دیا جائے گا۔ مراد علی شاہ
?️ 30 جولائی 2025کراچی (سچ خبریں) وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ
جولائی
کیا پاکستان کو افغانستان میں آپریشن کا حق ہے؟
?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں: افغانستان کی سرزمین پر پاکستانی فوج کے حملوں اور اس
جنوری
کیا شیخ رشید استعفی دے رہے ہیں
?️ 15 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے
مئی