ٹرمپ کی اسٹریٹجک غلطی، خلیج فارس جنگ سے مغرب اور عرب معیشتوں کو بھاری نقصان

خلیج فارس

?️

سچ خبریں:خلیج فارس کی حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی معیشت اور توانائی منڈی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔

خلیج فارس میں جنگی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو ہلا دیا، تیل کی قیمت 150 ڈالر تک جانے کا خدشہ، جبکہ مغربی اور عرب ممالک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو گئے۔

توانائی مارکیٹ کے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ جنگی صورتحال جاری رہی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوگا۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں گزشتہ 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

اس صورتحال میں مغربی اتحادی ممالک شدید تشویش کا شکار ہیں کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ان کی معیشتوں اور عوامی اخراجات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے اہم عنصر بن چکا ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور 35 فیصد مائع گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کو مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں، صرف اس علاقے میں عدم تحفظ پیدا کرنا ہی عالمی منڈی میں قیمتوں کو بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

امریکی تھنک ٹینکس نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے مغربی معیشت متاثر نہیں ہوگی اور چین زیادہ نقصان اٹھائے گا، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں چینی اور ایرانی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے جبکہ مغربی کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بلومبرگ کے تجزیہ کار خاویر بلاس کے مطابق بڑے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز کے قریب جانے سے بھی ہچکچا رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اس خطے میں اپنی حکمت عملی میں ناکام ہو رہا ہے۔

اسی دوران قطر، جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پیدا کرنے والا ملک ہے، نے اپنی پیداوار روکنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ عراق کے کردستان میں تیل و گیس کی پیداوار بند ہو چکی ہے اور مقبوضہ علاقوں کے بڑے گیس فیلڈز بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

یورپ میں گیس کی قیمتوں میں 30 فیصد اور ایشیا میں 65 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ برطانیہ میں گیس کی قیمت تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

رویٹرز کے مطابق سعودی عرب کی سب سے بڑی ریفائنری "راس التنورہ” کی بندش کے بعد امریکہ میں ڈیزل کی قیمت 3 ڈالر فی گیلن کے قریب پہنچ گئی، جبکہ یورپ میں ڈیزل کی قیمت 20 فیصد اضافے کے ساتھ 909.50 ڈالر فی میٹرک ٹن تک جا پہنچی ہے۔

امارات بھی اس جنگ سے شدید متاثر ہوا ہے۔ جبل علی بندرگاہ کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، دبئی ایئرپورٹ بند ہوا اور اسٹاک مارکیٹ کو بھی عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جس سے اس کی معیشت کو بڑا دھچکا لگا۔

اسی کے ساتھ سمندری انشورنس کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سروس دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی شپنگ کمپنیاں اس علاقے سے دور ہو رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے تقریباً 10 فیصد کنٹینر بحری بیڑے کی سرگرمیاں اس خطے میں متاثر ہو چکی ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے اثرات اب ڈومینو کی طرح یورپ اور امریکہ تک پہنچ رہے ہیں، اور توانائی پر انحصار کرنے والی مغربی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

آخر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اس جنگ میں شرکت یا بالواسطہ حمایت کرنے والے عرب ممالک بھی شدید معاشی نقصان اٹھا رہے ہیں، اور مستقبل میں انہیں خطے میں ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر تعلقات بحال کرنے ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکی اشاعت: ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات کشیدہ حالت میں ہیں

?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: پولیٹیکو میگزین نے متعدد امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ

جنگ میں اسرائیل کی سب سے بڑی غلطی

?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: مزاحمت اور غزہ کے عوام کی حمایت کے محاذ پر جنگ

افغانستان میں جرائم کا سلسلہ جاری

?️ 6 جون 2023سچ خبریں:ان دنوں افغانستان میں موجود آسٹریلوی فوج پر اس جنگ زدہ

لڑکی، لڑکے پر تشدد، IG اسلام آباد نے وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کی

?️ 9 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لڑکی اور لڑکے کو

دنیا جان چکی ہے پاکستان پر لگائے گئے تمام الزامات غلط تھے۔ اسحاق ڈار

?️ 19 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 3

امریکہ نے اسرائیل سے غزہ جنگ کے بارے میں کیا کہا؟

?️ 5 مارچ 2024سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حکام نے

لاہور میں بدترین فضائی آلودگی پر پنجاب حکومت کا بھارت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ

?️ 4 نومبر 2024لاہور: (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے لاہور میں اسموگ کی ابتر صورتحال

فرانس میں پنشن سسٹم میں اصلاحات کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:فرانس کے مختلف شہروں میں دسیوں ہزار افراد نے صدر ایمانوئل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے