ٹرمپ کی فلسطینی مہاجرین کے خلاف گھناؤنی سازش؛ نیتن یاہو کی خدمت یا مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش؟

ٹرمپ کی فلسطینی مہاجرین کے خلاف گھناؤنی سازش؛ نیتن یاہو کی خدمت یا مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش؟

?️

سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینی مہاجرین کو مصر اور اردن میں منتقل کرنے کا منصوبہ، نیتن یاہو کی مکمل حمایت کے ساتھ، خطے میں فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے کی ایک گہری سازش قرار دیا جا رہا ہے۔

مہاجرین کی منتقلی کا منصوبہ؛ ایک نئی سازش
ٹرمپ کی اس متنازعہ تجویز نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے،فاکس نیوز کے مطابق، امریکی صدر نے اردنی بادشاہ عبداللہ دوم کے ساتھ فلسطینی مہاجرین کی منتقلی کے حوالے سے گفتگو کی اور اب وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو اس پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ غزہ کے ایک ملین سے زائد مہاجرین کو اردن اور مصر میں بسانے کا منصوبہ نافذ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: قسام کی فاتحانہ پریڈ؛ نیتن یاہو کے منہ پر کرارا تھپڑ

اردن نے ٹرمپ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا
تاہم، اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اس امریکی منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا،اردنی قومی ٹی وی "الاردنیہ” نے الصفدی کا بیان نشر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اردن فلسطینیوں کی جبری ہجرت کا مخالف ہے اور یہ منصوبہ قابل قبول نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، اردن اس وقت اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر غزہ میں انسانی امداد کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے کوشش کر رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے اپنے وطن میں رہنے کے حق کا مکمل دفاع کر رہا ہے۔

ٹرمپ کی اصل نیت؛ فلسطینیوں کو ہمیشہ کے لیے بے وطن کرنا؟
ٹرمپ کے بیان میں ایک خطرناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب سی این این کے ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آیا فلسطینیوں کی منتقلی ایک عارضی اقدام ہوگا یا مستقل؟ ٹرمپ نے دھوکہ دہی پر مبنی ایک مبہم جواب دیا کہ یہ دونوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے، عارضی یا مستقل۔ دونوں امکانات موجود ہیں۔

یہی جملہ ان کی اصل سازش کو واضح کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے وطن سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو؛ جنگی جنون اور مہاجرین کی جبری ہجرت
ٹرمپ کے اس موقف کی گہرائی کو تب سمجھا جا سکتا ہے جب ہم دیکھیں کہ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی جو بائیڈن کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا جس میں اسرائیل کو مہلک بموں کی ترسیل روکی گئی تھی،اب ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بغیر کسی پابندی کے ہر وہ مہلک ہتھیار فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے جو وہ فلسطینیوں پر برسا سکتا ہے۔

نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ان کے نزدیک فلسطینیوں کے ساتھ مستقل امن کا کوئی تصور موجود نہیں، بلکہ موجودہ جنگ بندی بھی ایک عارضی وقفہ ہے جو کسی بھی لمحے دوبارہ جنگ میں بدل سکتی ہے۔

تاریخی تحقیق؛ فلسطینی مہاجرین کی ہجرت ایک منظم نسل کشی؟
پروفیسر ایلان پاپے (Ilan Pappé)، جو برطانوی یونیورسٹی "ایکسٹر” کے مشرق وسطیٰ امور کے ماہر ہیں، اپنی کتاب "بہترین جیل؛ اسرائیل اور فلسطینی مہاجرین” میں ثابت کر چکے ہیں کہ اسرائیلی قیادت نے ہمیشہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے "بروکریسی آف ایول” (شر انگیزی کی بیوروکریسی) کا سہارا لیا۔

اسی طرح معروف مورخ بنی موریس نے اپنی تاریخی تحقیقات میں اس بات کو تسلیم کیا کہ 1948 میں فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی پالیسی، اسرائیل کی باضابطہ حکمت عملی کا حصہ تھی۔

فلسطینی مہاجرین کی حالت زار پر گہری تحقیق کرنے والی رزماری سیغ (Rosemary Sayigh) نے اپنی تحریروں میں یہ بتایا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی دراصل ان کی قومی شناخت اور اجتماعی شعور کو تباہ کرنے کی اسرائیلی حکمت عملی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور غزہ کا بحران
اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا انتباہ دیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں تقریباً 75 فیصد غزہ کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور اگر ملبے سے مزید لاشیں نکالی جائیں، تو شہداء کی تعداد 55 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

اسرائیل کے مسلسل حملوں اور امریکی حمایت کے باعث غزہ میں شدید غذائی قلت پیدا ہو چکی ہے، اور پوری آبادی مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہے۔

نتیجہ: ٹرمپ کی سازش، فلسطینی عوام کی بیداری
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے یہ اقدامات اس بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد پوری فلسطینی آبادی کو غزہ اور مغربی کنارے سے بے دخل کر کے خطے میں اسرائیلی قبضے کو مکمل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کا دوسرا دن ؛ اسرائیلی سیکورٹی نظام کی ناکامی

تاہم، فلسطینی عوام اور عرب دنیا کے شعور نے اس منصوبے کو کامیاب ہونے سے روک دیا ہے، جیسا کہ اردن اور دیگر ممالک نے واضح طور پر اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا

?️ 28 ستمبر 2025امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام

اردو سمیت تمام مادری زبانیں غریبوں کے لیے رہ گئی ہیں، جاوید اختر

?️ 20 فروری 2023لاہور: (سچ خبریں) معروف بھارتی مصنف، منظر نگار اور شاعر جاوید اختر

اقوام متحدہ نے اسرائیلی دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں خطرناک جنگ کا انتباہ جاری کردیا

?️ 15 مئی 2021جنیوا (سچ خبریں) اسرائیل نے فلسطینی قوم کے خلاف جنگ کی شروعات

امریکہ کی یوکرین کے لیے نئے امدادی پیکج کی تیاری

?️ 13 مارچ 2024سچ خبریں: امریکی حکام کے مطابق اس ملک کی حکومت یوکرین کی

حکومت امریکا کیساتھ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کا معاملہ اٹھائے، آبی ماہرین

?️ 11 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور بھارت کے درمیان امریکا کی مدد

امریکہ کی دھوکہ بازیوں سے صیہونی بھی پریشان

?️ 20 اگست 2021سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے افغانستان میں امریکی شکست کا ذکر کرتے ہوئے

عراق میں ابھرتے ہوئے غیر اخلاقی جشنوں کے خلاف احتجاج

?️ 17 نومبر 2025عراق میں ابھرتے ہوئے غیر اخلاقی جشنوں کے خلاف احتجاج عراق میں

’او خدایا! اسرائیلی بمباری کا خاتمہ فرما‘ شوبز شخصیات رفح بمباری پر اشکبار

?️ 31 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ (یو این) کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے