سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کا ایک اور مطالبہ

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کا ایک اور مطالبہ

?️

سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے مخصوص نشستوں کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے جنہوں نے ان کی پارٹی کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنی پارٹی کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا کہ "اللہ الحق ہے، میں نے بارہا چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کے جانب سے ہمارے خلاف دکھائے جانے والے تعصب پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے سے کون سی حقیقت سامنے آ گئی؟ امیر جماعت اسلامی

انہوں نے مزید کہا کہ "آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی کے خلاف متعصبانہ رویے اور بدنیتی کو واضح کر دیا ہے۔ اس سے ہمارے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔ ہم ان تمام لوگوں کے خلاف، جو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لاکھوں ووٹرز اور حامیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے ذمہ دار ہیں، آئین کے آرٹیکل 6 (غداری سے متعلق) کے تحت فوجداری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں موجود سابق وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا اور الیکشن کمیشن کے ممبران سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پی ٹی آئی اور ان کے خلاف کیسز کی سماعت کرنے والے کسی بھی بینچ کا حصہ بننے سے خبردار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں یہ بات بھی دہراتا ہوں کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے آپ کو میرے یا پی ٹی آئی کے خلاف زیر سماعت مقدمات سے دور رکھیں۔”

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا۔ فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا تھا۔

فل کورٹ بینچ میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے۔

مزید پڑھیں: کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ سیاسی ہے؟خواجہ آصف کی زبانی

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ فیصلہ 8/5 کے تناسب سے دیا گیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد وحید، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس عرفان سعادت، اور جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلہ دیا تھا، جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان، اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے درخواستوں کی مخالفت کی تھی۔

مشہور خبریں۔

ترک اور شامی فوجیں شمال شام میں صف آراء

?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں: الوطن شام نے حلب کے شمالی مضافات میں شامی فوج

امریکی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ہزاروں درخواستوں مسترد

?️ 12 جولائی 2025نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے بحران کے انتظام

امریکہ میں شامی سفارت خانہ 10 سال سے زائد عرصے بعد دوبارہ کھل گیا

?️ 20 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکہ میں شامی سفارت خانہ 10 سال سے زائد عرصے

عراقی حکومت کی تشکیل کے بارے میں نوری المالکی کا تازہ ترین تبصرہ

?️ 4 جولائی 2022سچ خبریں:  دوله القانون اتحاد کے سربراہ نوری المالکی نے گزشتہ شب

مستند شواہد ہیں غیرقانونی افغان باشندے دہشتگردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

?️ 19 ستمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل

اقوامِ متحدہ: نائجیریا میں 1 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی بحران کا شکار

?️ 3 جولائی 2026اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے کہا ہے کہ نائجیریا

ابو مازن کی فلسطینیوں کے ساتھ بہت بڑی غداری

?️ 9 مئی 2024سچ خبریں: فلسطینی طلباء تحریکوں کے خلاف صہیونیوں کے ساتھ مل کر

امریکہ کے سابق انٹیلیجنس افسر کا ایران کی بحری فوجی صلاحیت کے بارے میں انتباہ

?️ 17 فروری 2026سچ خبریں:امریکہ کے سابق انٹیلیجنس افسر نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے