?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کا مسودہ متفقہ ہے اور یہ وہی مسودہ ہے جو پارلیمانی کمیٹی نے پیش کیا تھا، آج 26ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش ہونے جارہی ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام پارلیمانی لیڈروں نے مختلف اوقات میں ملاقاتیں کیں، خورشید شاہ صاحب نے اسپیکر کی ہدایت پر بنائی گئی خصوصی کمیٹی میں معاملات کو بہت تحمل سے دیکھا اور اس ساری کاوش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی انتھک محنت اور کاوشیں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے ناصرف اتحادی جماعتوں سے رابطہ کیا بلکہ دونوں جانب روابط کا سلسلہ جاری رکھا، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی مسلسل رابطہ رکھا اور آئینی پیکج پر اتحادی جماعتوں کے لارجر مسودے پر بلاول بھٹو نے جے یو آئی کے قائد اور قانونی ٹیم سے مذاکرات کیے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس کے بعد نواز شریف سے ملاقات کے لیے جاتی امرا کا دورہ کیا تھا جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور آصف علی زرداری بھی اپنی قانون ٹیموں کے ہمراہ موجود تھے، وہاں مشاورت کے بعد ہم نے پریس ٹاک بھی کی تھی.
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم نے واپس آ کر اپنی اتحادی جماعتوں کو مسودے پر اعتماد میں لیا تھا اور آج کابینہ نے جس مسودے کی منظوری دی ہے یہ وہی متفقہ مسودہ ہے البتہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے جو پانچ ترامیم کی تجویز پیش کی ہے جو آئین میں اسلامی قوانین کے حوالے سے ہیں، شریعت کورٹ کے وہ ججز جو سپریم کورٹ میں تعینات ہونے کے اہل ہوں اس حوالے سے آئین خاموش تھا، ان کے بارے میں ایک شق ڈالی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون سازی کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی جو رپورٹس آتی ہیں، ان کی ٹائم لائن دو سال تھی، اسے ایک سال کیا گیا ہے، سود کے بارے میں شریعت کورٹ کے فیصلے پر پالیسیز میں عمل نہیں ہو رہا تھا، اس پر عملدرآمد کو شامل کیا گیا ہے، شریعت کورٹ کی اپیل سپریم کورٹ میں جاتی ہے اس کے طریقہ کار میں کچھ ابہام تھا، اس کو دور کیا گیا، یہی ترامیم اس ڈرافٹ کا حصہ تھیں جو کمیٹی نے منظور کیا اور اگر وہ ترامیم جے یو آئی(ایف) جمع کرا کے ایوان میں لائے گی ہم اس پر ووٹ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ باقی چیزیں وہی ہیں جس میں سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچز ہیں اور صوبوں میں بھی متعلقہ قانون کے ذریعے آئینی بینچز کا میکانزم فراہم کردیا گیا ہے، صوبے میں آئینی بینچز کی کی تشکیل کا اختیار صوبے کی منتخب اسمبلی کو دیا گیا ہے اور یہ پیپلز پارٹی کا مشورہ تھا کہ یہ اختیار صوبے کو دیا جائے کہ وہ آئینی بینچز کا قیام چاہتے ہیں یا نہیں اور اس کے لیے ضروری ہو گا کہ پوری اسمبلی 51فیصد کے ساتھ قرارداد منظور کرے تو وہ نافذالعمل ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی بینچز میں نامزدگیوں کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کے پاس ہو گا، جوڈیشل کمیشن کی نئی ہئیت کے مطابق اس میں چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین جج شامل ہیں، چار پالریمنٹینز جن میں سے دو سینیٹ اور دو قومی اسمبلی سے ہوں گے جہاں دونوں ایوانوں سے ایک، ایک رکن اپوزیشن اور حکومتی بینچز سے ہو گا، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل بدستور اس کا حصہ ہوں گے۔
وزیر قانون نے کہا کہ ججز کی پرفارمنس کے جانچ کے حوالے سے ترامیم شامل ہیں کیونکہ عوام کی شکایت آتی رہی ہیں 8، 10 سال ان کے کیسز زیر التوا رہتے ہیں تو ایسے ججز جن کی کارکردگی غیرموثر ہے، ان کے کیسز سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجے جائیں گے اور وہ چھ ماہ کے اندر فیصلہ کریں گے کیونکہ یہ بھی شکوہ رہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں سالہا سال فیصلے نہیں ہو پاتے۔
وفاقی وزیر قانون کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی کے حوالے سے آئین بلکل واضح ہے، آج پاکستانی ریاست کے لیے ایک تاریخی دن ہے، آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی کام عجلت میں نہیں ہوا، ایک ایک شق پر طویل گفتگو کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو اس عمل سے باہر نہیں رکھا گیا، آئینی ترمیم کا تقاضا تھا کہ اس پر طویل اور سود مند مشاورت کی جائے، یہ جمہوریت کا حسن ہے، کابینہ سے منظوری کے بعد وزیراعظم نے تمام اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا ہے خاص طور پر پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کا جنہوں نے اس حوالے سے خصوصی کوشش کی ہے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ ججز کی تقرری، احتساب کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے اور کمیٹی کے اندر سول سوسائٹی کے ممبر خصوصی طور پر خواتین کی شمولیت ایک بڑا سنگ میل ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آرٹیکل 9 میں اس سے قبل عدالت نے بہت سی جہتیں نکالی ہیں، پاکستان دنیا کے ان سرکردہ ممالک میں شامل ہورہا ہے جو ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے آئین میں شقیں شامل کررہا ہے۔
انہوں نے مسودے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے طے کیا تھا کہ متفقہ مسودے جمعیت علمائے اسلام کی تجاوزیر کو من و عن وہ پیش کریں گے اور سینیٹ میں طے شدہ مسودے کے باقی حصے کو حکومت پیش کرے گی جبکہ قومی اسمبلی میں بل پاس ہونے کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی اس بل کو منظور کروائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 12 رکنی کمیٹی جس میں اپوزیشن اور حکومت بھی شامل ہے دو تہائی کے ساتھ سنیارٹی کی بنیاد پر موجود پہلے ججز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا، اس سے شفافیت اور واضح کچھ نہیں ہوسکتا اگر سب اس پر ملکر فیصلہ کرتے ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
بینچ کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ حکومتیں نہیں کریں گی، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے لیے اگر بینچ بنتے ہیں تو اس کی تشکیل جوڈیشل کمیشن کرےگا۔


مشہور خبریں۔
ایران سے جنگ ایک احمقانہ غلطی تھی: صیہونی حلقوں کا اعتراف
?️ 23 جون 2025سچ خبریں: ایران کی صیہونی ریاست کے خلاف جاری کوبکار حملوں کے درمیان،
جون
حزب اللہ کے ڈرونز کیسے صیہونی قابضین کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئے؟
?️ 1 ستمبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے جدید اور ترقی پذیر ڈرونز جو اکثر
ستمبر
صیہونی سعودی دوستی میں درپیش رکاوٹیں
?️ 12 جولائی 2023سچ خبریں:واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک نے سعودی عرب اور صیہونی حکومت
جولائی
وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کےخلاف کارروائی متوقع
?️ 8 ستمبر 2022وادی تیراہ: (سچ خبریں)وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز پر حالیہ حملوں کے
ستمبر
امریکہ نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے تشدد کا اعتراف کیا
?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے پرتشدد
دسمبر
خیبر: سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 2 دہشت گرد ہلاک، 2 سپاہی شہید
?️ 26 اپریل 2023ضلع خیبر: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں
اپریل
بہاولپور: 8 سالہ بچی کے ریپ کا الزام ثابت، مجرم کو سزائے موت
?️ 28 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں)بہاولپور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 8سالہ بچی کے
مارچ
ہمیں چپ رہنے کیلئے بہت سارے لوگوں نے رابطے کئے،علیمہ خان
?️ 12 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ
مارچ