ہمیں دیکھنا ہوگا کہ نیب قانون میں ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہیں یا نہیں۔سپریم کورٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی نیب کے قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ نیب قانون میں ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہیں یا نہیں۔

‏سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر ‏چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ‏جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائی جاری رکھے جب کہ اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ابھی اصل کیس باقی ہے، دیکھنا ہوگا کیا نیب قانون میں تبدیلی بنیادی حقوق سے متصادم ہے یا نہیں؟ یہ بھی دیکھنا ہے نیب قانون سے درخواست گزار کے حقوق کیسے متاثر ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دلیل ہے کہ نیب قانون سے کسی ملزم کا جرم قبول کرنا اب کوئی جرم ہی نہیں رہا، وکیل عمران خان خواجہ حارث نے کہا کہ اب درخواستیں دیے بغیر مقدمات واپس بھیجے جارہے ہیں، پہلے سے پلی بارگین یا رضاکارانہ رقوم کی ادائیگی بھی واپس ہو جائے گی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 2018 میں نیب قانون کی تبدیلی سے پہلے کیا پلی بارگین کی رقم اقساط میں ادا ہو رہی تھی، اب دیکھنا چاہتے ہیں کیا پلی بارگین یا رضاکارانہ رقوم کی واپسی پر اقساط ملتی رہیں یا ادائیگی نہیں ہوئی، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اس کا جواب نیب کے پاس ہوگا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ نیب قانون کا سیکشن 25 پلی بارگین کی قسط کی عدم ادائیگی سے متعلق ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ نئی ترامیم میں ملزم پلی بارگین کی رقم واپسی کامطالبہ بھی کر سکتا ہے، اس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ ابھی تک آپ کیس کے بنیادی نکتے پرآئے ہی نہیں ہیں، بتانا ہے کہ نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہوگا، پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ سیکشن 9 اے 5 میں ترمیم کے بعد ملزم سےنہیں پوچھا جاسکتا کہ اثاثے کہاں سے بنائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کیا اب کسی کو غیر قانونی ذرائع سے بنائے گئے اثاثے نیب کو ثابت کرنا ہوں گے؟

اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 26 جون کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے نیب آرڈیننس میں موجودہ مخلوط حکومت کی جانب سے کی گئیں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا، خواجہ حارث کے توسط سے دائر نیب ترامیم کے خلاف آرٹیکل 184/3 کی درخواست تیار کی گئی، درخواست میں وفاق اور نیب کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نیب قانون کے سیکشن 2، 4، 5، 6، 25، 26، 14، 15، 21، 23 میں کی ترامیم آئین کے منافی ہیں، نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19 اے, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ نیب قانون میں کی گئیں ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی مذکورہ درخواست کو عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا تھا، تاہم 7 جولائی کو سپریم کورٹ نے یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا بعد ازاں درخواست پر سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

پاکستان نے سعودی عرب کے فیصلے کا خیر مقدم کیا

?️ 20 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) دفتر خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا

فلسطینی بچوں کا قاتل کون ؟ امریکہ یا اسرائیل؟

?️ 22 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکہ صیہونی حکومت کے قیام کے آغاز سے ہی اس

غزہ و لبنان میں کشیدگی برقرار،جنگ بندی کی خلاف ورزی اور طبی مراکز کو خطرہ

?️ 8 فروری 2026غزہ و لبنان میں کشیدگی برقرار،جنگ بندی کی خلاف ورزی اور طبی

ٹی بی کا خاتمہ، صحت کی معیاری خدمات تک رسائی دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، شہباز شریف

?️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے

افغان عوام کی مدد جاری رکھیں گے، پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ صدر زرداری

?️ 12 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کی

82% صہیونیوں کے لیے شمالی علاقے شمالی ناامن

?️ 13 نومبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے حملوں میں توسیع کے ساتھ شمالی مقبوضہ

کورونا: پنجاب میں کورونا ویکسینیشن  کی خصوصی مہم شروع کرنے کا فیصلہ

?️ 24 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں) پنجاب حکومت نے کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر

آئندہ حج آپریشن کی تیاری ابھی سے شروع کی جائے۔ وزیراعظم

?️ 21 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ برس حج آپریشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے