کوئی عدالت کشمیریوں کے حقوق کا فیصلہ نہیں کرسکتی، بھارت اپنی حد میں رہے، نگران وزیراعظم

?️

مظفر آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کو ہم پاکستانی شہری سمجھتے ہیں، کشمیر بھارت کا تھا، ہے اور نہ ہو گا۔

مظفر آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے شہریوں کے حقوق کی پامالی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کوئی بھی عدالت کشمیریوں کے حقوق کا فیصلہ نہیں کرسکتی، بھارت اپنی حدمیں رہے، حد عبور نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی تحریک جیسے 1989 سے شروع ہوئی ویسے پہلے پہلے نہیں تھی، اس پر بہت سے تجزیہ کاروں نے تبصرہ کیا کہ وہ اس دہائی سے اُس دہائی تک کیسی رہی،2000 کے بعد سے اس میں کیا تبدیلی آئی مگر یہ تحریک ہمیشہ جاری رہی، تحریک کا انتقال نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہی بات سمجھ نہیں آرہی کہ اس کو کس طرح دفنایا جائے، وہ بار بار اس بات کو اسی لیے دہراہے ہیں کہ ادھر کے لوگ ادھر بس گئے، اُدھر کے لوگ اُدھر بس گئے کیونکہ وہ لڑائی کے عزم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے زبان کے ساتھ امید بھی دلانی پڑتی ہے اور میرا کام امید دلانا ہے، اس میں یقین، استحکام یہ متحرک لوگ خود پیدا کریں گے۔

انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے 24 کروڑ لوگ اس کے ساتھ وابستہ ہیں، کشمیر کی تحریک ہمیشہ جاری رہے گی، 2019 سے 2021 تک ہی کشمیر کی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ 200 سال پرانی ہے، کیا 200 سال کی تحریک 3 سال میں ختم ہوسکتی ہے؟ کیا لوگ بیٹھ جائیں گے اپنے گھروں میں؟ کیا جو شہید ہوئے ہیں وہ کسی کی وجہ سے بھولا دیے جائیں گے؟جن ماؤں بہنوں کے ریپ ہوئے ان کو یہ (بھارتی) کہتے ہیں کہ تمہاری اور میری شناخت ایک جیسی ہے ہم دونوں بھارتی ہیں تو یہ نہیں ہوگا۔

نگران وزیر اعظم نے بھارتی سول سوسائٹی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے خاندان کے کسی فرد کا ریپ ہوا ہو تو کیا میں اس وجود کا حصہ رہوں گا؟ کیا لوگ 15ہزار سے زائد جبری گمشدگیوں، بڑی پیمانوں پر قبروں کو بھول جائیں گے؟ ایسے واقعات کو قوم صدیوں تک نہیں بھولتی، ان کی پہلی، تیسری، چھٹی نسل انہی واقعات کو لے کر اپنی سیاسی مستقبل کا علم بلند کرتی ہے، یہ تحریک ہے یہ ہماری حیثیت بڑھا سکتی ہے ہم اس کی حیثیت نہیں بڑھا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوا ارب کی آبادی ہے بھارت کی مگر وہ اتنے سے کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کر پا رہے ہیں، بھارت دنیا کی بڑی معیشت ہے، اس کے مفادات ہیں پوری دنیا میں، پوری دنیا ان میں دلچسپی رکھتی ہے مگر اس کے باوجود پوری دنیا ان کے کشمیر پر مؤقف کو تسلیم نہیں کرتی، کیا یورپی یونین، امریکا نے کیا تسلیم کیا؟ نہیں، کسی نے نہیں کیا تو ہم کس چیز پر مایوس ہیں؟

مشہور خبریں۔

یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت کردیے

?️ 6 نومبر 2025یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت

امریکی عہدیدار نے طالبان کے ساتھ بائیڈن انتظامیہ کے معاملات کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا

?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ نے طالبان

روس پر پابندیوں کے اثرات کے لئے صبر کی ضرورت ہے: بوریل

?️ 16 جولائی 2022سچ خبریں: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے تہران کے وقت

صیہونی حکومت کے سابق جنگجوؤں نے یوکرین کے لیے اپنے پاؤں کھول دیے

?️ 26 مارچ 2022سچ خبریں:  عبرانی ذرائع نے یوکرائنی عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کے

وزیر خزانہ نے پرانے ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت کی ہدایت کر دی

?️ 4 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خزانہ شوکت ترین اور گورنر رضا باقر

سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ڈبل گیم کھیلی، فائدہ کیا ہوا بے نقاب ہوگئے، عمران خان

?️ 4 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور

منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم،حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں، فرد جرم ایک بار پھر مؤخر

?️ 7 ستمبر 2022لاہور: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے و سابق

دارالعلوم حقانیہ میں دھماکہ، مولانا حامد الحق سمیت چھ شہید

?️ 28 فروری 2025نوشہرہ: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے