ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز وزیر اعظم ہاؤس لاہور حملہ کیس میں بھی نامزد، جوڈیشل ریمانڈ منظور

?️

 لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا وزیر اعظم ہاؤس لاہور حملہ کیس میں جسمانی ریمانڈ دینے کی لاہور پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔

9 مئی واقعات کے حوالے سے درج مقدمات میں پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر موجود پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور سابق گورنر پنجاب کو لاہور پولیس نے وزیر اعظم ہاؤس لاہور پر حملے کے مقدمے میں نامزد کر کے گرفتار کر لیا۔

نئے کیس میں نامزدگی کے بعد پنجاب پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کو عدالت میں پیش کیا اور ان کا تیس دن کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج عبہر گل نے درخواست پر سماعت کی، تفتیشی افسر نے درخواست کی کہ یاسمین راشد اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سے ملک اور فوج کے خلاف سازش کی بابت تفتیش کرنی ہے، تاہم انسداد دہشت گردی عدالت نے تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔

عدالت نے یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے اسے چار دسمبر تک پولیس سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

خیال رہے کہ یاسمین راشد کو ابتدائی طور پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے 13 مئی کو یاسمین راشد کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن محض چند گھنٹے بعد 9 مئی سے متعلق مزید تین مقدمات میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا جن میں جناح ہاؤس حملہ کیس بھی شامل ہے۔

بعد ازاں پنجاب پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ڈاکٹر یاسمین راشد کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے عسکری ٹاور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں تفتیش کرنے کی اجازت دے دی۔

اس کے علاوہ عدالت نے اسی کیس میں مزید دفعات کے اضافے کے بعد سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان کو کور کمانڈر ہاؤس پر مبینہ حملے کے الزام میں دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

صیہونی جاسوس یونٹ 8200 کو غیرمعمولی بحران کا سامنا

?️ 23 نومبر 2024سچ خبریں:صیہونی ریاست کے سابق فوجی افسران نے اعتراف کیا ہے کہ

پاکستان اور افغان طالبان میں روایتی معنوں میں جنگ بندی نہیں۔ دفتر خارجہ

?️ 11 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے

پاکستان نے جو پالیسی وعدے کیے وہ نافذ العمل رہیں گے، آئی ایم ایف

?️ 4 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں آئی ایم ایف کی مقامی نمائندہ

ملک میں ہائبرڈ و بادشاہی نظام ہے، بادشاہ کی بات نہ سننے پر تکلیف تو ہوگی، شاہد خاقان عباسی

?️ 7 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی

حماس نے کہاں کہاں صیہونیوں کی ناک رگڑی؛فوجی امور کے معروف ماہر  کی زبانی

?️ 1 مارچ 2025 سچ خبریں:فوجی امور کے معروف ماہر بریگیڈیئر جنرل فایز الدویری نے

امریکا میں روزگار کا بحران شدت اختیار کر گیا،ریپبلکنز کے معاشی وعدے ناکام

?️ 20 اکتوبر 2025امریکا میں روزگار کا بحران شدت اختیار کر گیا،ریپبلکنز کے معاشی وعدے

غرش شیر آپریشن کے دوران ۹ ہزار سے زائد صہیونی زخمی

?️ 22 جون 2026سچ خبریں: صہیونی حکام کے مطابق، غرش شیر آپریشن کے آغاز سے

عمران خان: افغانستان کے ساتھ کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں

?️ 23 اکتوبر 2025سچ خبریں: پاکستان کے سابق وزیراعظم نے ایک پیغام میں زور دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے