ڈالر کی بڑھتی طلب، آمد میں کمی کے سبب روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم گیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی اور اکتوبر کے وسط میں کم ترین سطح کو چھونے کے بعد ڈالر نے دوبارہ اڑان بھرنا شروع کردی اور انٹربینک مارکیٹ میں 285 روپے کے قریب پہنچ گیا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق درآمد کنندگان کی جانب سے بھاری طلب کے ساتھ ساتھ ملک میں ڈالر کی آمد میں کمی کے پیش نظر گزشتہ 10 روز کے دوران ڈالر کی قدر میں روپے کے مقابلے میں 7.7 روپے یا 2.8 فیصد اضافہ ہوا۔

کرنسی کے ماہرین نے کئی وجوہات کی نشاندہی کی ہے جو روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم جانے کا سبب بنیں، انٹربینک مارکیٹ سے وابستہ بینکرز کے مطابق ڈالر کی آمد میں کمی اس رجحان میں تبدیلی بڑی وجہ بنی۔

مارکیٹ میں بہت سے لوگوں کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے بیرونی سرمایہ کاری آنے کی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔

ایک سینیئر بینکر نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی جانب سے تازہ ترین حملے سیاسی اور اقتصادی ماحول کو مزید غیرمستحکم کر سکتے ہیں، اقتصادی رجحانات کے مستقبل پر ایک قسم کی بےیقینی چھا گئی ہے، حکومت کو معاشی استحکام کا یقین ہے لیکن معیشت کی ترقی تاحال پیچیدہ مراحل پر ہے۔

ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمد کنندہ عامر عزیز نے کہا کہ حالات معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار نہیں ہیں، ٹیکسٹائل کا شعبہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ کاروبار کرنے کی لاگت خطے میں سب سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال، بالخصوص درآمدی پابندیوں اور پیداواری لاگت کے سبب معاشی چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

برآمد کنندگان ڈالر کی قدر میں اضافے کو اپنے منافع کے لیے حوصلہ افزا علامت سمجھتے ہیں لیکن ڈالر مہنگا ہونے کے سبب مہنگائی خاص طور پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

صرف 2 ماہ قبل 5 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 307 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کرنسی کے غیرقانونی کاروبار اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔

اس کریک ڈاؤن کے کچھ مثبت نتائج سامنے آئے اور 16 اکتوبر کو ڈالر 307 روپے ایک پیسے سے کم ہو کر 276 روپے 63 پیسے پر آگیا جو کہ 40 روز میں 30 روپے 47 پیسے یا 9.9 فیصد کی کمی ہے۔

ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ روپے نے گزشتہ 5 روز کے دوران روپے کی قدر میں 4 روپے کی کمی آئی ہے کیونکہ ایکسپورٹ سے آنے والی آمدنی میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک، 2 اور 3 ماہ کے فارورڈ پریمیم کی آخری بار 200، 300 اور 600 پیسے میں تجارت کی گئی تھی (گزشتہ ہفتے میں یہ 0، 0 اور 90 پیسے پر تھی)۔

فیصل مامسا نے کہا کہ آنے والے ہفتے میں ڈالر 285 روپے پر مستحکم رہتا دکھائی دے رہا ہے، جس میں کبھی کبھار 288 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے، مارکیٹ پُرامید ہے کہ ایک بار جب آئی ایم ایف پاکستان کو کلین چٹ دے دے گا تو روپے کی قدر بحال ہوجائے گی۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں 700 روزہ جنگ بھوک اور بربادی کے ہولناک اعداد و شمار

?️ 6 ستمبر 2025غزہ میں 700 روزہ جنگ بھوک اور بربادی کے ہولناک اعداد و

وزیراعظم کے سیاسی رہنماؤں سے رابطے، بھارت کیخلاف آپریشن پر اعتماد میں لیا

?️ 10 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی رہنماؤں سے رابطے

2050 تک یورپ میں خشک سالی عام ہونے کا خطرہ

?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:  متعدد ماہرین نے یورپی پارلیمنٹ کی ماحولیاتی صحت عامہ اور

عسکریت پسندوں کی ’آمد‘ کے بعد وادی تیراہ میں خوف کا شکار کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور

?️ 13 ستمبر 2022وادی تیراہ: (سچ خبریں)مقامی حکام نے اصرار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا

فلسطینی قومی اور اسلامی تنظیموں کی صیہونیوں کے ساتھ ہمہ گیر تصادم کی اپیل

?️ 28 جولائی 2022سچ خبریں:فلسطینی قوم کے خلاف صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات میں اضافے

اختلاف رائے کو جابرانہ ہتھکنڈوں سے دبانا جمہوری اقدار کی سنگین پامالی ہے، میرواعظ

?️ 21 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

تحریک انصاف جلد اپنی تجاویز باضابطہ طور پرچیف جسٹس کو دے گی، عمرایوب

?️ 22 فروری 2025سرگودھا: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف

غزہ پر ڈھائے گئے ظلم و ستم میں امریکہ اسرائیل کا شریک

?️ 28 نومبر 2023سچ خبریں:نیوز میڈیا کے مطابق قبرس میں برطانوی فوجی اڈے پر تعینات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے