?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی نے اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی جانب سے پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
واضح رہے کہ 6 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کے سابق قائم مقام اسپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قانون سازوں کے استعفوں کی منظوری کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا، تحریک انصاف کی جانب سے اپیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عوام سے تازہ میڈیٹ لینے کے لیے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی اپنے استعفے دے چکے ہیں۔
پی ٹی آئی نے درخواست میں کہا ہے کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اسمبلی فلور پر تحریک انصاف کے 125 ارکان کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا، اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی جانب سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
پی ٹی آئی نے درخواست میں عدالت عظمیٰ سے اسپیکر راجا پرویز اشرف کی جانب سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کو غیرقانونی، غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد 11 اپریل کو پی ٹی آئی کے تمام قانون سازوں نے اجتماعی طور پر استعفے پیش کردیے تھے۔
سابق ڈپٹی اسپیکر اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے قائم مقام اسپیکر قاسم خان سوری نے 15 اپریل کو پی ٹی آئی کے 123 قانون سازوں کے استعفے منظور کیے تھے۔
بعد ازاں، قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے 123 اراکین اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کا عمل آئندہ چند روز میں انفرادی طور پر یا چھوٹے گروپس میں بلا کر شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے اکثر استعفے ہاتھ سے نہیں لکھے ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کے لیٹر ہیڈ پر بھی ایک جیسا متن چھپا ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹریٹ کے عملے کو بھی کچھ ارکان کے دستخط پر شک تھا کیونکہ یہ اسمبلی کے رول پر موجود دستخط سے میل نہیں کھا رہے تھے۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے کم از کم 25 ایم این ایز نے راجا پرویز اشرف کو الگ سے خط لکھ کر ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ وہ وضاحت کر سکیں کہ کن حالات میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔
قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور پروسیجر رولز 2007 کے مطابق کوئی رکن اپنے ہاتھ سے لکھ کر استعفیٰ اسپیکر کو پیش کرسکتا ہے۔
27 جولائی کو اسپیکر کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق پی ٹی آئی کے جن اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے گئے ہیں، ان میں این اے-22 مردان 3 سے علی محمد خان، این اے-24 چارسدہ 2 سے فضل محمد خان، این اے-31 پشاور 5 سے شوکت علی، این اے-45 کرم ون سے فخر زمان خان شامل ہیں۔
پی ٹی آئی کے دیگر اراکین میں این اے-108 فیصل آباد 8 سے فرخ حبیب، این اے-118 ننکانہ صاحب 2 سے اعجاز احمد شاہ، این اے-237 ملیر 2 سے جمیل احمد خان، این اے-239 کورنگی کراچی ون سے محمد اکرم چیمہ، این اے-246 کراچی جنوبی ون سے عبدالشکور شاد بھی شامل ہیں۔
اسپیکر نے خواتین کی پنجاب اور خیبرپختونخوا سے مخصوص نشستوں پر منتخب شیریں مزاری اور شاندانہ گلزار کے استعفے بھی منظور کیے تھے۔
قومی اسمبلی کے ترجمان نے کہا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین پاکستان کی آرٹیکل 64 کی شق (1) کے تحت تفویص اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے استعفے منظور کیے ہیں۔


مشہور خبریں۔
دنیا بھر کے مسلمان مسجد الاقصیٰ کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے: اسلامی جہاد
?️ 5 اپریل 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن احمد
اپریل
شمالی عراق میں اسرائیل کے اسٹریٹجک مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے:صیہونی اخبار
?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:صیہونی کثیر الاشاعت اخبار نے اعتراف کیا کہ عراق کے اربیل
مارچ
اسرائیل کا سفر کرنے والے پاکستانی صحافیوں کی شہریت منسوخ ہو نے کا خطرہ
?️ 18 اپریل 2025سچ خبریں: پاکستانی حکومت نے پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ کے اسرائیل کے
اپریل
پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں لگا سکتے: اسد عمر
?️ 21 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے
مارچ
کیا لبنان کی جنگ عرب لیگ کو خواب غفلت سے جگائے گی؟
?️ 27 ستمبر 2024سچ خبریں: اگرچہ اسلامی ممالک میں اسرائیلی جرائم کی مذمت کے لیے
ستمبر
کیا امریکہ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا ہے؟ امریکی میڈیا کی زبانی
?️ 7 فروری 2024سچ خبریں: امریکی ذرائع نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ آزاد فلسطینی
فروری
نیتن یاہو کی گستاخی کے خلاف شامی شہریوں کے بہادرانہ اقدام
?️ 30 جولائی 2024سچ خبریں: شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان
جولائی
مصر اور صیہونی ریاست کے درمیان پس پردہ کشیدگی؛ رفح کراسنگ کا مستقبل کیا ہوگا؟
?️ 4 جون 2024سچ خبریں: حالیہ مہینوں میں غزہ کی پٹی میں صیہونی ریاست کے
جون