?️
خیبر پختونخوا:(سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اپنی رکنیت ختم ہونے کے چند روز بعد اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کے لیے تیار ہیں۔
پی ٹی آئی کے سابق رہنما پرویز خٹک (جنہوں نے 2018 سے 2022 تک وفاقی وزیر دفاع کے طور پر خدمات انجام دیں) کو پی ٹی آئی کے سابق اراکین اسمبلی کو پارٹی چھوڑنے کی ترغیب دینے کے الزام میں پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا ہے۔
اس پیشرفت سے واقف ذرائع نے بتایا کہ پرویز خٹک کی جانب سے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اپنی پارٹی کے آغاز کا اعلان متوقع تھا لیکن کچھ لوگوں کی لاتعلقی کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا جو پہلے پارٹی میں شامل ہونے پر رضامند ہوگئے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ پرویز خٹک (جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں نوشہرہ کے حلقہ این اے-25 سے کامیابی حاصل کی تھی) اب بھی اپنے سابق پارٹی ساتھیوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور اپنی سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اور کابینہ کے کچھ ساتھی پرویز خٹک سے آئندہ انتخابات میں جیت کی ضمانت اور واضح یقین دہانیاں چاہتے ہیں اور سیاسی خطرہ مول لینے سے گریزاں ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ پرویز خٹک کے ساتھ رابطے میں رہنے والے تقریباً سبھی اراکین نے نئی پارٹی میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن وہ انتخابات میں یقینی جیت کی ضمانت چاہتے ہیں، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت کی کابینہ کا حصہ رہنے والے کچھ ارکان بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، تاہم کچھ سابق اراکین اسمبلی پرویز خٹک کا ساتھ دینے کے بجائے پارٹی کے اندر ایک فارورڈ بلاک بنانا چاہتے ہیں۔
پرویز خٹک (جو 2012 میں پی ٹی آئی میں شامل ہونے سے پہلے 4 برس تک آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی میں تھے) بڑے پیمانے پر ’الیکٹ ایبلز‘ کے گروپ کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں، اب وہ انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں اعلیٰ عہدہ حاصل کرنے کے لیے الیکٹ ایبلز کی بڑی تعداد کو ساتھ ملانے کے خواہاں ہیں۔
تاہم ذرائع نے کہا کہ یہ سب کہنا آسان ہے مگر کرنا مشکل، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بہت سے سابق اراکین صوبائی اسمبلی اور رہنما پارٹی چھوڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ مکمل طور پر پارٹی چیئرمین عمران خان کے سیاسی مستقبل پر منحصر ہوگا، وہ سیاسی منظرنامے میں موجود رہے تو انہیں ڈر ہے کہ اسمبلی نشستیں ان کے پاس ہی رہنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے سابق اراکین اسمبلی، جو پرویز خٹک کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، اب بھی تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں پی ٹی آئی کا سیاسی منظرنامہ غیر واضح ہےکیونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ تاحال نہیں ہوا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پرویز خٹک کو پارٹی کا صوبائی صدر بنایا گیا تھا، رواں برس 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے پیش نظر پرویز خٹک نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، 21 جون کو پی ٹی آئی نے انہیں پارٹی کارکنوں سے رابطہ کرنے اور مبینہ طور پر پارٹی چھوڑنے پر اکسانے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ ’یہ پارٹی قیادت کے نوٹس میں آیا ہے کہ آپ پارٹی کے ارکان سے رابطہ کر رہے ہیں اور انہیں پارٹی چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں‘، تاہم انہوں نے اس نوٹس کا کوئی جواب نہیں دیا جس کے بعد رواں ہفتے کے آغاز میں پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کر دی۔
گزشتہ ماہ یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کے سابق اراکین اسمبلی اور دیگر اہم شخصیات سے کئی ملاقاتیں کیں اور انہیں پارٹی چھوڑنے پر آمادہ کیا۔
خیبرپختونخوا میں پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پرویز خٹک کی جانب سے پارٹی اراکین سے رابطے کا علم ہوگیا تھا اور انہوں نے کہا کہہ دیا تھا کہ جو لوگ دباؤ اور گرفتاری برداشت نہیں کر سکتے وہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔
تاہم عمران خان نے دیگر اراکین کو پی ٹی آئی چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے پرویز خٹک کی کوششوں کا بھی سخت نوٹس لیا، اسی وجہ سے پرویز خٹک کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے پرویز خٹک سے رابطے کی بار بار کوشش کی گئی تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کی ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے مسودے میں بار بار نظر ثانی کی وجہ کیا ہے؟
?️ 31 مئی 2026 سچ خبریں:نیویارک ٹائمز اخبار نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ
مئی
حکومت کا کیپٹو پاور پلانٹس کو نیشنل گرڈ میں ضم کرنے کا فیصلہ
?️ 31 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صنعتی کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کو
جنوری
صنعا حکومت کے ترجمان: یمن کا جواب قریب ہے/ تل ابیب کو ہمارے جواب کا انتظار کرنا چاہیے
?️ 17 ستمبر 2025سچ خبریں: یمن کی حکومت کی تبدیلی اور تعمیر کے ترجمان نے
ستمبر
کیا امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعاون جاری ہے؟امریکی سفیر کی زبانی
?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا ہے
جولائی
صیہونی حکومت کی جارحیت کے بارے میں شام کا موقف
?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں: عبوری حکومت کے بعد کے شام جس مرحلے سے گزرے گا،
دسمبر
ٹرمپ کا ایران کے جوہری تاسیسات کے مکمل تباہی کے بارے میں متنازعہ دعویٰ!
?️ 21 ستمبر 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ، صدر امریکا نے جون میں ایران کے جوہری تاسیسات
ستمبر
وزیراعظم شہباز شریف 17 ستمبر سے سہ ملکی دورہ کریں گے
?️ 15 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف
ستمبر
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تہران اور اسلام آباد کے درمیان تعاون میں وسعت
?️ 30 اکتوبر 2021سچ خبریں: پریس ٹی وی کے میزبان، مرضیہ ہاشمی کے ساتھ ایک
اکتوبر