پیکا ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔

شہری محمد قیوم خان کی جانب سے پیکا ایکٹ کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست میں صدر پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور سیکریٹری قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ میں حالیہ ترمیم بنیادی انسانی حقوق اور آئین سے متصادم ہے، اور پیکا ایکٹ کی شقیں آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کے برخلاف ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیکا ایکٹ کی شقوں کا فل کورٹ کے ذریعے جائزہ لیا جائے، سپریم کورٹ کا فل کورٹ انسانی بنیادی حقوق کی روشنی میں پیکا ایکٹ کا جائزہ لے۔

واضح رہے کہ 29 جنوری صدر مملکت آصف زرداری نے پیکا ترمیمی بل 2025 پر دستخط کردیے تھے، جس کے بعد پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قانون بن گیا ہے۔

23 جنوری کو قومی اسمبلی نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا تھا، جبکہ یہ بل سینیٹ سے 28 جنوری کو منظور ہوا تھا۔

صحافتی تنظمیوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل مسترد کردیا تھا اور اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت قومی اسمبلی سے مشاورت کے بغیر متنازع بل منظور کروا کر ‏وعدہ خلافی کی مرتکب ہوئی ہے، اس بل کا محور صرف سوشل میڈیا نہیں بلکہ اس کا ہدف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ہیں جس کا مقصد اختلاف رائے کو جرم بنا دینا ہے۔

31 جنوری کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ( پی ایف یو جے) کی کال پر صحافتی تنظیموں نے ملک بھر میں یوم سیاہ منایا تھا، نماز جمعہ کے بعد کراچی، لاہور اسلام آباد، کوئٹہ، سکھر، کندھکوٹ اور جیکب آباد سمیت دیگر شہروں میں صحافتی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 22 جنوری کو پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

دی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (ترمیمی) بل 2025 میں سیکشن 26 (اے) کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت آن لائن ’جعلی خبروں‘ کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی، ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلاتا ہے، یا کسی دوسرے شخص کو بھیجتا ہے، جس سے معاشرے میں خوف یا بےامنی پھیل سکتی ہے، تو اسے تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

پیکا ایکٹ ترمیمی قانون 2025 کے مطابق سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہوگا، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کیے جائیں گے۔

ترمیمی ایکٹ کے مطابق اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کی منسوخی، معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی جب کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنائے گی۔

پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہوگی، سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کا متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں اتھارٹی کو درخواست دینے کا پابند ہو گا۔

ایکٹ کے مطابق اتھارٹی کل 9 اراکین پر مشتمل ہو گی، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پیمرا، چیئرمین پی ٹی اے (یا چیئرمین پی ٹی اے کی جانب سے نامزد کردہ کوئی بھی رکن) ہوں گے، بیچلرز ڈگری ہولڈر اور متعلقہ فیلڈ میں کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنے والا شخص اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا جاسکے گا، چیئرمین اور 5 اراکین کی تعیناتی پانچ سالہ مدت کے لیے کی جائے گی۔

حکومت نے اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ایکس آفیشو اراکین کے علاوہ دیگر 5 اراکین میں 10 سالہ تجربہ رکھنے والا صحافی، سافٹ وئیر انجینئر بھی شامل ہوں گے جب کہ ایک وکیل، سوشل میڈیا پروفیشنل نجی شعبے سے آئی ٹی ایکسپرٹ بھی شامل ہو گا۔

ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کرے گی، ٹربیونل کا چیئرمین ہائی کورٹ کا سابق جج ہو گا، صحافی، سافٹ ویئر انجینئر بھی ٹربیونل کا حصہ ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

عمران خان کیسے کہہ سکتے ہیں کوئی آرمی چیف محب وطن ہے یا نہیں، جسٹس اطہر من اللہ

?️ 5 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی

ٹرمپ کے نوبل امن انعام کی حمایت کرنے والے ممالک کے ناموں کی اشاعت

?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے نوبل امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی فوجی اڈے عرب ممالک کے نہیں بلکہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے ہیں:عطوان

?️ 18 ستمبر 2025امریکی فوجی اڈے عرب ممالک کے نہیں بلکہ اسرائیل کے تحفظ کے

زیادہ تر اسرائیلی کیا چاہتے ہیں؟

?️ 20 مارچ 2024سچ خبریں: Axios نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیلیوں

پاکستان نے اسرائیلی وزیر اعظم کے گریٹر اسرائیل کے بیان کو مسترد کر دیا 

?️ 16 اگست 2025پاکستان نے اسرائیلی وزیر اعظم کے گریٹر اسرائیل کے بیان کو مسترد

پاکستانی متحد، سیسہ پلائی دیوار، بھارتی بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی

?️ 28 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خاں نے کہا کہ

’فوری جنگ بندی کی جائے‘، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف سینیٹ میں مذمتی قرارداد منظور

?️ 1 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی ایوان بالا میں غزہ میں جاری اسرائیلی

کچھ سیاسی عناصر بنوں واقعے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟بیرسٹر سیف کیا کہتے ہیں؟

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے