پس پردہ مذاکرات کی باز گشت کے باوجود پی ٹی آئی اور حکومت کا موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بدستور الجھنوں میں کی زد میں ہیں جہاں ایک طرف پس پردہ مذاکرات کی خبریں زیر گردش ہیں تو دوسری جانب دونوں فریقین نے قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے ایک دوسرے کی مخالفت کی روش برقرار رکھی ہوئی ہے۔

 جمعہ کے روز متعدد نجی ٹی وی چینلز نے رپورٹ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور حکومت نے صدر عارف علوی کو ’ایک ایک نمائندہ‘ بھیجا ہے۔

لیکن اگر بات چیت ہوئی بھی ہیں تو بظاہر ابتدا میں ہی اس دشواریاں حائل ہو گئی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ بیٹھنے اور مذاکرات سے پہلے قبل از وقت انتخابات کرانے کے مطالبے پر ڈٹی رہی۔

ڈان کے رابطہ کرنے پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے مذاکرات کے آغاز کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی باضابطہ بات چیت شروع نہیں ہوئی اور انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ اس مقصد کے تحت کوئی نمائندہ بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ چاہے مذاکرات کھلے عام ہو رہے ہیں یا پس پردہ، ہمارا واضح موقف ہے کہ اگر حکومت قبل از وقت انتخابات کے انعقاد پر راضی ہوتی ہے تو ہی ہم مذاکرات کے لیے بیٹھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف اسی صورت میں ہم انتخابات پیچیدگیوں کو حتمی شکل دینے کے لیے مل کر بیٹھ سکتے ہیں۔

فواد چوہدری نے تسلیم کیا کہ کسی حکومت کو اس کی مدت ختم ہونے سے پہلے تحلیل کرنا ’غیر آئینی‘ ہے لیکن ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی موجودہ حکومت کو ’معیشت کو مزید تباہ کرنے‘ کی اجازت نہیں دے سکتی۔

انہوں نے اپنی پارٹی کے فیصلے کو بھی دہرایا اور کہا کہ اگر حکومت نے قبل از وقت انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو دسمبر کے آخر تک پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی۔

دریں اثنا، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ ’غیر مشروط‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری حکومت پہلے ہی صدر عارف علوی کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کر رہی ہے۔

لیکن ان کے اس دعوے کے باوجود حکومت کے ایک ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی باضابطہ بات چیت شروع نہیں ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اس مقصد کے لیے کسی نمائندے کو نامزد نہیں کیا ہے.

مشہور خبریں۔

جرمن وزیر خارجہ نے فوری طور پر بھرتی میں واپسی کا مطالبہ کیا

?️ 1 اکتوبر 2025سچ خبریں: نئے خطرناک حالات کے پیش نظر جرمن وزیر خارجہ نے

کابل اور ننگرہار میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات

?️ 17 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے

پاکستان نے سکیورٹی خطرات کے درمیان افغانستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہ بند کردی

?️ 30 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایک سینیئر پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے

2022 ترکی کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا

?️ 30 دسمبر 2022سچ خبریں:    زیادہ تر ترک تجزیہ کار کا ماننا ہے کہ

جرمن سیاست دان: برلن کو بلا شرط اسرائیل کا ساتھ نہیں دینا چاہیے

?️ 25 مارچ 2026سچ خبریں: جرمنی کے سابق پارلیمانی رکن اور صحافی نے ملک کے

پاور پلانٹس کے لیے کوئلے کی درآمد پر سوالات اٹھ گئے

?️ 13 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت اور آئی ایم ایف کی لوکلائزیشن اور

حزب اللہ کے ہتھیاروں کے خلاف امریکی ایلچی کی نئی بیان بازی

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن کے خصوصی نمائندہ برائے شام ٹام باراک نے دعویٰ

ہیلری کلنٹن: امریکہ ایران کے مقابلے میں بہت کمزور موقف کا حامل ہے

?️ 14 اپریل 2026سچ خبریں: ہیلری کلنٹن، سابقہ امریکی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے