?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آج ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کو کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے، اور ہمیں کھل کر اہل فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ایران اگر اسرائیل کو جواب دے رہا ہے تو اس کے ہاتھ روکے جا رہے ہیں، اسی طرح پاکستان اگر بھارت کو جواب دیتا ہے تو پاکستان کے ہاتھ روکے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور اسرائیل مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں تو انہیں کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے، دوستوں سے معذرت کے ساتھ کہ اسے پاکستان اور بھارت کی جنگ نہ کہا جائے، یہ پاک-مودی جنگ تھی، جس میں پاکستان متحد تھا لیکن مودی کو اپنے عوام کی حمایت حاصل نہیں تھی۔
سربراہ جے یو آئی (ف) کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اکیلے ہندوتوا کارڈ کھیل رہا تھا اور ایک سرکار پاکستان پہ حملہ کر رہی تھی، بھارت کی اپوزیشن، سکھ اور مسلمان اقلیت نے حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ جو جنگ لڑے گا اور قوم ساتھ نہیں ہوگی تو وہ انجام ہوگا جو بھارت کا ہوا، آپ بنگال میں جنگ لڑ رہے تھے تو قوم اپ کے ساتھ نہیں تھی، تو نتیجہ کیا نکلا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آج کو ہم آپ کے ساتھ تھے تو دیکھ لیں نتائج کیا سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خطے میں ایران کو اعتماد میں لینا ہوگا، ہمیں خطے کے لیے سوچ سمجھ کر پالیسی بنانی ہوگی، آج ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کو کھل کر ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے، ہمیں کھل کر اہل فلسطین کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یاد رکھیں یہود اور ہنود ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، اسرائیل کئی مسلم ممالک پر حملہ کر چکا ہے، ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فلسطین، لبنان، شام، عراق، ایران اور اب پاکستان اور پاکستان کی ایٹمی قوت تباہ کرنا ان کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔
امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اظہار خیال کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم خطے کی ممالک کے ساتھ انگیج نہیں ہو رہے، ہمیں اس حوالے سے بھی مؤثر پالیسی بنانی ہوگی، آج دوست ممالک ہم سے دور ہو رہے ہیں اور وہ گرم جوشی نہیں رہی جو ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ممبران اپنے حل کو کے مسائل کی بات کرتے ہیں، وزیراعظم نے جن منصوبوں کا خود افتتاح کیا تھا آج ان کے فنڈز روک دیے ہیں، اب بتائیں کہ ہم کس سے امید رکھیں؟
انہوں نے کہا کہ اللہ کی حاکمیت کے نیچے اس کی نیابت ہم کر رہے ہیں، کیا اسے کہتے ہیں اللہ کی نیابت کہ ہم قانون پاس کریں، قران و سنت کی بجائے اقوام متحدہ تابع۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم قانون سازی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے تابع کر رہے ہیں، میرا ملک چلانے والوں کی حالت یہ ہے کہ ان پر فاتحہ پڑھ لی جائے، کیا یہ لوگ میرے ملک کو چلائیں گے؟
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں انقلاب چاہیے، روایتی سیاست کا دور اب ختم ہو چکا، عوام کو بیدار کرو اور شعور اجاگر کرو تاکہ وہ اپنے مسائل کے لیے آواز بلند کر سکیں ۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ اللہ کرے کہ ہم اپنی روش پر نظر ثانی کریں، اپنے ملک میں جمہوری روش کو بحال کریں، سیاست دانوں کے ساتھ انتقامی رویہ نہ رکھیں اور ملک میں انصاف پر مبنی نظام ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت قوت کے استعمال سے بہتر نہیں ہوگی، معیشت قوم کو انصاف مہیا کرنے سے بہتر ہو سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
صیہونیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصی کے امام گرفتار
?️ 10 مارچ 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کی قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں یروشلم
مارچ
نیتن یاہو امریکہ گئے یا طلبی ہوئی؟صیہونی تجزیہ کاروں کی زبانی
?️ 9 اپریل 2025 سچ خبریں:صیہونی تجزیہ کاروں اور تل ابیب کے میڈیا کے مطابق،
اپریل
جنگ کی دلدل کے بیچ میں گیلنٹ کی برطرفی کے ساتھ نیتن یاہو کا فرار
?️ 6 نومبر 2024سچ خبریں: امریکی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے چند گھنٹے قبل
نومبر
عراقی سیاسی کونسل کا مطالبہ،پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے
?️ 15 دسمبر 2025 عراقی سیاسی کونسل کا مطالبہ، پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس جلد از
دسمبر
فلسطین میں غاصبوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا جائے: تحریک مجاہدین
?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:فلسطینی مجاہدین تحریک نے صہیونی آبادکار کے ہاتھوں علاء خلیل قیسیہ
مئی
امریکی سفیر کا فرانس سے خطا
?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: امریکہ کے سفیر مائیک ہیکابی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں
اگست
رمضان کے مقدس مہینے میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے سید حسن نصر اللہ کی سفارشات
?️ 26 مارچ 2023سچ خبریں:رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد کے موقع پر اپنے
مارچ
غزہ میں پاکستانی افواج بھیجنے کا معاملہ زیر غور، حتمی فیصلہ نہیں ہوا، وزیر دفاع
?️ 29 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ
اکتوبر