?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں عرب ممالک کے ساتھ مل کر غزہ استحکام فورس کے امریکی منصوبے پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرارداد میں فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق اور آزاد ریاست کے قیام کو بھی شامل کیا جائے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں عرب ممالک کے ساتھ مل کر امریکا کے پیش کردہ غزہ استحکام فورس کے منصوبے پر سوالات اٹھائے ہیں اور زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کی کسی بھی قرارداد میں صرف فورس کا ذکر نہیں بلکہ فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی وضاحت ہونی چاہیے۔
سفارتی ذریعے کے مطابق پاکستان، عرب ممالک کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ قرارداد میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی تصدیق ہونی چاہیے، مزید اسرائیلی قبضے کو روکا جائے اور یہ بات یقینی بنائی جائے کہ غزہ اور مغربی کنارہ ایک ہی آزاد فلسطینی ریاست کا حصہ رہیں۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب سلامتی کونسل کے دو مستقل رکن ممالک چین اور روس نے امریکی مسودے پر غور کے لیے جاری خاموشی کی مدت ختم کر دی۔
دونوں ممالک نے کہا کہ مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کا مینڈیٹ واضح نہیں ہے اور یہ فورس براہِ راست اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونی چاہیے، انہوں نے بورڈ آف پیس (بی او پی) سے متعلق مزید تفصیلات بھی مانگیں۔
اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ چین اور روس چاہتے ہیں کہ سلامتی کونسل، آئی ایس ایف پر مکمل اختیار رکھے اور اس کے کام کی حدود طے کرے، ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی امن فورس اقوامِ متحدہ کے نظام سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔
امریکی مسودے کے پہلے ورژن جسے ریویژن 1 کہا جاتا ہے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو شامل کیا گیا ہے، اس کے مطابق ایک بورڈ آف پیس (بی او پی) قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے تاکہ غزہ کی تعمیرِ نو اور غیر مسلح کرنے کے عمل کی نگرانی کی جا سکے۔
تاہم، اس منصوبے کو کئی ممالک کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے قانونی خدشات ظاہر کیے ہیں، اردن نے اپنی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، جب کہ آذربائیجان نے کہا ہے کہ وہ صرف فائر بندی کی تصدیق کے بعد ہی شامل ہوگا اور اسرائیل کے دباؤ پر ترکیہ کو اس منصوبے سے باہر رکھا گیا ہے۔
انڈونیشیا اور پاکستان جیسے ممالک جو شرکت پر غور کر رہے ہیں وہ بھی محتاط ہیں، ایک سفارتکار نے بتایا کہ یہ ممالک نہیں چاہتے کہ دنیا انہیں اسرائیلی فوج کے ذیلی دستے کے طور پر دیکھے جن کا مقصد صرف حماس کو غیر مسلح کرنا ہو۔
اسرائیل نے بھی شکایت کی ہے کہ اس کا کردار صرف امداد اور لاجسٹکس کے انتظامات تک محدود کر دیا گیا ہے، بجائے اس کے کہ وہ فورس کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرے۔
دوسری جانب عالمی بینک نے امریکی منصوبے کی حمایت کی ہے، بینک کے صدر اجے بانگا نے واشنگٹن کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ وہ بی او پی کے دو سالہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں اور غزہ کی تعمیرِ نو کے فنڈز کے انتظام کے لیے تیار ہیں، اندازہ ہے کہ تعمیرِ نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
امریکا کے اندر بھی اس منصوبے پر شکوک ہیں۔ پولیٹیکو کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق اسرائیل کے جنوبی علاقے میں منعقد ایک امریکی سیمینار میں ماہرین اور حکام نے فورس کی تعیناتی پر خدشات ظاہر کیے، خاص طور پر فوجی افرادی قوت اور علاقائی حمایت حاصل کرنے کے حوالے سے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ خدشات حکومت کے اندر بھی پائے جاتے ہیں، تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ایڈی واسکیز نے کہا کہ سب لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ امن کوشش کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکا اب قرارداد کا نیا ترمیم شدہ مسودہ تیار کر رہا ہے جسے آئندہ ہفتے سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ایک سفارتکار نے کہا کہ امریکا اپنے منصوبے پر قائم ہے، مگر سلامتی کونسل کے اندر اختلافات کی وجہ سے یہ عمل توقع سے زیادہ وقت لے سکتا ہے۔
اس بحث میں شامل تمام ممالک نے امریکی مسودے پر اپنے تحریری تبصرے جمع کروائے اور اپنی آرا پیش کیں۔


مشہور خبریں۔
ابرار الحق نے کیا کوہ پیما سدپارہ کے دیرینہ خواب کو پورا کرنے کا فیصلہ
?️ 15 فروری 2021کراچی {سچ خبریں} موسم سرما میں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑK2
فروری
عمان میں بھارتی طیارے میں آگ لگنے سے زخمی مسافر
?️ 14 ستمبر 2022سچ خبریں: عمانی میڈیا نے آج شام بدھ کو اطلاع دی کہ
ستمبر
فلسطینی میزائلوں کے سامنے ڈھیر ہوتا اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم
?️ 19 مئی 2021(سچ خبریں) مقبوضہ علاقوں میں صہیونی عہدوں پر مزاحمتی راکٹ حملوں کا
مئی
یمن کی تقدیر خلیج تعاون کونسل سے منسلک ہے :ریاض
?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں: یمن کے بحران کے حل کے بہانے سعودی عرب میں
اپریل
کیا تیسری عالمی جنگ ہونے والی ہے؟ٹرمپ کا اظہار خیال
?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: سابق امریکی صدر اور 2024 کے صدارتی انتخابات کے امیدوار
اکتوبر
کچھ لوگ یمنی جنگ میں شکست کا بدلہ لبنان سے لینا چاہتے ہیں: حزب اللہ
?️ 31 اکتوبر 2021سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ میں سربراہ محمد رعد نے کہا کہ آج ہمیں
اکتوبر
تجارتی جنگ کے بارے میں ٹرمپ کا ایک اور متنازعہ بیان
?️ 13 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک کو غیر معمولی
اپریل
لانگ مارچ کے دوران جو کچھ ہوا وہ دلخراش مناظر لوگ نہیں بھولے، شہبازشریف
?️ 25 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پاکستان
جنوری