پارلیمنٹ سے ارکان کی گرفتاری پر وزیراعظم اور وزیرداخلہ استعفیٰ دیں، پی ٹی آئی سینیٹر

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر سے ارکان اسمبلی کی گرفتاری پر وزیراعظم اور وزیر داخلہ استعفیٰ دیں، اب صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا جب کہ طاقت کا استعمال کرکے حکومت سمجھتی ہے کہ وہ بہادر ہے تو یہ غلط فہمی ہے، ہماری قوت برداشت کو بزدلی سمجھنا بند کردیں۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، اس دوران وفقہ سوالات وجوابات میں سینیٹر انوشہ رحمٰن نے سوال کیا کہ ایگنائیٹ کے سی ای او کی تقرری کب تک ہو جائے گی۔

جس پر وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے جواب دیا کہ اگلے ہفتہ تک سی ای او کے تقرری کے لیے انٹرویو ہوں گے، کافی عرصہ سے سی ای او کی پوزیشن خالی ہے، جس سے کام سست روی کا شکار ہوا جب کہ ایسا نہیں کہ ادارے کا کوئی سربراہ ہی نہیں ہے لیکن کوئی مستقل سی ای او نہیں تھا۔

وزارت ہوا بازی کی جانب سے تحریری طور پر جمع کرائے گئے جواب کے مطابق کراچی ائیرپورٹ پر اس وقت 18 طیارے (پارک) کھڑے ہوئے ہیں، 9 جہازوں کو مستقل گراونڈ کیا گیا ہے اور ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی۔

’پاکستان کسٹمز سے این او سی نہ ملنے پر 5 طیارے مستقل طور پر گراونڈ کئے گئے، دو طیارے ضروری مرمت کے بعد لیز کے تحت قابل واپسی ہیں، 2 طیارے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے پارک ہیں‘۔

وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے فائر وال کی تنصیب پر تحریری جواب جمع کرادیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) قومی سطح پر کسی بھی فائر وال منصوبے کی فنڈنگ خریداری تعیناتی یا آپریشنز میں ملوٹ نہیں ہے۔

جواب میں کہا گیا کہ اگست میں وٹس ایپ کی سست روی کی شکایات آئیں، وٹس ایپ کی سست روی کا آپریٹرز سے معاملہ اٹھایا گیا ہے، ستمبر کے پہلے ہفتے میں آپریٹرز نے بتایا واٹس ایپ سے متعلق مسائل حل ہوچکے ہیں۔

وزارت آئی ٹی نے جعلسازی پر مبنی رابطہ کرنے پر بلاک سموں کی تفصیل تحریری طور پر جمع کرادی جس کے مطابق پی ٹی اے نے 25 جولائی 2023 کو کچے کے ڈاکووں کے زیر استعمال 465 موبائل سمیں بند کیں۔

جواب میں کہا گیا کہ سال 2023-24 میں 5294 سمز بلاک کی گئیں، 4507 آئی ایم ای آئی بلاک کی گئیں، پی ٹی اے نے 19 ہزار 730 موبائل نمبرز کو وزارننگ جاری کیں، 113 بلیک لمیٹڈ شناختی کارڈر بلاک کیے گئے۔

اس دوران وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار ملک میں جو آرہی ہے، اس طرح سے نہیں ہے جیسے ہونی چاہیے، انٹرنیٹ کی سست روی کے حوالے سے کچھ مسائل کا سامنا ہے، کچھ اسپیکٹرم کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ میں مسئلہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل آئ ٹی اینڈ ٹیلی کام سیکٹر سے رابطہ میں ہیں تاکہ مسائل حل ہوسکیں، ابھی بھی ایک سب میرین کیبل میں مسئلہ ہے، جو اکتوبر کے آخر تک ٹھیک ہو جائے گی۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ہماری یوتھ کی بنیاد انٹرنیٹ ہے، کوشش ہے کہ ہر گھر تک انٹرنیٹ کو فراہم کریں، پی ٹی اے ایک ویب منیجمنٹ سسٹم آپریٹ کرتا ہے، وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایکس (ٹوئٹر) بلاک ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل جلد ایوان میں پیش کریں گے، پی ٹی اے وی پی این کو رجسٹرڈ کررہا ہے، پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے مسائل ہیں، فنانشل فراڈ سے متعلق بھی مسائل کا سامنا ہے، کسی بھی صورت بزنس کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ رحیم یار خان اور ڈی جی خان کے علاقوں ڈیٹا سروس کو معطل کیا گیا، وزارت داخلہ کی ہدایت پر ان علاقوں میں ڈیٹا سروس معطل کی گئی، پاکستان میں گرے ٹریفک کا مسئلہ ہے تاہم حکومتی کوششوں کی وجہ سے گرے ٹریفک میں کمی واقع ہورہی ہے۔

بعد ازاں، سینیٹ سے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ایکٹ میں ترمیمی بل 2024 منظور کی گئی، وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ایکٹ میں ترمیمی بل 2024 پیش کیا جو کثرت رائے سے منظور ہوگیا۔

یاد رہے کہ سینیٹ سے پہلے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ایکٹ میں ترمیمی بل 2024 قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا ہے۔

بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 سینیٹ میں پیش کیا گیا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا۔

سینیٹر جان محمد نے کہا کہ بھنگ کنٹرول اتھارٹی بل کے ذریعے صوبوں کو ریگولیٹ نہیں کرسکتے جس پر سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بھنگ پر صوبوں کو قانون سازی کرنے دیں، چرس غریبوں کا نشہ ہے، بلوچستان میں چرس پیے بغیر ڈرائیو ٹرک نہیں چلا سکتے۔

سینیٹ سے بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تاہم بھنگ کنٹرول اتھارٹی کا اکاونٹ اسلامک بنکس میں کھولنے کی اپوزیشن کی ترمیم مسترد کردی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی جرات کرنے والوں کو پارلیمنٹ کے اندر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر گرفتار کیا گیا، میں ڈرتا ہوں اس دن سے حکومت کو اس سب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ مقدس ہے، آئین و قانون سازی کا ادارہ ہے، نام نہاد جمہوریت کے اس دور میں بڑی ذلت سے پی ٹی آئی ارکان کو گرفتار کیا ہے، ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرکے ہمیں اوقات دکھائی گئی۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے بڑی وضاحت سے کہا کہ رول آف لا کی حکمرانی کے لیے کھڑے رہنا ہے، عمران خان نے کہا احتجاج پرامن طریقہ سے کرنا ہے، طاقت، اختیار کے استعمال سے حکومت سمجھتی ہے کہ وہ بہادر ہے تو یہ غلط فہمی ہے، ہماری قوت برداشت کو بزدلی سمجھنا بند کردیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ اتنے خوف زدہ ہیں کہ انٹرنیٹ بند کر دیتے ہیں، عمران خان نے قوم کے لیے اہم پیغام دیا کہ کہ ہم لاہور کا جلسہ ہر صورت میں کریں گے، حکومت چاہے جلسہ کا این او سی دے یا نہیں ہمارا جلسہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے قوم کو کہا کہ سٹرکوں پر نکل کر احتجاج ریکارڈ کروائیں، پارلیمنٹ کے اندر سے ارکان اسمبلی کی گرفتاری پر وزیراعظم اور وزیر داخلہ استعفیٰ دیں، اب صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا۔

مشہور خبریں۔

پاکستان میں کورونا  مثبت کیسز کی شرح  3 فیصد سے تجاوز کر گئی

?️ 9 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان میں کورونا وائرس نے ایک بار پھر پنجے

عیدالاضحی پر ملک بھر میں ویکسینیشن سینٹرز ایک دن بند رہیں گے

?️ 17 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وفاقی حکومت نے ملک بھر میں کورونا ویکسینیشن سینٹرز

غزہ دوبارہ تعمیر ہوگا، نیتن یاہو اپنے مقاصد میں ناکام رہا

?️ 12 اکتوبر 2025غزہ دوبارہ تعمیر ہوگا،نیتن یاہو اپنے مقاصد میں ناکام رہا  فلسطینی امور

مسجد الاقصیٰ مزاحمت کا قطب نما اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کا مرکز ہے:حماس

?️ 7 اکتوبر 2026سچ خبریں:حماس نے طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ کے موقع پر کہا

فن لینڈ کا فرانس کے یورپی جوہری دفاعی منصوبے میں شمولیت کا اعلان

?️ 14 ستمبر 2026سچ خبریں:فن لینڈ نے یورپ کی جوہری قوت مدافعت مضبوط بنانے کے

سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے نتائج کا اعلان عوام کے سامنے کیا جائے گا:الحوثی

?️ 11 اپریل 2023سچ خبریں:یمن کی سپریم سیاسی کونسل کے رکن نے کہا ہے کہ

مسجد اقصیٰ پر تسلط سے لے کر قرآن کی مخالف تک

?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں:جمعرات کے روز سیکڑوں صیہونی آباد کاروں نے سخت حفاظتی اقدامات

امریکہ کے لیے 2022 ایک مشکل سال

?️ 26 دسمبر 2021موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 میں امریکہ کو بڑے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے