ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، عمران خان

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔

لاہور پریس کلب کی نومنتخب گورننگ باڈی اور سینئیر صحافیوں کی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی جہاں انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت سے زیادہ پیچھے بیٹھے لوگوں کا الیکشن کے لیے راضی ہونا ضروری ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے اور اگر آئندہ عام انتخابات میں کوئی پولیٹکل انجینئرنگ کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں سب سے بڑی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی مجھے الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہا۔

پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم صرف ڈرائنگ روم کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔

سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس ملک پر بڑا ظلم کیا اور ہم دیوالیہ کے قریب کھڑے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) قمر باجوہ سے ہماری حکومت کے اچھے تعلقات رہے مگر ان کے نزدیک سیاست دانوں کی کرپشن بے معنیٰ تھی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین میں ترمیم کر کے 11 سو ارب روپے کی کرپشن کے کیسز ختم کر دیے گئے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مفادات بیرون ملک ہیں جب دونوں خاندانوں کے مفادات پاکستان سے نہیں ہیں تو ان سے میثاق معیشت کیسے کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں 5فیصد دیوالیہ کا خطرہ تھا جو اب 90فیصد ہو چکا ہے،ملک پر قبضہ گروپ کا راج اور جنگل کا قانون ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی قائم کیے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ عمران خان نے نے کہا ملک میں استحکام کا واحد حل شفاف انتخابات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب نہیں تھے لیکن آخر میں آکر قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ حسین حقانی پیسے پاکستان سے لے رہے تھے لیکن وہاں لابنگ حکومت کے خلاف کر رہے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان سے بات چیت نہ کی گئی تو ملک میں دہشت گردی کی لہر میں اضافہ ہوسکتا ہے، مزید کہا کہ جس طرح میڈیا میرے دور میں مہنگائی پر بولتا تھا آج وہ میڈیا خاموش ہے۔

مشہور خبریں۔

داسو واقعہ میں دہشت گردی کا پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: فواد چوہدری

?️ 15 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے داسو واقعے

امریکہ کی موجودگی سے عراق کو کیا نقصان ہے؟

?️ 10 فروری 2024سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے اس ملک سے امریکی

ترکی میں ملازمین اور کارکنوں کی عام ہڑتال کی وجوہات

?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: ملازمین اور مزدور یونینوں نے اجرتوں میں اضافے کے مذاکرات

مریم نواز کی ٹیکنِیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ فلڈ ریلیف کیمپ میں متاثرین سے ملاقات

?️ 22 ستمبر 2025بہاولنگر (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی بہاولنگر میں ٹیکنیکل

اپوزیشن نے اپنے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا: سبطین خان

?️ 17 مارچ 2021لاہور (سچ خبریں) صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان نے کہا ہے کہ

میرے بیٹے بہت پریشان تھے: عمران خان

?️ 10 نومبر 2022لاہور: (سچ خریں) عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے نے جہاں

یوم قدس اسرائیل کے لیے ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک

?️ 12 اپریل 2023سچ خبریں:عرب دنیا کے ماہر کا کہنا ہے کہ یہ سال دیگر

گہری امریکی سفارت کاری؛ سیاسی دباؤ کے ساتھ عراقی انتخابات میں ناکامی کی تلافی

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: بغداد نے حالیہ دنوں میں سینیئر امریکی سفارت کاروں کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے