نیب ترامیم فیصلے کے بعد عمران خان نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بریت کی درخواست دائر کردی

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے سپریم کورٹ کے قومی احتساب بیورو(نیب) قانون میں ترامیم بحالی کے فیصلے کے بعد اپنے خلاف درج 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں رعایت مانگ لی۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 190ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی نے 190ملین پاونڈ ریفرنس میں بریت کی درخواست دائر کردی، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم فیصلے کے بعد 190ملین پاونڈ کا کیس بنتا ہی نہیں، نیب ترامیم میں کابینہ کے تمام فیصلوں کو تحفظ حاصل ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت کا اس کیس میں دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں، اگر عدالت کا اس کیس میں دائرہ اختیار ہے تو پھر بریت کی درخواست سنی جاسکتی ہے۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج ہی نہیں کیا ہے، عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کرنا عدالت کی صوابدید ہے۔

اس دوران احتساب عدالت نے 190ملین پاونڈٰ ریفرنس کی سماعت ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ کیا، احتساب عدالت نے وقفے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور درخواست بریت پر سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاقی حکومت سمیت دیگر متاثرین کی انٹراکورٹ اپیلیں منظور اور نیب ترامیم بحال کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نیب ترامیم کو آئین سے متصادم ثابت کرنے میں ناکام رہے جب کہ سابق وزیر اعظم نے اس فیصلے سے متعلق کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کے فیصلے سے توشہ خانہ ٹو کیس ختم ہو گیا۔

اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو این آر او ٹو مبارک ہو، مجھے تو اس فیصلے پر خوشی منانی چاہیے، 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس کے خلاف اس لیے گئے کہ یہ کیسز ہم نے نہیں بنائے تھے، شہباز شریف کے تمام کیسز پرانے تھے، صرف مقصود چپڑاسی کا شوگر اسکینڈل کیس ہمارے دور میں بنا، عوامی نمائندے قانون پاس کر کے اپنے کرپشن کیس ختم کر رہے ہیں، عوامی نمائندوں کا کام قوم کے پیسے کا تحفظ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب ترامیم کے ذریعے وائٹ کالر کرائم پکڑنا ناممکن بنا دیا گیا ہے، اس قانون سے چوری کے راستے کھول دیے گئے ہیں، اڈیالہ جیل میں 7 ہزار قیدی ہیں، اس قانون سے ان میں سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب ترامیم سے اربوں کی چوری کرنے والوں کا فائدہ ہے۔

مشہور خبریں۔

لبنان میں صیہونی جرائم پر امریکہ بھی بولنے پر مجبور

?️ 24 اکتوبر 2024سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے دعوی کیا

پاناما پیپر لیکس میں ایف بی آر کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ سپریم کورٹ

?️ 17 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ پاناما پیپرز

بحرین صیہونی ہتھیار خریدنے میں سرفہرست

?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ

برطانوی ولی عہد کی اہلیہ کینسر میں مبتلا

?️ 25 مارچ 2024سچ خبریں: انگلینڈ کے ولی عہد کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے ایک

ایران کو ہر محاذ پر نشانہ بنایا، مزید حملوں کے لیے تیار ہیں؛ نیتن یاہو کا دعویٰ

?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کا احوال

?️ 7 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پی اے سی  نے نیب افسران، ان کے بچوں اور

ٹرمپ کے قریبی حلقے کی زلنسکی کے مخالفین سے خفیہ مذاکرات

?️ 6 مارچ 2025سچ خبریں:ایک امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے

غزہ جنگ کے بارے میں اسرائیلی فوجی کے ہولناک اعترافات

?️ 7 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے ایک سپاہی نے برطانوی اسکائی نیوز نیٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے