?️
کراچی: (سچ خبریں) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پ) کے چیئرمین و وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اب نہ ہمیں اپنے اوپر اور نہ ہی مہربانوں پر اعتبار ہے لہٰذا نہ جانے ہم کب ناراض ہو کر وزارتیں چھوڑ دیں اور حکومت سے الگ ہوجائیں۔
خالد مقبول صدیقی نے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کورنگی میں آئی ٹی لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشی ہوئی کہ کراچی میں بھی نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کا کیمپس ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کراچی کو بائی پاس کیا تو پاکستان کی ترقی بائی پاس ہوئی، کراچی کی ترقی کے لیے کام کریں گے تو ملک ترقی کرے گا، جو ادارے کراچی سے ختم کرنے کی سازش کی گئی وہ کسی دیگر صوبے نہیں بلکہ بنگلہ دیش چلے گئے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کپاس پاکستان کی اہم ترین پیداوار ہے جو ہم برآمد کرتے ہیں لیکن ٹیکسٹائل کو کپاس نہیں ملتی، پاکستان سے زیادہ بنگلہ دیشی گارمنٹ دیگر ممالک میں مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 50 سال میں ہر طرح کی پابندی کے باوجود کراچی چل رہا ہے، کراچی صرف چل نہیں رہا پاکستان کو چلا رہا ہے، کراچی کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کراچی میں جلد سے جلد اس طرح کے مزید کیمپسز کھولیں کیونکہ اب نہ ہمیں اپنے اوپر اعتبار ہے اور نہ ہی مہربانوں پر اعتبار ہے، نہ جانے ہم کب ناراض ہوکر اس حکومت سے الگ ہوجائیں اور وزارتوں کو چھوڑ دیں۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ویسے بھی اس حوالے سے میرا ریکارڈ بہت خراب ہے، میں جب جب اسمبلی میں رہا ہوں، وہاں سے استعفیٰ دیا ہے اور وزارتوں سے تو ہر بار مستعفی ہوا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے انڈسٹری کے نمائندوں سے درخواست کروں گا کہ ہم کل ہوں نہ ہوں آپ اس ذمہ داری کو لیں اور اس کیمپس کو یونیورسٹی جیسا ہی ہونا چاہے، اس سے پاکستان کی تعمیر میں براہ راست فرق آئے گا۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی سے متعلق سب جانتے ہیں، بلدیاتی اداروں سے براہ راست عوام کو فائدہ ملنا چاہیے، جو بلدیاتی اختیارات ہیں اس میں نمائندے کچھ نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بلدیاتی اختیارات ایک دھوکا ہیں، بلدیاتی ادارے غلاموں کی طرح نہیں بلکہ حکومت کی طرح چلنے چاہئیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیصل واڈا ایم کیو ایم کے نمائندے نہیں ہیں، ان کی اپنی سوچ اور ہماری اپنی سوچ ہے۔


مشہور خبریں۔
یوکرین کی پیش رفت | کیا زیلنسکی کو امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا؟
?️ 30 نومبر 2025سچ خبریں: یوکرین میں سیاسی اور مالیاتی اسکینڈل کے بعد زیلنسکی کی
نومبر
سلامتی کونسل افغان عبوری حکومت سے ٹی ٹی پی سے تعلقات منقطع کرنے پر زور دے
?️ 7 مارچ 2024اقوام متحدہ: (سچ خبریں) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے
مارچ
صہیونی حکام کے استعفوں کی لہر
?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے غزہ میں تل ابیب کے اہداف کی
مئی
یمن میں سعودی کھیل ختم ہو رہا ہے: امریکی تجزیاتی سائٹ
?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں:امریکی تجزیاتی ویب سائٹ کا کہنا ہےکہ یمن کے خلاف ریاض
اکتوبر
سعودی حکومت نے 2022 کا بجٹ غلط حساب کتاب کی بنیاد پر بند کر دیا
?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں: ایک برطانوی میگزین نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ
جنوری
پاک۔افغان بارڈر پر سرحد پار سے بلااشتعال فائرنگ پر افغان ناظم الامور دفتر خارجہ طلب
?️ 16 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزارت خارجہ نے گزشتہ روز چمن اسپن بولدک کے
دسمبر
ہیومن رائٹس واچ کا اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے یورپی یونین سے مطالبہ
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: یورپ اینڈ میڈیٹرینین ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم، جس نے غزہ
اکتوبر
20 سال بعد ’میں ہوں نا‘ کا سیکوئل بنائے جانے کا امکان
?️ 7 فروری 2025سچ خبریں: بولی وڈ بادشاہ ’شاہ رخ خان‘ کی 2004 کی بلاک
فروری