?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف کا وطن واپس آنے کا فیصلہ نگران حکومت کے ساتھ ڈیل کا حصہ ہے اور کہا کہ انہیں قانونی سوالات کا سامناکرنا ہوگا۔
ورلڈ ایکو (وی) نیوز کو انٹرویو میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ نگران حکومت کا مسلم لیگ (ن) یا کسی اور سیاسی جماعت کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے، ایک نگران حکومت اس طرح کی کسی ڈیل کا حصہ کیسے ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف عدالت کے فیصلے کے تحت عمران خان کی حکومت میں ملک سے باہر گئے تھے، اس وقت نگران سیٹ اپ نہیں تھا۔
نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف واپس آکر سیاست میں حصہ لیتے ہیں تو انہیں کچھ قانونی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اور ان سوالات کے جوابات بھی قانونی ہیں۔
خیال رہے کہ نواز شریف 2019 میں علاج کے لیے لندن گئے تھے اور اس وقت وہ 7 سالہ جیل کاٹ رہے تھے اور اس دوران انہیں العزیزیہ اور ایون فیلڈ کیس کی سماعتوں میں مسلسل غیرحاضری پر اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے تصدیق کی تھی کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو واپس آرہے ہیں اور پارٹی نے کہا تھا کہ نواز شریف لندن سے واپسی پر ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی رہنما چاہے عمران خان، آصف علی زرداری یا نواز شریف ہر ایک کو قانون اور ان کے مقدمات کے مطابق سہولت ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ’ریجمنٹل کیمپس‘ تشکیل پاتے دیکھ رہا ہے اور ملک میں سیاسی پوزیشن کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
انوارالحق کاکڑ نے اس تاثر کو بھی رد کردیا کہ نگران حکومت 90 کی دہائی کا کاکڑ فارمولہ اپنانے جا رہی ہے جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحٰق خان کو استعفے پر مجبور کیا گیا اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کی تجویز پر ملک نئے انتخابات کی طرف گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سیب اور سنگترے کا موازنہ ہے اور یہ ہمارے معاملے پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے کیونکہ ایک پارلیمنٹ نے اپنی مدت کے اختتام سے قبل نگران حکومت تشکیل دی اور ہم آئینی عمل کا تسلسل ہیں جہاں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف نے میرے نام پر اتفاق کیا تھا۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے معاملے پر کسی ادارے کی طرف مداخلت نہیں ہوئی تھی۔
عام انتخابات کے حوالے سے نگران وزیراعظم نے کہا کہ سیکیورٹی اور انتظامی حوالے سے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں اور نگران حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ مل کر درکار اقدامت کو حتمی شکل دینے کے مرحلے میں ہے۔
افغان مہاجرین کی بے دخلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کارروائی صرف غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کے خلاف کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ ایک باقاعدہ عمل کے تحت غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی باشندوں کی نقل و حرکت ریگیولیٹ کرنا ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امکانات سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوئی تیاری نہیں ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست تھی اور ہے اور ہم فلسطینیوں کے حقوق اورفلسطینی مہاجرین کی ان کے وطن پر واپسی کی حمایت کرتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
شہباز شریف کی طرح ہم نے ڈھول نہیں پیٹا،اسے صرف تصویر کھنچوانے کا شوق ہے
?️ 17 نومبر 2022لاہور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی
نومبر
وزیر اعلی پنجاب کا یوم دفاع پر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی
?️ 6 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےیوم دفاع کے موقع پر
ستمبر
کراچی کو ’گندہ‘ کہنے والوں کی سوچ ’گندی‘ ہے، جویریہ سعود
?️ 31 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ جویریہ سعود نے ساتھی اداکارہ صبا قمر اور
اکتوبر
عاصم منیر کیا کہتے ہیں غزہ جنگ کے بارے میں؟
?️ 25 اکتوبر 2023سچ خبریں: پاکستانی فوج کے کمانڈر نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی
اکتوبر
وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل سے معاونت طلب کرلی
?️ 21 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں)لاہور ہائی کورٹ نے نو منتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری
اپریل
عرب ممالک ترکی میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہے ؟
?️ 30 ستمبر 2025سچ خبریں:ترکی کی عرب ممالک سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششیں
ستمبر
امریکہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے:تیونس کے صدر
?️ 31 اگست 2022سچ خبریں:تیونس کے صدر نے امریکی وزیر خارجہ کے امور مشرق قریب
اگست
ایران کے انتخابات کی پاکستان میں پھیلنے والی تصویر
?️ 29 جون 2024سچ خبریں: عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام محسنی اژهای نے آج دوسرے لوگوں
جون