?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی نا اہلی کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا جس میں نااہلی کی مدت سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کیس کے زیر التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
حکمنامے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم پانچ رکنی بینچ ضروری ہے، کیس کمیٹی کی جانب سے تشکیل دیئے گئے بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے، کچھ امیدواروں نے جعلی ڈگریاں جمع کرائیں جس پر انہیں نااہلی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو تاحیات نااہلی کے ساتھ دو سال کی سزا بھی سنائی گئی، 2 سال سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں زیر التوا ہے، درخواست گزار کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی سزا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی ہے۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 232 (2) کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے، درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم 26 جون 2023 کو کی گئی، جب الیکشن ایکٹ سیکشن 232(2) کو چیلنج کرنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو وکلا کی جانب سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔
اس کے مطابق تمام وکلا نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے حکم اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232(2) سے غیر ضروری کنفیوژن پیدا ہوگی۔
اس میں مزید کہا گیا کہ فریقین کے وکلا مؤقف اپنایا کہا کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے، بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے الیکشن ٹربیونلز اور عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھے گا۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت آئین کی تشریح کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ ہونا چاہیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وفاقی قانون، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کا معاملہ ہے جو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکمنامے کے مطابق الیکشن کمیشن،اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے انگریزی اور اردو کے بڑے اخبارات میں بھی نوٹس شائع کیے جائیں، عدالت نے آئینی و قانونی نکات پر تحریری جواب طلب کر لیے ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل میر بادشاہ خان قیصرانی کی نااہلی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ نے تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجر بینچ کے سامنے مقرر کرنے کے لیے ججز کمیٹی کو بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ کیس کی اگلی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ وکیل نے بتایا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا، انہوں نے مزید بتایا کہ ہائی کورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر بادشاہ کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی تھی، میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دریافت کیا تھا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہوجائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والےکو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کی تشریح پر پاناما کیس میں فیصلہ دے دیا تھا۔


مشہور خبریں۔
ملکی تاریخ میں کسی وزیر اعلیٰ نے یہ کام نہیں کیا، جو میں نے کیا: بزدار
?️ 4 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بہت بڑا دعویٰ کرتے
جولائی
بانی پی ٹی آئی اقتدار کیلئے ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ حنیف عباسی
?️ 16 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے
ستمبر
سرحد پر اشتعال انگیزی : پاکستان کا افغان مہاجرین بارے پالیسی سخت کرنے کا فیصلہ
?️ 16 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی سخت
اکتوبر
گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کا بھارتی الزام مسترد کرتے ہیں۔ دفتر خارجہ
?️ 20 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی
مئی
مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی شرط مان لی
?️ 15 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں) انتخابی اتحاد کے حوالے سے مسلم لیگ ن نے
اپریل
وعدے کی سرزمین کا بھرم ایک بڑی ناکامی کا باعث بنے گا: اردگان
?️ 10 اکتوبر 2024سچ خبریں: ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے آج پارلیمنٹ میں جسٹس
اکتوبر
مراکش میں صیہونیوں کے خلاف مظاہرہ
?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:مراکش کے عوام کے ایک گروپ نے رباط شہر میں ملکی
اگست
ٹرمپ امریکہ کے صدر کیوں اور کیسے بنے؟
?️ 8 نومبر 2024سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 سال قبل پہلی بار صدارتی انتخاب
نومبر