نئے سپہ سالار کی آمد: ’چین و امریکا سے پہلے پاکستان کو اہمیت دی جائے گی‘

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سیاست سے دلچسپی رکھنے والے کارکنوں اور بہت ہی بڑی تعداد میں عام شہریوں کے لیے کل کا دن ایک خوشگوار اور غیر ہیجانی دن بن کر گزرا۔ سازشی ذہن بہت آزمودہ طریقہ اختیار کرتے رہے مگر جوں جوں دن بڑھتا گیا ایسے عوامل کو مایوسی ہوتی رہی۔

کئی مہینوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی دم بھر سانس لیا اور یکدم سیاسی درجہ حرارت نہ صرف کم ہوا بلکہ نارمل ہوگیا۔ یاروں کا خیال تھا کہ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوگا، کچھ نہ ہوا تو بھی صدر 25 دن تک صورتحال کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کریں گے۔ کوئی نہ کوئی عدالت میں ضرور جائے گا اور ممکن ہے سیاسی محاذ آرائی اس قدر بڑھ جائے کہ سیاست کی بساط بھی لپیٹ دی جائے مگر کسی نے بھی عمران خان کے اس بیان پر غور نہیں کیا کہ ہم آئین کے دائرہ میں کھیلیں گے، عارف علوی میری جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارا رابطہ رہتا ہے۔

پھر عارف علوی کے ساتھ اسحٰق ڈار کی ملاقات بامقصد تھی اور پس پردہ کام اور رابطے ہورہے تھے۔ جناب عمران خان میرٹ کی بات کرکے پھنس گئے تھے۔ غالباً اسی ملاقات میں یہ بات طے ہوئی تھی کہ اس پورے معاملے میں کوئی بھی بدمزگی نہیں ہونے دی جائے گی اور جس دن سمری بھیجی جائے گی اسی دن اس پر دستخط بھی ہوجائیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ اس معاملے میں سابق صدر آصف زرداری سے وزیرِاعظم شہباز شریف کی ملاقات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جو کسی حد تک ٹھیک بھی ہے۔ آصف زرداری کی خواہش تو یہ تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر (کمانڈر گوجرانوالہ کور) کو اس منصب کے لیے لایا جائے جو ان کے ملٹری سیکرٹری رہ چکے ہیں، لیکن اس معاملے میں کوئی بھی مسئلہ نہ پیدا ہو یا عدالتی دروازہ نہ کھٹکھٹایا جائے، اس لیے یہی طے ہوا کہ جو سینیئر موسٹ ہیں انہیں ہی اس منصب پر لگایا جائے۔

اتحادیوں نے بھی میرٹ پر نمبر ایک اور 2 کا انتخاب کرکے نہ صرف سبھی کے لب سی دیے بلکہ ملک کی تاریخ میں نئی مثال قائم کردی اور صدر نے بھی احسن اقدام اٹھایا جو قابلِ تحسین ہے۔

ایوب خان کی تعیناتی میرٹ پر تو نہیں تھی، موسیٰ خان بھی ایسے ہی تھے۔ یحییٰ خان بھی میرٹ پر پورا نہ اترتے تھے۔ گویا کبھی کوئی بھی سینیئر موسٹ چیف نہیں بن سکا۔

یہ محض اتفاق نہیں کہ سینیئر موسٹ آرمی چیف بن گئے۔ زمانہ پہلے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف فضائیہ اور نیوی سے بھی بنتے تھے مگر جانے کب رولز تبدیل ہوئے۔ ہر آرمی چیف کےعام شہریوں  ساتھ کوئی نہ کوئی کہانی ضرور منسوب ہے۔

گزشتہ روز جو کچھ ہوا اس کی تو جزئیات بھی وقت سے پہلے ہوچکی تھیں۔ تمام احتیاطی تدابیر احتیار کی جاچکی تھیں کیونکہ عمران خان نئے آرمی چیف کو بھی متنازعہ بنانے کی گردان کررہے تھے مگر میرٹ کے ہاتھوں ایسی شے کھائی کہ عزت محفوظ کرنے میں دیر نہ کی۔

جہاز وزیرِاعظم کا، سوار عارف علوی اور ملاقاتی عمران خان، گویا حکومت اور صدرِ پاکستان نے عمران خان کو فیس سیونگ کا موقع بر محل وقوع پذیر کردیا۔

نئے آرمی چیف 4 سال تک سعودی عرب میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں اور پاکستان کے پہلے اور واحد آرمی چیف ہیں جو ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے جنرل احسان الحق بھی ان دونوں ذمہ داریوں عام شہریوں پر پورا اترے مگر وہ چیئرمینعام شہریوں  چیف آف اسٹاف رہے جبکہ سابق آرمی چیف جنرل کیانی ڈی جی آئی ایس آئی تو رہے تھے مگر ڈی جی ایم آئی نہیں تھے۔

عربی، انگریزی اور اردو بولنے والے حافظ عاصم منیر کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ 45 سال کی عمر میں حفاظ کی فیملی میں ایک اور کا اضافہ کرکے رکوع، سجود کے ایسے پابند ہوئے کہ مثال دی جاسکتی ہے۔ کم گو جنرل بات تو پوری سنتا ہے مگر سوچ نہ صرف متوازن ہے بلکہ شدت پسندی کے بھی خلاف ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ خون کا بدلہ ہر صورت لینا ان کے ایمان کا حصہ ہے اور ردالفساد کی پلاننگ بھی موصوف نے کی تھی۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا بھی جانتا ہے اور کوئی ذاتی ایجنڈا بھی نہیں۔

اساتذہ علم و تدریس سے تعلق رکھنے والے خاندان کے ایک فرد کے طور پر کتابوں کا مطالبہ بھی معمول ہے۔ قرآن تو سینے میں ہے مگر زبان پر کلام اقبال بھی کثرت کے ساتھ رہتا ہے۔ ان کے گھرانہ کے لوگ اب بھی معلم ہیں اور ان کے والد بھی تدریسی ذمہ داریاں ادا کیا کرتے تھے۔

فوجی افسران کی کثرت کاکول سے تربیت لیتی ہے مگر عاصم منیر آفیسرز ٹریننگ اسکول جہلم سے تعلق رکھتے ہیں اور بطور کیڈٹ آفیسر اعزاز شمشیر سے بھی نوازے گئے۔ بطور پاکستانی اور فوجی بھارتعام شہریوں  کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتے ہیں جس کا وہ مستحق ہے اور اس کے لیے ان کی گلگت میں جی او سی کے طور پر مثال دی جاتی ہے۔

عزت اور فوج کی عزت پر سب قربان کردینے کا عزم رکھنے والے پاکستان کے نئے سپہ سالار کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ جدید و قدیم، دائیں اور بائیں، سیاسی اور جنرل آفیسر، عام و خاص میں توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت کے مالک ہیں۔

ان سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ان کے معاشی معاملات شک وشبہ سے بالاتر ہیں اور اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ سرکاری وسائل ذات کی سطح پر خرچ کیے جائیں۔ ملک کے ایک خا عام شہریوں  علاقے کے لوگوں کو ان کی ریشہ دوانیوں کے باوجود اس بات کی اجازت دی کہ وہ خود کو قانون کے تابع کرلیں اور اس کے لیے ان کے علاقے کو سہولیات بھی لے کر دیں اور بات بھی سنی اور ان کو ان کے روایتی طربقہ کے مطابق ان کی معاشرت کے تحت زندگی پُرسکون گزارنے کی اجازت بھی لے کردی اور پھر بھی کوئی پابند نہ رہا تو برابر کا سلوک روا رکھا گیا۔

میری معلومات عام شہریوں کے مطابق امریکا اور چین کے ساتھ تعلقات پر بعد میں بات کی جائے گی، پہلی ترجیح یہی ہوگی کہ گھر کی صورتحال کو ٹھیک کیا جائے، جب یہ کام ہوجائے گا تب ہی باہر کے معاملات پر بات ہوگی، لیکن پہلی ترجیح پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد، عزت، خودداری، امن، قانون کی بالادستی اور عوام کی رائے کے احترام کو ہی دی جائے گی۔

یہ بھی ان کے ایک ساتھی نے بتایا کہ چونکہ ذاتی ایجنڈا نہیں ہے اور صرف پاکستان ہی ایجنڈا ہے تو کسی سے شخصیت کا مقابلہ کرنا مناسب نہیں۔ یہ اپنی مثال خود ہوں گے اور عام شہریوں کبھی کبھی راحیل شریف کا شائبہ ہوگا۔ وطن سے غداری یا محبت نہ رکھنے عام شہریوں والوں کے لیے زمین تنگ ہوسکتی ہے اور روایت پسندی نہیں جدت کے ساتھ معاملات طے ہوں گے۔ برداشت کی ایک حد ہوگی اور پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ ساتھ اگر یہ بھی کہہ دوں تو ٹھیک ہی رہے گا کہ وہ اپنی 3 سالہ مدت سے ایک دن پہلے ہی الوداع کہہ دیں گے، یعنی ایکسٹینشن کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔

نئے چیف کو مسائل تو بے شمار حل طلب ملیں گے مگر ان کی کمان میں فوج کے غیر جانبدار ہونے کے بھی امکانات بہت زیادہ ہیں۔

مشہور خبریں۔

ایران کے ساتھ تعطل، ٹرمپ کی سب سے بڑی دلدل

?️ 5 مئی 2026 سچ خبریں:ریوٹرز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف

اسرائیلی جارحیت علاقائی جنگ کا باعث

?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: جہاں صیہونی حکومت مسلسل لبنان کو اس ملک پر ہر قسم

صہیونی پولیس کا ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹوگرافر پر حملہ

?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں:ایک صہیونی عسکریت پسند نے متعدد فلسطینی صحافیوں کے ساتھ جھڑپ

غزہ جنگ میں اب تک کتنے اسرائیلی فوجی معذور ہو چکے ہیں؟

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ

نصف صدی بعد پہلی بار نجی کمپنی کے خلائی مشن کی چاند پر کامیاب لینڈنگ

?️ 24 فروری 2024سچ خبریں: نصف صدی سے زائد عرصے بعد پہلی بار امریکی نجی

ترک تجزیہ کاروں کے نقطہ نظر سے اردوغان-ٹرمپ ملاقات؛ کیا غزہ کا کوئی ذکر تھا؟ – حصہ 1

?️ 26 ستمبر 2025سچ خبریں: جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے قریبی تجزیہ کار اس ملاقات

اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ تعلیم کے شعبے میں کتنا خرچ کیا گیا

?️ 10 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اقتصادی سروے پاکستان برائے سال 22-2021 میں نشاندہی کی گئی

غزہ کے زخموں کے سامنے انسانیت کا عظیم نقصان

?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: سماجی میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے