?️
کوئٹہ: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے، موجودہ سیاسی نظام میں مسائل کے حل کی صلاحیت نہیں ہے۔
کوئٹہ میں لشکری رئیسانی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، مفتاح اسمٰعیل و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’تصور نو پاکستان‘ کے عنوان سے قومی مذاکرے میں ہم نے ملک کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل اور ان کے حل کے لیے بات چیت کی، ہم نے یہی بات کی کہ موجودہ سیاسی نظام میں ان مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے، عوام کے مسائل ایک طرف رہ گئے، سیاست ایک دوسرے کو گالی دینے کا نام بن چکا ہے، یہ سیاست پاکستان کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ضرروی ہے کہ ایسا کوئی غیر جماعتی فورم ہو جہاں پاکستان کے مسائل کے حل کی بات کی جاسکے، اس لیے لشکری رئیسانی کی دعوت پر ابتدا بلوچستان میں کوئٹہ سے ہوئی، ہماری کوشش ہے کہ دیگر صوبوں اور فورمز پر جاکر عوام کے مسائل کا حل رکھا جائے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے پاس کسی مسئلے کا معجزاتی حل نہیں ہے، ہمیں ہر معاملے پر محنت کرنی ہوگی اور مشکل فیصلے کرکے ملک کو استحکام دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اگر بلوچستان کو مسائل درپیش ہیں تو اس کے ذمہ دار بلوچستان کے وہ غیر نمائندہ لوگ ہیں جو اسمبلیوں میں بھیجے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں الزام تراشی کے لیے نہیں بیٹھے، ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو ’ٹروتھ کمیشن‘ بنا دیں، اس ملک کے حقائق بہت تلخ ہیں اور حقائق وہ نہیں ہیں جو اخبارات میں چھپتے ہیں یا ٹی وی پر آتے ہیں۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے 4 برس یا 10، 20 برس تک کی جو بنیادی خرابیاں ہیں ان کے اثرات 8 ماہ میں دور نہیں ہو سکتے، ہوسکتا ہے 8 سال میں بھی دور نہ کر سکیں لیکن استحکام کی ابتدا ہونی چاہیے، حکومت یہی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کے وطن واپس آنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئی ہیں ان کا بھی ازالہ ہونا چاہیے اور وہ ناانصافیاں بہت واضح ہیں، عدلیہ بھی ان فیصلوں کو دیکھے جس کے اثرات پاکستان پر ہوئے اور بےپناہ ہوئے، عدلیہ کے فیصلوں اور عمل کا بڑا حصہ ان معاملات میں ہے جن کا آج پاکستان شکار ہے.
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لشکری رئیسانی کی جانب سے میزبانی کا شکریہ، یہ ’تصور نو پاکستان‘ کے عنوان سے قومی مذاکرے کا پہلا سیمینار تھا، اس کی اگلی قسط پشاور میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو مشکل معاشی حالات درپیش ہیں، عوام کو مسائل کا سامنا ہے، پاکستان کو رواں برس بیرون ملک اور اداروں کے 21 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، ہمیں ایک فریق سے قرض لے کر دوسرے کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
مفتاح اسمعٰیل نے کہا کہ پاکستانیوں کے اوپر 51 ہزار ارب روپے قرضہ ہوگیا ہے، بیرونی قرضہ بھی 25 ہزار ارب روپے ہوگیا ہے، اس وجہ سے مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور حکومت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، اس لیے حکومت عوام کی تعلیم اور صحت پر خرچ نہیں کر پارہی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں عوام کا پیٹ کاٹنے کی مزید گنجائش نہیں ہے، اس سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان کو باہر اپنی مصنوعات زیادہ سے زیادہ بیچنی پڑیں گی جس سے یہاں نوکریاں بھی پیدا ہوں گی، ساتھ ساتھ ہمیں زراعت کو بھی آگے لے کر آنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو حقوق دیے جائیں، لوگوں کی مشکلات آسان کرنی چاہئیں، مہنگائی عروج پر ہے، ہم 20 برس سے کوئی نجکاری نہیں کر پارہے اور حکومتی ادارے اربوں کا نقصان کر رہے ہیں، اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا پڑے گا، گردشی قرضوں کا بھی حل نکالنا پڑے گا، وقت آگیا ہے کہ ہم من حیث القوم کچھ فیصلے کریں۔
مفتاح اسمعٰیل نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 4 ماہ جو فیصلے نہیں لیے اس سے معیشت کا نقصان ہوا ہے لیکن اب میں بڑا خوش ہوں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے بیٹھ کر بات چیت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، امید ہے یہ مسائل حل کی طرف جائیں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران لشکری رئیسانی نے کہا کہ اس وقت ہمیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ڈائیلاگ سے ہی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں لوگ بنیادی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں لیکن ریاست نے انہیں جیلوں میں ڈال دیا، اس فورم کے ذریعے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گوادر میں گرفتار ہونے والے تمام لوگوں کو رہا کیا جائے، ان کے خلاف کیسز واپس لیے جائیں اور ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔


مشہور خبریں۔
درجنوں صہیونی آباد کاروں کا مسجد اقصی پر حملہ
?️ 17 جنوری 2021سچ خبریں:درجنوں صہیونی آباد کاروں نے ایک نامعقول حرکت کرتے ہوئے مسجد
جنوری
حکومت کو عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے۔ سپریم کورٹ
?️ 20 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں وفاقی حکومت
فروری
کیا برطانیہ میں سود کی شرح میں کمی سے معیشت کو بحال ہو سکتی ہے؟
?️ 20 دسمبر 2025 کیا برطانیہ میں سود کی شرح میں کمی سے معیشت کو بحال
دسمبر
انصار اللہ: دشمن کے جاسوسی نیٹ ورک کی تباہی تمام جارحوں کے لیے عبرتناک پیغام ہے
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: انصار اللہ کے رکن حزام الاسد نے اسرائیلی انٹیلی جنس
نومبر
صرف باتیں کرنے سے صلح نہیں ہوتی:یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل
?️ 11 فروری 2021سچ خبریں:یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے ممبر نے اعلان کیا کہ یمن
فروری
سعودی ولی عہد کا اہم مسائل کا جائزہ لینے کے لیے فرانس کا دورہ
?️ 26 جولائی 2022سچ خبریں:ریاض میں فرانسیسی سفارت خانے کے ایک سفارتی ذریعے نے اعلان
جولائی
بحران کا شکار فوج؛ وسیع پیمانے پر کرپشن اور فوج میں جانے سے ڈرنے والے صیہونی جوان
?️ 23 دسمبر 2022سچ خبریں:صیہونی فوج اب بھی اپنی تمام تر توجہ فضائیہ پر مرکوز
دسمبر
عمران خان کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امریکا
?️ 6 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان
اگست