?️
اسلام آباد: (سچ خبریں)معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2 ماہ سے زائد عرصے تک مستحکم رہنے کے باوجود مارچ کے دوران شرح تبادلہ کو دھچکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں ایک کرنسی ڈیلر نے کہا کہ مارچ کے آخر تک شرح مبادلہ کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے بہت سے عوامل جمع ہوجائیں گے۔
مارکیٹ کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تیسری سہ ماہی کی اقتصادی کارکردگی پچھلی سہ ماہی اور مکمل مالی سال کے منظرنامے کا تعین کرے گی، کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی آمد مارکیٹ کی توقعات سے کم ہے۔
ترسیلات زر اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) دونوں متوقع سطح سے کافی کم ہیں، مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات زر 6 فیصد کم رہی جو کہ ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔
عالمی بینک نے گزشتہ دسمبر کے آخر میں جاری کردہ اپنی رپورٹ میں مالی سال 2024 کے لیے کُل ترسیلات زر 22 ارب ڈالر ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے حال ہی میں ذکر کیا کہ ترسیلات زر میں ماہانہ بنیادوں پر اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔
مارکیٹ میں میدان پر موجود ماہرین کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق رائے پایا گیا کہ عام انتخابات کی وجہ سے موجودہ مدت میں رقوم کی آمد میں کمی آئے گی، جس سے رواں مالی سال کے بقیہ حصے میں مجموعی آمدن متاثر ہوگی۔
کرنسی ماہرین میں سے ایک انور بھائی نے کہا کہ ہمیں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل سے بہت امیدیں ہیں لیکن رواں مالی سال کے دوران رقوم کی آمد کا کوئی امکان نہیں۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا آئندہ 3 سے 5 برس میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف ہے، انور بھائی کا خیال ہے کہ اسلام آباد میں انتخابات اور نئی حکومت کے قیام کے بعد خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔
کرنسی ماہرین کے لیے سب سے زیادہ تشویش عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی آخری قسط کا اجرا ہے، جس کا فیصلہ مارچ میں کیا جائے گا۔
نگراں حکومت اِس قسط کے حصول کے لیے پرامید ہے حالانکہ بااختیار حلقوں کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات نئی حکومت کرے گی، واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات 8 فروری کو ہوں گے جس کے بعد نئی حکومت بنے گی۔
نئی حکومت کو موجودہ اقتصادی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی ضرورت ہوگی، تمام سیاسی جماعتیں عوام کے لیے مختلف معاشی فوائد کا اعلان کر رہی ہیں، عام لوگوں کے لیے 300 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا اعلان بھی اس میں شامل ہے۔
تاہم عام لوگوں کو درپیش بنیادی مسائل، مثلاً بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ترسیل کے مسائل کے پیش نظر یہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے، نگران حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف ایسی تجاویز کو کیسے قبول کرے گا؟ یہ تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ مستقبل کے تعلقات میں محض رکاوٹیں ہی پیدا کریں گے۔
نگران وزیر خزانہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو معاشی ترقی برقرار رکھنے کے لیے ایک اور بیل آؤٹ پیکج کی ضرورت ہے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی رپورٹر کی زبانی حماس کی پیچیدہ کارروائیوں کی تفصیلات
?️ 8 جون 2024سچ خبریں: صہیونی آرمی ریڈیو کے ملٹری رپورٹر ڈورون قادوش نے بتایا شہید
جون
یورپی یونین پر تنقید کی تو مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے بڑا ظلم کردیا:عمران خان
?️ 13 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے شہر حافظ آباد میں
مارچ
سعودی جرائم کے ریکارڈ پر ایک نظر
?️ 19 دسمبر 2022سچ خبریں:گزشتہ دو برسوں کے دوران آل سعود حکومت نے عالمی برادری
دسمبر
بندوق کے زور پر فرانس کے سفیر کو واپس بھیجوانا چاہتے ہیں
?️ 26 اپریل 2021ملتان (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق ملتان میں ایک تقریب سے خطاب
اپریل
فاتح کمانڈروں کے خون کا بدلہ خطے سے امریکہ کی بے دخلی اور صیہونی حکومت کی تباہی ہے: عراقی مزاحمتی تحریک
?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:عراق کی عصائب اہل الحق تحریک کے سکریٹری جنرل نے صیہونی
جنوری
’لاپتا افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیر اعظم، وزیر داخلہ کےخلاف مقدمہ درج کرائیں گے‘
?️ 29 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبہ کی بازیابی
نومبر
مندر، گردوارے اقلیتوں کی جائیداد ہیں، زمینیں ہتھیانے کیلئے حقائق چھپائے جا رہے ہیں، چیف جسٹس
?️ 13 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق
فروری
ملک کے مفاد میں شہباز شریف کو کیا کرنا چاہیے؟: آفتاب احمد خان
?️ 30 جون 2024سچ خبریں: قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیر پاؤ
جون