?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سرحدی صورتحال ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہوگئی ہے، جب کابل کی جانب سے پاکستان پر مبینہ فضائی حملوں کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق کابل کی جانب سے پاکستان پر افغانستان میں فضائی حملوں کے الزامات کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے صبر کی حد کھو دی ہے۔
منگل کو طالبان حکومت نے الزام لگایا کہ پاکستان نے خوست، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے، لیکن پاکستان کے وزیر دفاع نے اس بات کی تردید کردی۔
خبر کے مطابق یہ حملے اسی دن ہوئے جب فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں 3 اہلکار شہید ہوئے تھے۔
تاہم، آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا۔
پی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کا اعلان بھی خود کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نزدیک کوئی اچھے یا برے طالبان نہیں، تمام دہشت گرد ایک جیسے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ریاست کی طرح فیصلے کرے، کسی غیر ریاستی گروہ کی طرح نہیں اور سوال کیا کہ افغانستان کی حکمران انتظامیہ کب تک عبوری رہے گی۔
مبینہ حملوں نے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ ماہ کی کشیدگی کے بعد قائم ہونے والی جنگ بندی کو ختم کر دیا، پاکستان مسلسل افغانستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دے۔
تاہم، اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی موجودہ لہر کی جڑیں افغانستان میں ہیں، جہاں دہشت گرد گروہ بھرتی مراکز اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں۔
اکتوبر میں پاکستان نے کہا تھا کہ بڑھتے حملوں کے بعد اس کا صبر جواب دے گیا ہے، دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے۔
اگرچہ جنگ بندی سے محاذ آرائی ختم ہو گئی تھی، لیکن استنبول میں ہونے والے مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب کابل نے کہا کہ اس سے پاکستان میں سیکیورٹی کی ضمانت کی توقع نہ رکھی جائے۔
افغان اور بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے فضائی حملوں میں مشرقی افغانستان میں کم از کم نو افراد، جن میں ایک خاتون اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے۔
خوست سے جاری تصاویر میں جنازوں میں شریک افراد دکھائے گئے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حملوں کے متاثرین تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ تصاویر حالیہ ہیں یا پرانی۔
امید ختم
دریں اثنا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان، افغان طالبان سے اپنی امیدیں ختم کر رہا ہے کیونکہ اب ان سے کسی مثبت اقدام کی توقع نہیں رہی۔
انہوں نے نجی چینل ‘جیو نیوز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے دشمن ہیں، وہ پہلے ہی پاکستان کے دشمن تھے اور اب کھلے دشمن بن چکے ہیں۔
وزیر دفاع نے افغان حکومت کے الزامات اور شہری ہلاکتوں کے دعوؤں پر کہا کہ یہ دونوں باتیں درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر کارروائی کرتا ہے، لیکن عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہماری پالیسی نہیں، ہماری فوج منظم ہے، اصولوں پر چلتی ہے، جب کہ طالبان ایک بے ترتیب گروہ کی طرح ہیں، جن کے پاس نہ کوئی ضابطہ ہے نہ روایت۔
وزیر دفاع نے پوچھا کہ طالبان نے 20 سال میں کابل پر قبضہ کرنے کے علاوہ کیا حاصل کیا؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ آج بھی ان کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کا مذاق اڑاتے ہیں جس میں انہوں نے طالبان کا خیرمقدم کیا تھا، مگر اس وقت امید تھی، اب ہم ان سے ہر قسم کی امید ختم کر چکے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کب جواب دے گا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک ترکیہ، ایران اور قطر خطے میں امن چاہتے ہیں کیونکہ امن سے سب کو فائدہ ہوگا اور افغان عوام سمیت سب کے لیے روزگار کے مواقع کھلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اگر بھارت کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، پاکستان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ آخر میں وہی سامان ہماری مارکیٹ میں آجاتا ہے۔
طالبان کی دھمکی پر وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں سنجیدگی سے لینا بے وقوفی ہوگی، ان پر بھروسہ کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے مسلسل دورے کیے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ ان دوروں سے کوئی فائدہ، کامیابی یا ان کے رویے میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔


مشہور خبریں۔
فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کی ملاقات سے پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ بلاول بھٹو
?️ 18 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا
جون
آپریشن عزم استحکام کے بارے میں مولانا فضل الرحمان کا بیان
?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ کوئی پہلا
جولائی
آنکارا کی اسرائیل پر فوری دباؤ کی وجی کیا ہے؟
?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں جو ہفتے اور اتوار
مئی
ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے روس کی کوششیں
?️ 12 ستمبر 2023سچ خبریں:روس کے نائب وزیر خارجہ نے آج ایسٹرن اکنامک فورم کے
ستمبر
انتخابات کی تاریخ نہ دینے پر گورنر خیبر پختونخوا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست
?️ 20 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں عام انتخابات
مارچ
کورونا:کیسز کی یومیہ شرح میں دن بدن اضافہ
?️ 23 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) عالمی وبا کورونا وائرس ملک میں تیزی سے پھیل
جنوری
مسلح فوج پر عوام کا اعتماد کیوں کم ہو رہا ہے؟
?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:پیر کو جاری ہونے والے ایک نئے سروے کے مطابق، امریکی
اگست
مراکش کشتی حادثہ: انسانی اسمگلرز کے گینگ کا سراغ مل گیا، اہم سہولت کار گرفتار
?️ 1 فروری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کمپوزٹ
فروری