لاہور ہائی کورٹ کے باہر وکلا کا احتجاج، پولیس کی آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج

?️

لاہور: (سچ خبریں) وکلا پر دہشتگری کے مقدمات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے باہر لاہور بار ایسوسی ایشن کی ریلی پر پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کردی۔

ڈان نیوز کے مطابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن علی رضا نے بتایا کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) ماڈل ٹاؤن اخلاق اللہ تارڑ سمیت 7 اہلکار زخمی ہوگئے۔

قبل ازیں لاہور بار ایسوسی ایشن کی ریلی لاہور ہائیکورٹ پہنچی اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس پر پولیس نے احتجاج کرنے والے کئی وکلا کو گرفتار کرلیا۔

بعد ازاں پولیس کی بھاری نفری نے لاہور ہائی کورٹ کی عمارت کا مرکزی دروازہ بند کردیا اور رکاوٹیں کھڑی کردیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے باہر پولیس اور وکلا کے درمیان تصادم کے دوران پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔

واضح رہے لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا، یہ ریلی ایوان عدل سے شروع ہوئی اور اس نے ہائی کورٹ تک آنا تھا، لاہور ہائی کورٹ میں پہلے سے ہی پولیس کی بھاری نفری اور واٹر کینن موجود تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال تب خراب ہوئی جب وکلا نے ہائی کورٹ میں گھسنے کی کوشش کی اور پتھراؤ کیا، تاہم وکلا کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صورتحال کو قابو اور وکلا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور اینٹی رائٹس فورس کی اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی تھی۔

بعد ازاں پولیس اور وکلا کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھاجس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ بند کردی تھی تاہم مذاکرات کامیاب نا ہوسکے اور جی پی او چوک پر ایک بار پھر پولیس نے وکلا پر لاٹھی چارج شروع کر دیا، جی پی او چوک پر حالات دوبارہ کشیدہ ہو گئے ہیں۔

پولیس اور وکلا کے تصادم کے باعث کچھ دیر کے لیے اورنج ٹرین کا جی پی او اسٹیشن جزوی طورپربند کردیا گیا ہے، انتظامیہ نے بتایا کہ حالات بہتر ہوتے ہی ٹرین کے لیے اسٹیشن کو کھول دیا جائے گا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن علی رضا نے بتایا کہ اس واقع میں سپرنٹنڈنٹ پولیس ماڈل ٹاؤن اخلاق اللہ تارڑ سمیت 7 اہلکار زخمی ہوئے ، زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

صدر لاہور ہائیکورٹ بار اسد منظور بٹ نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وکلا نے احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے، جب تک مطالبات نہیں مانے جاتے احتجاج جاری رہے گا، پولیس نے وکلا کے پر امن مارچ پر تشدد کر کے زیادتی کی ہے۔

اسد منظور بٹ نے کہا آنسو گیس کی شیلنگ سے درجنوں وکیل زخمی ہوئے ہیں، عدالتوں کے تقسیم کے نوٹیفکیشن کو فوری واپس لیا جائے، وکلا پر درج مقدمات خارج کیے جائیں، مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

وکلا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین احسن بھون نے بتایا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے کل ملک بھر میں ہڑتال کی کال دے دی ہے، کوئی وکیل ملک بھر کی عدالتوں میں پیش نہ ہو ،کل ملک بھر میں وکلا ریلیاں نکالیں گے۔

واضح رہے کہ وکلا دو وجوہات کی بنا پر سراپا احتجاج ہیں، پہلی یہ کہ ایوان عدل میں موجود کچھ عدالتوں کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن ڈویژن منتقل کردیا تھا تو وکلا کا مطالبہ ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے اور دوسرا یہ کہ دہشتگردی کے مقدمے میں وکلا پر کی جانے والی ایف آئی آرز کو واپس لیا جائے اور ایسے مقدمات بنانے کے گریز کیا جائے۔

مشہور خبریں۔

بلوچستان میں وزیر اعظم کی قیادت میں تاریخی  کام ہو رہا ہے: اسد عمر

?️ 6 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا

ڈپٹی اسٹارمر کے استعفیٰ کے آفٹر شاکس؛ کیا انگلینڈ میں قبل از وقت انتخابات ہوں گے؟

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: برطانوی نائب وزیر اعظم کے متنازعہ استعفیٰ اور کابینہ کے

بھارتی کسانوں نے دارالحکومت دہلی میں گورنر ہاؤس کا محاصرہ کرلیا

?️ 28 جون 2021نئی دہلی (سچ خبریں)  بھارتی حکومت کی جانب سے متنازع زرعی قوانین

سعودی پرچم کی تبدیلی افواہ یا حقیقت؟

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:سعودی حکومت کی جانب سےاس ملک کے جھنڈے کو تبدیل کرنے

بائیڈن کو امریکہ کے اندر درپیش مشکلات

?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں: دی ہل نیوز ویب سائٹ نے سی بی ایس نیوز

بلوچستان میں فوج کے دو جوان شہید ہو گئے

?️ 24 دسمبر 2021کوئٹہ (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ

نئی نسل کے مرد و خواتین ایک دوسرے کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں، سیمی راحیل

?️ 9 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکارہ سیمی راحیل نے کہا ہے کہ نئی

اقوام متحدہ کا افغان لڑکیوں کی تعلیمی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ

?️ 27 نومبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ماہرین نے افغان خواتین کی صورتحال پر تشویش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے