لاہور ہائی کورٹ: ٹی ایل پی کے رکن کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا حکم کالعدم قرار

?️

لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رکن کا نام انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 کا فورتھ شیڈول ایسے افراد کی فہرست ہے جنہیں حکومت نے دہشت گردی یا فرقہ واریت میں ملوث ہونے کے شبہے میں زیر نگرانی رکھتی ہے۔

لاہور ہائیکوٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے غلام عباس کی درخواست پر 13 جولائی کو سماعت مکمل کرنے کے بعد آج تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس میں انہوں نے 2021 کے حکم نامے میں اپنا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے اور نظرثانی درخواست مسترد ہونے کے 2022 کے حکم کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

غلام عباس اکثر پارٹی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ٹی ایل پی کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ ان 5 اراکین میں شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ مہینے حکومت کے ساتھ 12 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں توہین مذہب سے متعلق کیسز کے تیز ٹرائل اور مذہبی سیاسی جماعتوں پر پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس امجد رفیق نے آج کا فیصلہ جاری کیا، جس کی نقل ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کے پاس ہے، اس فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے جو درخواست گزار کے فورتھ شیڈول میں اندراج کا جواز پیش کر سکے۔

مزید کہا گیا کہ عام تجربہ ہے کہ ایسی پابندیاں لگنے کے بعد انسان اپنی زندگی باعزت طریقے سے نہیں گزار پاتا حتٰی کہ اسے طبی اور تعلیمی اخراجات کے لیے بھی وفاقی حکومت منظوری لینی پڑتی ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت نے لا افسر سے مخصوص سوالات پوچھے کہ اگر وہ کوئی ایسا مواد دکھا سکیں جسے دیکھ کر یا سن کر ایسا لگے کہ درخواست گزار قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث ہے لیکن کوئی ایسا مواد عدالت کو پیش نہیں کیا جاسکا۔

مزید مشاہدہ کیا گیا کہ لا آفیسر کے پاس فوجداری مقدمے کی قسمت کے بارے میں بھی معلومات نہیں تھی، جس کے تحت انہوں نے کہا کہ غلام عباس کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ کسی بھی فوجداری مقدمے میں اپیل کنندہ کی شمولیت بمشکل کسی شہری کو زندگی اور آزادی کے اس کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی بنیاد ہو۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت کسی شخص کو فہرست میں شامل کرنے کے نتائج سے آگاہ ہے اور پابندیاں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس طرح کا اقدام ’ہوا یا خواہشات کی بنیاد پر یا اتھارٹی کی خواہشات یا اندازے پر نہیں ہونا چاہیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عام تجربہ ہے کہ ایسی پابندیاں لگنے کے بعد انسان اپنی زندگی باعزت طریقے سے نہیں گزار پاتا، اور اپنی زندگی گزارنے کے لیے اس کا انحصار وفاقی حکومت کی صوابدید پر ہو جاتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ فورتھ شیڈول میں شامل شخص کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے بانڈ بھرنا پڑتا ہے، اور کسی خاص جگہ رہنے کے حق کے ساتھ تفریح سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت جب چاہے ایسے شخص کو دفعہ 11- ای ای ای کے تحت گرفتار کر سکتی ہے۔

مزید لکھا کہ ایسے افراد کے خلاف معلومات عموما ایس ایم ایس، واٹس ایپ میسج، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پوسٹر، ہینڈ آوٹس، تصاویر، کتابوں، ڈیجیٹل میٹریل سے لی جاتی ہے۔

کسی شخص کو کالعدم قرار دینے کے لیے ’معقول بنیادوں‘ کی رکن  وضاحت کرتے ہوئے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 2020 کے حکم کا حوالہ دیا گیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ارباب اختیار کو نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے رکن  کے لیے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ایسے افراد کے خلاف ایک سے زائد فورمز پر معلومات میسر ہوں۔

فیصلے میں روشنی ڈالی گئی کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ وہ شخص، جو ایک بار اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہو، اب بھی زندہ ہے اور اسی حالت کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کسی فرد کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جاسکے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 11-ای ای کے حوالے سے فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست رکن  کو یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ جس شخص کو نوٹیفائی کیا جا رہا ہے، وہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 6 اور 7 کے تحت کسی کیس میں ملوث ہے، یا وفاقی حکومت کی جانب سے تنظیم کی پابندی کے لیے سیکشن 11۔بی کے تحت مطلع کردہ کسی تنظیم کا عہدیدار، کارکن یا ساتھی تھا، یا ایسی تنظیم کا رکن ہے اے ٹی اے 1997 کی دفعہ 11-ڈی کے تحت زیرِ نگرانی تھا، یا وہ دہشت گردی یا فرقہ واریت میں ملوث تھا۔

یہ بتاتے ہوئے کہ مذکورہ بالا نتیجے پر پہنچنے والی معلومات کسی بھی تحریک لبیک معتبر ذریعے سے اکٹھی کی جا سکتی ہیں خواہ ملکی ہو یا غیر ملکی، لاہور ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ فورتھ شیڈول میں کسی تحریک لبیک فرد کو شامل کرنے سے پہلے کچھ معقول بنیادیں ہونی چاہئیں اور یقیناً معقول بنیادیں معقول شبہات کے علاوہ ہیں۔

غلام عباس کے وکیل نے درخواست میں مؤقف اپنا کہ ان کے مؤکل کا کیس تحریک لبیک انسداد دہشت گردی رکن  کی دفعہ 11- ای ای کے تحت لیے جانے اہل نہیں ہے کیونکہ ان کے خلاف ایسا کوئی مواد دستیاب نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

دوحہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں; کیا قاہرہ مذاکرات کی کوئی امید ہے؟

?️ 19 اگست 2024سچ خبریں: الاقصیٰ طوفان کی لڑائی کو تقریباً 318 دن گزر چکے

ٹرمپ کا نیتن یاہو پر دباؤ؛امریکی میڈیا کا دعویٰ

?️ 30 ستمبر 2025سچ خبریں:امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر غزہ

ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی دھمکیاں مایوسی کی وجہ سے ہیں: عطوان

?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ جو اپنی خالی کابینہ

امریکہ کا شام کے شہر عین العرب میں ایک نیا اڈہ بنا نے کا ارادہ

?️ 3 جنوری 2025سچ خبریں: امریکہ کی قیادت میں داعش مخالف کے نام سے مشہور

افغانستان میں روزانہ 20 ملین لوگ بھوکے سوتے ہیں: ورلڈ فوڈ پروگرام

?️ 15 مئی 2023سچ خبریں:افغانستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر Hsiao Wei Li نے

ٹرمپ کے ایلچی کی لبنان میں صحافیوں کی توہین پر ردعمل

?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے لبنان ٹام

امید ہے اب افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی

?️ 17 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ ٹی او آر کے برخلاف قراردیدی

?️ 11 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ ٹی او آر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے