لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کی درخواست مسترد

?️

لاہور:(سچ خبریں)  لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جاری لانگ مارچ کے خلاف فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی تاہم اس حوالے سے وزارت داخلہ، حکومت پنجاب اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو طلب کر لیا ہے۔

تاجر رہنما نعیم میر کی درخواست پر جسٹس جواد حسن سماعت کر رہے تھے، درخواست میں کاروباری سرگرمیوں کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کے پیش نظر حکومت کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے کی ہدایت کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل حافظ نعمان ظفر ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل چاہتے ہیں کہ حکومت تاجروں کے علاوہ عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے بھی بڑے پیمانے پر انتظامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ جواب دہندگان کو چاہیے کہ وہ اس درخواست کے حتمی فیصلے تک ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے مظاہروں، احتجاج یا جلوسوں کے لیے شہروں سے باہر کھلی جگہ کا بندوبست کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے موٹر ویز اور دیگر اہم سڑکوں پر داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق سوال پر وکیل نے جج کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ 2020 میں بھی ’حارث بن حسن جنگ بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان‘ کیس لاہور میں ایک سیاسی جماعت کی جانب سے نکالے گئے جلوس کے بارے میں اسی طرح کے حقائق اور حالات پر تفصیلی فیصلہ دے چکی ہے‘۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 16 کے تحت ہر سیاسی جماعت کو امن عامہ کے مفاد میں قانون کی جانب سے عائد کی گئی کسی بھی معقول پابندی کے تحت پُرامن انداز میں اور ہتھیاروں کے بغیر احتجاج کا حق ہے، فیصلے میں متعلقہ حکام کو معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

حافظ نعمان ظفر ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے ’محمد عمیس بمقابلہ کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی و دیگر‘ کیس میں آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کے حق کی بھی وضاحت کی ہے۔

جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ یہ واضح نہیں کہ کس جواب دہندہ کے خلاف ہدایت مانگی جا رہی ہے اور درخواست گزار نے کس قانون کے تحت کسی فریق کو روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

جج نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق ہے، عدالت نے نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کے احتجاجی مارچ کے خلاف درخواست میں بھی یہی مشاہدہ کیا تھا۔

درخواست کے قابل سماعت ہونے پر جج نے وفاقی وزیر داخلہ، حکومت پنجاب اور پولیس سمیت مدعا علیہان کو 14 نومبر کے لیے پیشگی داخلہ نوٹس جاری کر دیا۔

جج نے لا آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ محکموں سے ہدایات طلب کریں اور آئندہ سماعت پر کیس کے حقائق سے بخوبی واقف مدعا علیہ کے محکموں کے سینیئر افسران کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

مشہور خبریں۔

صیہونی انٹیلی جنس کی بحرینی انٹیلی جنس فورسز کو تربیت

?️ 13 جولائی 2022سچ خبریں:امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بحرین نے اپنی انٹیلی جنس

کورونا کی تشخیص اب جدید طریقے سے کی جا سکے گی

?️ 29 جون 2021ابوظبی (سچ خبریں) ابو ظبی کے حکام محکمہ صحت نے عوام کو

برطانیہ میں کورونا کی پابندیوں کا خاتمہ

?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:    خبری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ برطانوی وزیر

کورونا کے مزید 100 مریض زندگی کی بازی ہار گئے

?️ 10 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں)ملک بھر میں کورونا کا سلسلہ جاری ہے تازہ ترین

اسرائیل کا مشترکہ حکمت عملی سے ہی مقابلہ ممکن ہے۔ خواجہ آصف

?️ 21 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عید

مولانا فضل الرحمٰن کی سکھر میں میڈیا سے گفتگو

?️ 21 ستمبر 2022سکھر: (سچ خبریں) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے

ترکی کے شام پر حملے کرنے کے اغراض و مقاصد

?️ 8 جون 2022سچ خبریں:ترکی کی حالیہ کئی فوجی کارروائیوں نے ظاہر کیا ہے کہ

عوام ڈی چوک کی طرف چلتے رہیں اور علی امین کے قافلے میں شامل ہوں، عمران خان

?️ 5 اکتوبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پی ٹی آئی عمران خان  نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے