?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکیل حامد خان کے ذریعے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کو آئین کے برخلاف اور متصادم قرار دیا جائے اور ترمیم کے تناظر میں کیے گئے اقدامات کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔
آئین پاکستان کو 26ویں ترمیم سے پہلے کی صورت میں بحال کیا جائے اور درخواست کے زیر سماعت ہونے تک 26ویں آئینی ترمیم کے تحت اقدامات سے روکا جائے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی آئین کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کا اختیار ایگزیکٹو یا مقننہ کو دینے سے عدلیہ کی آزادی کا اصول شدید مجروح ہوگا۔
درخواست میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن میں غیر عدالتی ممبران کی اکثریت سے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کا عمل سیاست کی نذر ہو جائے گا۔
درخواست گزار نے کہا کہ ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا، اس سے قبل چیف جسٹس کے سنیارٹی کا اصول اس لیے رکھا گیا تھا تاکہ ججز انصاف کی فراہمی میں سینئر جج کو بائی پاس کرنے کیلئے کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔
درخواست میں کہا گیا کہ پارلیمانی خصوصی کمیٹی کی جانب سے چیف جسٹس کی نامزدگی سے انہی ججز کو آگے لایا جائے گا جو کمیٹی کے ممبران کے نظریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ یہ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی ازادی کے اصولوں کے برخلاف ہے، 26ویں آئینی ترمیم کو آئین میں شامل کرنے سے پہلے اس کی آئینی اصولوں سے مطابقت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے اصول کے برخلاف ہونے پر کالعدم قرار دیئے جانے کی مستحق ہے۔
درخواست میں وفاقی سیکرٹری قانون، سیکٹری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، صدر پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔
26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔
آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔


مشہور خبریں۔
لبنانی پارلیمانی انتخابات کے موقع پر سعد حریری پر سعودی دباؤ
?️ 8 مئی 2022سچ خبریں:لبنانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ریاض نے سعد حریری
مئی
پابندیوں نے روس کے جدید ہتھیاروں کی پیداوار روکی: نیٹو
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں: نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن نیٹو کی ملٹری کمیٹی کے
ستمبر
’اعظم خان کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ؟‘ سائفر کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی
?️ 16 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران
اپریل
الیکشن کمیشن نے عمران خان کو اہم دورہ کرنے سے روک دیا
?️ 24 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان
جنوری
ذلیل کرنے کا بہت بہت شکریہ: زلنسکی کا امریکہ سے خطاب
?️ 3 مارچ 2025 سچ خبریں:یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی نے چند روز قبل وائٹ ہاؤس
مارچ
پاکستان کے اندر آئینی اور سیاسی حقوق معطل ہیں: فواد چودھری
?️ 12 مارچ 2023لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چودھری نے
مارچ
مغربی کنارے میں صہیونیوں کے ڈرون حملے میں 3 فلسطینی شہید
?️ 22 جون 2023سچ خبریں:گزشتہ 20 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ صیہونی حکومت
جون
امریکہ کے ایک ہوٹل میں سعودی وفد اور تل ابیب وزیر جنگ کی بیک وقت موجودگی
?️ 20 مئی 2022سچ خبریں: آج جمعہ کو اطلاع ملی کہ سعودی عرب کے نائب
مئی